خبر کبھی صرف خبر نہیں ہوتی۔ وہ اکثر ایک دبیز پردہ ہوتی ہے، جس کے پیچھے طاقت کے ایوانوں میں لکھی جانے والی کوئی ان کہی داستان سانس لے رہی ہوتی ہے۔ الفاظ کبھی صرف الفاظ نہیں ہوتے، وہ نیزے بھی ہوتے ہیں اور پھول بھی، وہ روشنی بھی بکھیرتے ہیں اور اندھیرا بھی بوتے ہیں اور جب لفظ کسی طاقتور سلطنت کے قلم سے نکلیں، تو وہ اکثر سچ کے لباس میں ملبوس ایک ایسا افسانہ بن جاتے ہیں، جس کی پیشانی پر حقیقت کا جھومر سجا ہوتا ہے مگر باطن میں مفاد کی سیاہی بسی ہوتی ہے۔
یہی وہ منظرنامہ ہے جس میں واشنگٹن پوسٹ کی حالیہ رپورٹ سامنے آئی۔ ایک ایسی رپورٹ، جس نے سفارتکاری کے پڑاؤ ڈالے خاموش اور پرسکون لشکر پر شب خون مارنے کی کوشش کی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف کسی ممکنہ اقدام سے پہلے سعودی عرب اور اسرائیل سے مشاورت کی تھی۔ یہ شگوفہ بھی چھوڑا گیا کہ پس پردہ لابنگ میں طویل سائے متحرک تھے، دباؤ کے ان دیکھے ہاتھ تھے اور فیصلوں کے ان سنے سرگوشی کرتے لمحے تھے، جنہوں نے بالآخر حالیہ جنگ کے دروازے پر دستک دی۔
مگر تاریخ کا ایک اصول ہے کہ سچ کی پیشانی پر پسینہ نہیں ہوتا۔ جب سعودی عرب کے سفارتکاروں نے اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے سراب کے سینے پر حقیقت کا خنجر گھونپ دیا ہو۔ واشنگٹن میں تعینات سعودی سفارتکار نے نہایت وضاحت سے کہا کہ ان کا ملک ہمیشہ سفارتکاری کے چراغ جلانے کا خواہاں رہا ہے، جنگ کی آگ بھڑکانا ان کا شیوہ نہیں۔ یہ الفاظ صرف ایک تردید نہ تھے بلکہ سفارتی وقار کا وہ آئینہ بھی تھے جس میں جھوٹ کا چہرہ خود اپنی بدصورتی سے شرما گیا۔
مگر یہ پہلا موقع نہیں۔ اس باب میں مغربی میڈیا کا یہ چلن بہت پرانا ہے۔ اس کے اوراق پر ایسے بے شمار ابواب رقم ہیں، جہاں حقیقت کو مصلحت کی صلیب پر لٹکا دیا گیا۔ یاد کیجیے، وہ لمحہ
جب عراق کے ریگزاروں میں تباہی کے فرضی ہتھیاروں کا شور برپا کیا گیا، جب خبر کے نام پر خوف بیچا گیا، جب صحافت نے سچ کے چراغ کو بجھا کر جنگ کے الاؤ کو روشن کیا اور پھر جب گرد بیٹھ گئی تو نہ کوئی ہتھیار ملا، نہ کوئی سچ کا چراغ نظر آیا۔ صرف بربادی کے کھنڈر باقی رہ گئے اور تاریخ کے ماتھے پر ایک اور جھوٹ کا داغ ثبت ہوگیا۔
یہی وہ لمحہ تھا جب صحافت کے ماتھے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ابھرا۔ یہ سوالیہ نشان ہمالیہ تھا۔ کیا مغربی میڈیا میں خبر واقعی آزاد ہے؟ یا وہ طاقت کے ایوانوں کی کنیز بن چکی ہے؟ کیا قلم اب بھی سچ کا امین ہے؟ یا وہ استعمار کے مفادات کا ترجمان بن چکا ہے؟۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے خطے میں مفاہمت کے چراغ جلانے کی کوشش کی، جب عراق کی سرزمین پر خاموش سفارتی پل تعمیر ہوئے اور جب یمن کے زخموں پر مرہم رکھنے کی تدبیریں ہوئیں، تب بھی کچھ آنکھیں ایسی تھیں جو اس روشنی کو برداشت نہ کر سکیں۔ کیونکہ اتحاد ہمیشہ ان قوتوں کے لیے خطرہ ہوتا ہے، جن کی طاقت تفرقے کی بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے۔
