فروری عمران خان کیلئے سیاسی مصائب، آزمائشوں اور امتحان کا مہینہ

07:40 PM, 4 Mar, 2025

فاروق اقدس

نئے سال کے دوسرے مہینے کا آغاز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے لیے سیاسی مصائب، آزمائشوں اور امتحان سے بھرپور ثابت ہو رہا ہے۔ کیا یہ وقت ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے وہ دور ہے، جس میں مخالفین ان کے بارے میں جو دعوے، پیش گوئیاں کرتے ہیں اور ان کے رفقاء جن خدشات کا اظہار کرتے ہیں، وہ حقیقت کا روپ دھارنے جا رہے ہیں؟

سیاسی حلقوں میں یہ سوچ بے وجہ نہیں پھیل رہی بلکہ اس کا ایک منطقی اور قابل فہم پس منظر بھی ہے، جس میں خاص طور پر ان کے خلاف عدالتوں میں دائر کچھ اہم مقدمات اور ریفرنسز شامل ہیں جن کے فیصلوں کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ کل ہی توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی ایک عدالت نے عمران خان کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا تھا، تاہم وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

عدالتی احکامات کو نظرانداز کرنے اور عمل درآمد میں لیت و لعل کرنے پر، الیکشن کمیشن کے وکیل کی استدعا پر عدالت نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری تو جاری نہیں کیے، مگر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 7 فروری کی تاریخ مقرر کر دی۔ اسی طرح ممنوعہ فنڈنگ کیس میں وہ عبوری ضمانت پر ہیں، اگرچہ ضمانت میں کچھ دن کی توسیع کر دی گئی ہے، مگر جج نے ریمارکس دیے کہ اگر عمران خان 10 فروری کو عدالت میں پیش نہ ہوئے یا کوئی نئی درخواست نہ کی گئی، تو ان کی ضمانت ختم کر دی جائے گی۔

ان عدالتی فیصلوں کے بعد، عمران خان کی گرفتاری اور نااہلی کے حوالے سے قیاس آرائیاں اور امکانات زیر بحث رہے۔ دوسری طرف ایسی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ عمران خان، جو ایک حادثہ کے بعد لاہور میں اپنے گھر زمان پارک منتقل ہو گئے تھے، اب بنی گالہ واپس منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مزیدخبریں