انسان کو اس قریہِ حیات میں جینے کے لیے جہاں پانی، ہوا اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں اپنے قیام کو جواز دینے کے لیے کسی نظریہِ حیات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ نظریہ ہائے حیات بہت زیادہ نہیں … فقط دو ہیں۔ ایک کا نام دین ہے اور دوسرے کا نام دنیا۔ ایک طرزِ حیات روحانی ہے اور دوسری مادّی! ایک طرزِ فکر پیغمرانہ ہے اور دوسرا کافرانہ! ہر انسان نے انہی دو نظریہِ حیات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے … درمیان میں دُوئی ہے … جسے سیدھی زبان میں منافقت کہتے ہیں۔ کچھ دن اِدھر اور کچھ دن اُدھر بسر کرنے کی خواہش نفاق کے سوا کچھ اور نہیں۔ بقول مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ، دونوں طرف مقبول ہونے کی تمنّا منافقت کہلاتی ہے۔
اہل ِ نفاق کا ٹھکانہ اہلِ ایمان کے ہاں تو قطعاً نہیں ہوتا … البتہ اہلِ کفر اہلِ نفاق کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں … کیونکہ انہی میں سے انہیں غدارانِ وطن، غدارانِ دین میسر آتے ہیں۔ وطن فروشی اور دین فروشی کا ہنر اِن ہی کے پاس ہوتا ہے۔ دین بیچ کر دنیا کمانے میں یہ طاق ہوتے ہیں۔ ہدایت کے بدلے گمراہی کا سودا کرنے میں یہ ذرا بھی دیر نہیں کرتے۔
مومن سچا اور کھرا ہوتا ہے … خواہ اسے کوئی بھی مرحلہ درپیش ہو … جان سے گذرنے کا مرحلہ ہی کیوں نہ ہو … یہ اپنے نظریہِ حیات پر کوئی سودا نہیں کرتا۔ نظریہ حیات اس کے لیے آبِ حیات ہے … اس آبِ حیات کے نتیجے میں ملنے والی حیاتِ طیّبہ اس کے لیے حیاتِ جاوداں ہوتی ہے۔ یہ حیاتِ جاودانی کی ابدی شادمانی چھوڑ کر عارضی خوشیوں کا سودا نہیں کرتا۔ اس قیمتی نظریہِ حیات پر یقین ایسے ہی نہیں آ جاتا ہے … یقین کی دولت اسے بیٹھے بٹھائے نہیں ملتی ہے … بلکہ حصولِ دولتِ یقین کے لیے اسے کسی صاحبِ یقین کو تلاش کرنا ہوتا ہے۔ اسے کسی ایسے صاحب سے لَو لگانا ہوتی ہے جو خود حیاتِ جاوداں کا حامل ہو۔ جس کی نظر میں کوئی انسان کامل نہ ہو، وہ یقینِ کامل سے
محروم ہوتا ہے۔ جس کی نگاہ میں کوئی بھی انسان حیاتِ جاودانی سے متصف نہ ہو، اُس کا شعور کسی تصورِ جاودانی سے متمسک نہیں ہوتا۔
پیغمبرانہ طرزِ فکر متصف ہے پاکیزگی سے، پاک دامنی سے، اخلاق اور اخلاص سے، احسان اور ایثار سے، اخلاق اور اصول کو طاقت پر ترجیح دینے سے … جبکہ کافرانہ طرزِ فکر ملوّث ہے لذتِ وجود اور ہوسِ زر سے، طاقت کا اصول پر ترجیح دینے سے، برہنہ جسم اور برہنہ طاقت کے کھلم کھلا اظہار سے۔ پیغمبرانہ طرزِ فکر میں الہامی ہدایت کو منبعِ ہدایت تصور کیا جاتا ہے اور کافرانہ طرزِ فکر الہامی ہدایت کا سرے سے انکار کرتا ہے۔ بلکہ الہامی ہدایت کے مقابلے اپنی عقل اور خواہشِ نفس کو فائق قرار دیتا ہے۔ الہامی ہدایت کی تفہیم کے لیے انسانی عقل ناکافی ہوتی ہے، کیونکہ یہ خواہشِ نفس کے مطابق تاویل گھڑ لیتی ہے۔ یہاں محفوظ راستہ کسی اولی الامر، کسی راہنما سے ہدایت وصول کرنے کا طریق ہوتا ہے۔ جو اپنی عقل کو کسی صاحبِ دل کے تابع کرنے اور اپنے دل کو کسی ذی عقل کے حوالے کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے، وہی وہبی ہدایت سے کماحقہ فیض یاب ہوتا ہے۔ دراصل عقل، غیاب و جستجو اور عشق، حضور و اضطراب … دونوں شعبے ہدایت کے طالب ہوتے ہیں … اور اس باب میں ہادی مرسلؐ کی نگاہِ ناز سے مراد پانے کی آرزو میں ہوتے ہیں۔
