24نومبر: پی ٹی آئی کے احتجاج کے سیاسی و معاشی اثرات

09:13 PM, 4 Mar, 2025

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 24 نومبر 2024 کو اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد عمران خان کی رہائی اور 26 ویں ترمیم کے خاتمے جیسے اہم سیاسی امور پر آواز بلند کرنا تھا۔ پی ٹی آئی نے اپنے احتجاجی منصوبے میں اسلام آباد کے چاروں اطراف سے احتجاج کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

مقامی انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، یہ احتجاج پاکستان کی معیشت کے لیے ایک خطرناک قدم ثابت ہوا۔ 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کے دوران سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور مظاہرین نے عمران خان کی رہائی کے حق میں نعرے لگائے۔ احتجاج کی شدت اور اس کے پیچھے کی سیاسی چالبازیوں کا مقصد عوامی حمایت حاصل کرنا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کے عالمی میڈیا کے ساتھ گہرے روابط ہیں اور ان کی سیاسی حکمت عملی کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جاتا ہے۔ یہ احتجاج ایک سیاسی چیلنج بن چکا تھا، جس میں عوام کو جذباتی طور پر متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ عالمی گورننس کے ماہر ڈاکٹر الیگزینڈرا کالڈویل نے 6 جنوری کے امریکی کیپٹل ہل واقعات اور 24 نومبر کے پی ٹی آئی کے احتجاج میں مماثلتیں نکالیں، اور کہا کہ پاکستان میں سیاسی بدامنی کا اثر اقتصادی، سفارتی اور گورننس کے مسائل پر پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کی معیشت پر اس احتجاج کے اثرات فوری طور پر نظر آئے۔ سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق، سیاسی بے چینی اور غیر یقینی صورتحال معیشت پر منفی اثرات ڈال رہی ہے۔ اگرچہ اقتصادی اشاریے کچھ بہتری دکھا رہے تھے، مگر ملک کی معیشت ساختی رکاوٹوں کا سامنا کر رہی تھی۔ اسی طرح، پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے، چین کے وفود نے پاکستان کے دوروں میں کمی کی اور سرمایہ کاری کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔

خیبرپختونخوا کی حکومت نے احتجاج کو برقرار رکھنے کے لیے عوامی وسائل کا غلط استعمال کیا، جس میں سرکاری مشینری جیسے کرینیں اور فائر ٹینڈرز کا استعمال کیا گیا۔ اس کا نتیجہ عوامی خزانے کی بربادی اور عوامی اعتماد میں کمی کی صورت میں نکلا۔

اسلام آباد میں سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران انٹرنیٹ کی معطلی اور اس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں شدید گراوٹ نے سرمایہ کاروں میں بے چینی پیدا کر دی۔ یہ منظر ملک کے سیاسی عدم استحکام کے عالمی اثرات کا غماز تھا اور معیشت پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو رہے تھے۔

احتجاج کے دوران ہونے والی پرتشدد جھڑپوں اور سیاسی بدامنی نے ملک کے خودمختار ڈالر کے بانڈز کی قیمتوں کو نیچے کی طرف دھکیل دیا، جو کہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اگر سیاسی بے چینی اور احتجاج کا یہ سلسلہ فوری طور پر روکا نہ گیا تو یہ ملکی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

پاکستان کی معیشت کے مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی عدم استحکام کو کم کیا جائے اور ملک میں پائیدار ترقی کے لیے سازگار حالات پیدا کیے جائیں۔

مزیدخبریں