مشرقِ وسطیٰ، صہیونیت اور امریکی سامراج کی تباہی

09:08 AM, 4 Mar, 2026

بالآخر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا، مشرق وسطیٰ میں آتشِ جنگ اپنی تمام حشر سامانیوں کے ساتھ مجسم صورت میں سب کے سامنے ہے۔ تباہی چار کھونٹ پھیلتی نظر آرہی ہے ۔ صہونیت اور امریکہ کے گٹھ جوڑ نے جو چال چلی ہے وہ ایران سمیت نہ صرف خلیجی ممالک کے لیے تباہی کا پیش خیمہ بن رہی ہے بلکہ اس کی حدت و شدت افغانستان کی جانب سے پاکستان پر حملے کی شکل اورپاکستان ایران سرحد کے قریب اسرائیلی اور امریکی جہازوں کی سرجیکل سٹرائیکس اور کارروائیوں کی شکل میں محسوس کی جارہی ہے۔ اپنے رہبر آیت اللہ علی خامنائی اور قیادت کی اہم شخصیات کی امریکہ اور اسرائیلی مشترکہ حملے میں شہادت پر ایران کے سخت ردِعمل نہ دنیا کو چونکا کر رکھ دیا ہے ۔اگر ایسی اُمید کی بھی جارہی تھی تو کسی یقین نہیں تھا کہ ایران ایسا کرنے کی صلاحیت اور قابلیت رکھتا ہے ۔حیرت انگیز طور پر امریکہ اور صہونیت کے اب تک کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔اسرائیل اور امریکہ کے خلاف مشرق وسطیٰ اور خود اسرائیل کے اندر ایرانی پاسداروں نے جو منظم ، تباہ کن اور ٹھوس کارروائیاںکی ہیں اس نے نہ صرف واشنگٹن اور تل ابیب بلکہ پوری دُنیا کو انگشت بدنداں کر کے رکھ دیا ہے۔ سعودی عرب، قطر، متحدہ امارات، بحرین اور کویت میں موجود 30کے لگ بھگ امریکی فوجی اڈوں اور ابراہیم لنکن پر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز جو تباہی پھیلائی ہے انہوں نے دنیا کی سپر پاور امریکہ کو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ۔کویت میں گرنے والے متعدد امریکی جنگی جہازوںنے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ صاف محسوس ہورہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنی تمام تر وار مشینری اور فوجی طاقت کے ساتھ کامیابی کی بجائے شکست کے راستے پر گامزن ہیں۔
اس سے جہاں امریکہ کا رعب ،دبدبہ اور ناقابل تسخیر اور ناقابل شکست فوجی طاقت ہونے کا زعم زمین بوس ہوچکا ہے وہاں اسرائیل بھی غزہ کی 
مانند تباہ ہوتا نظر آرہا ہے ۔ انسانیت کے قاتل اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر اور رہائش گاہ کو ایرانی میزائلوںنے جس انداز میں ملبے کا ڈھیر بنایا ہے اس پر دُنیا بھر میں انسانیت کے حامیوںمیں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے جو اس سے قبل غزہ میںاسرائیلی حملوں میں پھول جیسے معصوم بچوں، عورتوں اور رہائشیوں کے جسموں کے چیتھڑے اُڑتے ہوئے دیکھ چکے ہیں ۔ امریکہ نے ایران میں قیادت کی تبدیلی کیا کرنی تھی ایرانی قیادت کی شہادت نے ایرانی قوم کو پہلے سے زیادہ متحد کردیا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خواہش کے مطابق واشنگٹن ہنوز ایران میں اپنی مرضی کی حکومت انسٹال کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتا ہے ۔اس سے خود عرب ممالک بھی جنہوں نے قبل ازیں اپنی حفاظت کے لیے امریکہ کو فوجی اڈے دے رکھے ہیں مختلف خدشات کا شکار ہوچکے ہیں 
بعض مغربی صحافی اپنی حالیہ تحریوں اور بیانا ت میں یہ واضح کرچکے ہیں امریکہ اور اسرائیل خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب میں بم دھماکوں اور دہشت گردی کی کارروائیوں کا ایک ایسا ہولناک سلسلہ بھی شروع کرانا چاہتا ہے جس سے ان ممالک میں نہ صرف بڑے پیمانے پر بڑی تباہی پھیلے بلکہ اسکا الزام ایران پر لگا کر ان ممالک کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل کیا جا سکے۔ اس کا واضح ثبوت سعودی عرب کی ایک آئل ریفائنری پر حملہ ہے جس کی ذمہ داری قبول کرنے سے ایران نے صاف طور پرانکار کر دیا ہے ۔ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈوں کو تیزی سے خالی کر رہا ہے اور ان اڈوں پر ہونے والے حملوں نے بھی سعودی عرب ، کویت ، اردن، متحدہ امارات ، قطر ، عراق اوربحرین کی قیادت کو تشویش میں مبتلا کر کے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں کہ وہ مستقبل قریب میں ایران کے خلاف کسی مشترکہ فوجی کارروائی میں شامل ہوسکتے ہیں۔اگر ایسا ہوا تو یہ واشنگٹن اور تل ابیب کی عین خواہشات کے مطابق ہوگا جو گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے مشرق وسطیٰ کی مکمل تباہی چاہتے ہیں۔ ایران کے حوالے سے امریکہ اور صہیونی ریاست اسرائیل کی پالیسی اورفوجی کارروائیوں کے خاطر خواہ نتائج حاصل نہ ہونے کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر اندرونی دبائو بڑھ رہا ہے ۔ ایسے میں ایران کی جانب سے ایرانی حملے میں نیتن یاہو کی موت کا دعویٰ بھی کیا جارہا ہے ۔ایسی صورت حال میں امریکہ نے اپنی شہریوں کو فوری طور پر مشرقِ وسطیٰ کو چھوڑنے کی ہدایت کی ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے اگلے فیز میں ایران کے اندر فوج بھیجنے کا اشارے بھی مل رہے ہیں ۔ تاہم یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ یہ حکمت عملی تب تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک عرب ممالک میں اس میں عملی طور پر شرکت نہ کریں۔
 ایران ایک بڑا ملک ہے جہاں حملے کے لیے ایک بہت بڑی زمینی فورس کی ضرورت ہو گی۔ امریکہ وزیر دفا ع مائیکو روبیو نے جس بڑی کارروائی کا عندیہ دے رہا ہے کہ ایران کے خلاف اس بار کوئی بڑی کارروائی کی جائے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ کوئی ایسا اسلحہ استعمال کرنے جا رہا ہے جو اپنی شدت و حدت میں اب تک استعمال کیے گئے امریکی و اسرائیلی اسلحے سے کہیں بڑھ کر ہو گا۔ کیا کوئی مختلف قسم اور نوعیت کا بم جس کی تباہ کاریاں پہلے سے کہیں زیادہ ہونگی۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو کیا روس چین اور پاکستان سمیت مختلف ممالک امریکہ کو ایسا کرنے کی اجازت دینگے کیونکہ اس کے مہلک اور تباہ کن اثرات ان تک بھی پہنچیں گے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ طول پکڑتے نظر آ رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بھی کہہ دیا ہے کہ ایران پر اس لیے جنگ مسلط کی گئی کیونکہ اس کے اثرات کو پاکستان تک لانا ہے ایسا کرنا اسرائیل اور بھارت کا مشترکہ ایجنڈا ہوسکتا ہے پاکستانی قوم کو اس کو سمجھنا چاہیے۔

مزیدخبریں