مغربی میڈیا کی حکمت عملی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ وہ خبر کے ذریعے بیانیہ تشکیل دیتا ہے۔ایک ایسا بیانیہ جو عوام کے ذہنوں میں شک کے بیج بوتا ہے۔ جب پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کی نئی شاہراہ بنی، تب بھی افواہوں کا ایک طوفان کھڑا کیا گیا۔ اس تعاون کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی اور عوام کے ذہنوں میں خدشات پیدا کیے گئے۔ کیونکہ اتحاد ہمیشہ طاقت کو جنم دیتا ہے اور طاقت ہمیشہ ان قوتوں کے لیے خطرہ ہوتی ہے، جو کمزور قوموں کے وسائل پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتی ہیں۔
یہ کھیل صدیوں پرانا ہے۔ کبھی برطانیہ نے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی اپنائی۔ اس نے قوموں کے درمیان نفرت کے بیج بوئے اور پھر ان نفرتوں کی فصل کاٹ کر اپنی سلطنت کو مضبوط کیا۔ آج وہی فلسفہ نئے ناموں اور نئے طریقوں کے ساتھ زندہ ہے۔ اب توپوں کی جگہ خبر نے لے لی ہے اور بارود کی جگہ الفاظ شعلے اگلتے ہیں۔
خبر اب بھی جنگ کا ہتھیار ہے، مگر یہ جنگ سرحدوں پر نہیں، ذہنوں میں لڑی جاتی ہے۔ اب یہ جنگ گولیوں سے نہیں، بیانیوں سے لڑی جاتی ہے۔ اس جنگ کا مقصد زمین پر قبضہ نہیں، بلکہ شعور پر قبضہ جمانا ہوتا ہے۔
مسلم دنیا کے لیے یہ لمحہ بیداری کا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب اسے خبر اور حقیقت کے درمیان فرق کو پہچاننا ہوگا۔ اسے سمجھنا ہوگا کہ ہر خبر سچ نہیں ہوتی اور ہر بیانیہ حقیقت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات خبر محض ایک سراب ہوتی ہے جو دور سے آبی ذخیرہ معلوم ہوتی ہے مگر قریب جا کر ریت کا ٹیلا ثابت ہوتی ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم دنیا اپنی آواز خود بنے، اپنے بیانیے خود تشکیل دے اور اپنی حقیقت کو دوسروں کے قلم کا محتاج نہ ہونے دے کیونکہ جو قومیں اپنی کہانی دوسروں کے حوالے کر دیتی ہیں، وہ اصل مضمون سے نکل کر بس تاریخ کے حاشیوں پر رہ جاتی ہیں۔
وقت کا پہیہ گھوم رہا ہے، دنیا بدل رہی ہے اور طاقت کے توازن تبدیل ہو رہے ہیں۔ ایسے میں خبر کی جنگ پہلے سے زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جس میں فتح صرف اسی قوم کی ہوتی ہے جو سچ کو پہچانتی ہے اور جھوٹ کے پردوں کو چاک کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔
مسلم دنیا کی اصل طاقت اس کے وسائل میں نہیں، اس کے اتحاد میں ہے۔ اس کی اصل قوت اس کی زمین میں نہیں، اس کے شعور میں ہے۔ اگر یہ شعور بیدار رہا اور اگر یہ اتحاد قائم رہا، تو کوئی خبر، کوئی افسانہ اور کوئی پروپیگنڈا اِسے تقسیم نہیں کر سکے گا۔
یاد رکھیں! یہ تاریخ کا اٹل اصول ہے کہ سچ کو دبایا تو جا سکتا ہے مگر شکست نہیں دی جا سکتی، سچ کو چھپایا تو جا سکتا ہے مگر مٹایا نہیں جا سکتا۔ کیونکہ سچ سورج کی طرح ہوتا ہے۔ وہ دیر سے سہی، مگر طلوع ضرور ہوتا ہے اور جب سچ کا سورج طلوع ہوتا ہے تو اندھیروں کی تمام سلطنتیں اپنے ہی سائے سے خوفزدہ ہو جاتی ہیں۔
پراپیگنڈا کی شاخ پر پھوٹتی سازشیں
09:09 AM, 4 Mar, 2026