پاکستان: 'نشئیوں' کی جنت

08:44 PM, 4 Mar, 2025

پاکستان ایک اسلامی ملک ہونے کے باوجود ہر قسم کے نشے کی با آسانی دستیابی اور سستے داموں فراہمی میں کئی غیر مسلم ممالک سے بھی آگے ہے۔ جہاں دوسری نشہ آور اشیاء کا ذکر کرنا ضروری نہیں، وہاں پاکستان میں سگریٹ کی قیمت بھی دیگر ممالک کی نسبت انتہائی کم ہے۔ اگر ہم ہمسایہ ملک بھارت سے موازنہ کریں، تو وہاں سگریٹ پینے والوں کی تعداد پاکستان کے برابر ہے، لیکن بھارت ہم سے چھ گنا زیادہ سگریٹ پر ٹیکس سے ریونیو حاصل کر رہا ہے۔

پاکستان میں ہر سال تقریباً دو لاکھ سے زائد افراد سگریٹ نوشی کے سبب مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان افراد کے علاج پر اٹھنے والے اخراجات قومی خزانے پر اضافی بوجھ بن جاتے ہیں۔

پاکستان میں سگریٹ پر حالیہ ٹیکس اضافے کو تعلیمی محققین اور پیشہ ور افراد کے نیٹ ورک کیپٹل کالنگ نے سراہا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی حکومت نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھا دی تھی، جس کے بعد ملک میں سگریٹ برانڈز کی قیمتوں میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوگیا ہے۔ تحقیق کے مطابق پاکستانی تمباکو نوشی کرنے والوں کی ادائیگی کے لیے زیادہ سے زیادہ رضامندی (MWTP) فی سگریٹ اسٹک 35.80 روپے ہے، جو کہ بیس سگریٹ کے پیکٹ کے لیے 716 روپے کے برابر ہے۔ یہ قیمت پاکستان میں موجود سگریٹ برانڈز کے مقابلے میں بہت کم ہے، جو 716 روپے یا اس سے زیادہ میں فروخت ہو رہے ہیں۔

تمباکو سے ہونے والے نقصانات

ایک رپورٹ کے مطابق، جنوبی ایشیا کی 220 ملین کی آبادی تمباکو سے متعلق بیماریوں پر سالانہ 615 ارب روپے خرچ کر رہی ہے، جبکہ تمباکو نوشی کی وجہ سے ہر سال 160,000 سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ عالمی شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس ایک بہت ہی موثر پالیسی ہے جو تمباکو کے استعمال کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ یہ ٹیکس تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ممکنہ صارفین کو تمباکو نوشی اختیار کرنے سے روکتا ہے اور موجودہ تمباکو کے صارفین کو اس عادت سے چھٹکارا دلانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کا کہنا ہے کہ جتنا زیادہ ٹیکس لگایا جائے گا اور قیمت زیادہ کی جائے گی، اتنا ہی سگریٹ کے استعمال میں کمی آئے گی، اور دوسری جانب حکومت کو مالی فائدہ بھی ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ تمباکو انڈسٹری کی جڑیں ہمارے نظام میں بہت گہری ہیں، اور اسی وجہ سے ماضی میں ایسی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا گیا۔ ان کے مطابق، ابھی سگریٹ پر مزید ٹیکس لگانے کی گنجائش موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اس ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن کو صحت کے شعبے پر خرچ کرنا بھی ضروری ہے۔

مزیدخبریں