طلباء کے لیے آرٹیفشل انٹیلی جنس (AI) کابڑھتا ہوا استعمال اور اس کے خطرات

09:05 PM, 4 Mar, 2025

یہ بلاگ طلباء کے لیے آرٹیفشل انٹیلی جنس (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے خطرات پر روشنی ڈالتا ہے۔ مضمون میں ایک طالبہ کا ذکر کیا گیا ہے جس نے ایک مضمون لکھنے کے لیے AI کا استعمال کیا، اور جب ٹیچر نے اس کی تحریر پر شک ظاہر کیا تو طالبہ نے AI کے ذریعے تیار کردہ مواد میں تبدیلی کی کوشش کی تاکہ اس میں انسانی سوچ کا تاثر آئے۔ یہ مثال ہمیں بتاتی ہے کہ AI پر مکمل انحصار طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں اور سوچنے کی صلاحیتوں کو کم کر سکتا ہے۔

یونیسکو نے اس حوالے سے عالمی سطح پر ایک ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ تعلیمی اداروں میں AI کا استعمال اخلاقی طریقے سے ہو اور طلباء کی سیکھنے کی صلاحیت متاثر نہ ہو۔ ادارہ چاہتا ہے کہ اساتذہ کو اس ٹیکنالوجی کے صحیح استعمال کے لیے تربیت دی جائے اور ایک مضبوط ضابطہ بنایا جائے تاکہ طلباء کا ذہنی ارتقاء متاثر نہ ہو۔

یونیسکو نے AI کے استعمال کے حوالے سے 13 سال اور اس سے زائد عمر کے بچوں کے لیے اخلاقی اصول وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس کے مطابق، تعلیمی اداروں میں AI کے استعمال سے پہلے پرائیویسی، ڈیٹا کے تحفظ اور اخلاقی پہلوؤں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی سوچے سمجھے طریقے سے استعمال نہ کی جائے تو اس کے منفی نتائج ہو سکتے ہیں۔

AI نے دنیا بھر میں تعلیم اور تحقیق کے میدان میں اہم تبدیلیاں لائی ہیں، اور اس کا استعمال بہت سے شعبوں میں فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔ تاہم، اس کے استعمال کے لیے ضوابط کا فقدان ایک سنگین مسئلہ ہے، جیسا کہ یونیسکو کی حالیہ تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں AI کے استعمال کے بارے میں واضح پالیسیاں نہیں بنائی گئیں۔

مجموعی طور پر، یہ بلاگ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ اگر طلباء AI پر انحصار کرنے لگیں گے تو ان کی تخلیقی صلاحیتیں اور سوچنے کی مہارت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے اور حکومتیں اس ٹیکنالوجی کو اخلاقی اور ذمہ دارانہ طریقے سے استعمال کرنے کے لیے مناسب قوانین وضع کریں۔

مزیدخبریں