حق اور باطل کی پہچان اگرچہ دشوار ہے، لیکن اُن کے لیے نہیں جو طلبِ حق میں سچے ہیں۔ جوئندہ یا بندہ … جو ڈھونڈتا ہے، وہ پا لیتا ہے … اِس کائناتی اصول کا اطلاق طالبِ حق پر سب سے پہلے ہوتا ہے۔ حق کے امین باب العلم سیّدنا علی المرتضیٰؓ کا ایک قولِ زریں ہے: اگر تمہیں حق کا تعین کرنے میں دقت پیش آ رہی ہو تو یہ دیکھو کہ باطل کے تیروں کا رخ کس طرف ہے۔ حق کی تعریف اور تعارف میں ایک مستند حدیث یوں بھی رقم ہے: الحق مع العلی اور علی مع الحق … ’’حق علیؓ کے ساتھ ہے اور علیؓ حق کے ساتھ ہے‘‘۔ ایک قولِ حکمت ہے: الکفر ملۃ و احدہ … تمام کفر ایک قوم ہیں۔ گویا اہلِ ایمان ڈھونڈنے ہوں تو بس یہ دیکھ لینا چاہیے کہ اہلِ کفر نے کہاں نشانہ باندھ رکھا ہے۔ تاریخ گواہ ہے، دین دشمنی میں اشد ترین قوم اہلِ یہود ہیں۔ حق خیبر شکن ہوتا ہے۔ اہل ِ یہود صدیوں سے جانتے ہیں۔ وہ آج بھی کوئی جلوس نکالتے ہیں تو ان کے ہاتھوں میں بینر ہوتا ہے: Khyber was your last chance (خیبر تمہارا آخری وار تھا) … یہ نعرہ اُن کے صدیوں پرانے جلاپے کو ظاہر کرتا ہے۔ تعجب نہیں کہ ان کے گریٹر اسرائیل کے نقشے میں ارضِ خیبر شامل ہے۔ جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے۔ کلمہ گو بھولا ہے، تاریخ کا سبق بھلا بیٹھا ہے۔ زندگی کو جدید کرنے کے چکر میں خود کو اہلِ یہود کے ہاتھوں گروی رکھ چکا ہے۔ قرآن کا فیصلہ ہے کہ یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔ امن عالم کے گیت گانے والے اس آیت کے ترجمے پر معترض ہوتے ہیں۔ در آن حالے کہ یہ آیت ایک فطری قانون بیان کرتی ہے۔ قانونِ فطرت ہے کہ ’’جنس باہم جنس پرواز‘‘۔ انسانوں کی دنیا میں سب سے بڑی قدرِ مشترک اُن کے نظریہِ حیات کا اشتراک ہے۔ نسلی، لسانی اور جغرافیائی اشتراک، نظریاتی اشتراک کے سامنے ڈھیر ہو جاتا ہے۔ حدیث پاک ہے: انسان اپنے دوست کے مذہب ہوتا ہے، پس دیکھو کہ کون تمہارا دوست بن رہا ہے۔ اہلِ ایمان کو بغور دیکھنا چاہیے کہ وہ کس قوم کو اپنا دوست بنا رہے ہیں۔ قرآن میں درج ہے کہ بروزِ حشر سب لوگ اپنے اماموں کے ساتھ بلائے جائیں گے۔ خیال کرنا چاہیے کہ ہم جس طرزِ فکر پر زندگی استوار کر رہے ہیں، اس فکر کا امام کون ہے؟ بقول مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کہیں ایسا تو نہیں کہ ’’ہم زندگی فرعون کی چاہتے ہیں اور عاقبت موسیٰؑ کی‘‘۔ دولت کی فراوانی، طاقت کی حکمرانی اور کمزوروں کا استحصال، لذات ِ کام و دہن کا حصول اگر ہمارا طرزِ حیات ہے تو ہم کس منہ سے انبیاء علیہ السلام کے جھنڈے کے نیچے جگہ پائیں گے۔ جن کا منشور فقر، درویشی، تزکیہ نفس اخلاق، اصول اور دینی اقدار کی سربلندی ہے۔ زبان پر اسلام اور وجود پر کفر … یہی ہمارے خلاف فردِ جرم ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس وقت اہلِ ایمان کے ساتھ کھڑے ہیں یا اہلِ کفر کے ساتھ؟ … درمیانی راستہ منافقت کا ہے…!
حق لاشریک ہے
09:08 AM, 4 Mar, 2026