مصر کے بادشاہ نے خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر کیلئے وہ حضرت یوسف علیہ السَّلام کے پاس گئے تو انہوں نے بتایا کہ 7سال تک ملک میں بہت خوشحالی ہو گی فصلیں بڑی اچھی ہونگی اس کے بعد 7 سال ایسے آئیں گے کہ خشک سالی آئے گی قحط پڑے گا اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے پھر تدابیر کی گئی تھیں اور وہ تدبیر یہ تھی کہ 7 سال تک زیادہ کاشت کی گئی گندم کو محفوظ کیا گیا تاکہ آنے والے قحط کے عرصہ میں استعمال کیا جا ئے عوام کو بھوک سے بچایا جا سکے، جانوروں کو محفوظ رکھا جا سکے اور ایسا ہی ہوا حکمت عملی سے مشکل وقت کے وہ 7 سال بڑی آسانی اور خوشی سے نکل گئے یعنی قدرتی آفات کا سامنا حکمت عملی سے کیا جائے تو محفوظ رہا جا سکتا ہے آج سیلاب اور دیگر تباہیوں کو قدرتی آفات کہہ کر ہاتھ کھڑے کر دئیے جاتے ہیں لیکن اگر حکمت عملی بنا لی جائے تو مشکل وقت بھی آسانی سے گزر جاتا ہے کیونکہ سالہا سال سے سن رہے ہیں کہ کلائمنٹ چینجز ہو رہی ہیں لیکن اس کیلئے کوئی تدبیر کوئی انتظامات نہیں کیے گئے ان حالات سے نمٹنے کا حل اللہ نے ہمیں فراہم کر رکھا ہے اور ہم نے ہی اس کی تدبیر کرنی ہے،سورۃ یوسف نہ صرف روحانی رہنمائی فراہم کرتی ہے بلکہ یہ زندگی کی مشکلات اور آزمائشوں کا حل بھی پیش کرتی ہے حضرت یوسف عَلَیہ السَّلام کی زندگی کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکلات کا سامنا کرتے وقت اللہ پر بھروسہ کرنا اور صبر سے کام لینا کامیابی کی کنجی ہے اس سورۃکے ذریعے انسان اپنی مشکلات کا حل اللہ کے حکم میں تلاش کرتا ہے اور اپنی زندگی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمت پیدا کرتا ہے،لیکن افسوس ہم نے قرآن پڑھا لیکن سمجھا نہیں اسی لئے آج مختلف مسائل کا شکار ہیں مشکلات ہم نے خود پید ا کی ہیں کیونکہ اللہ کریم قرآن میں فرماتا ہے کہ کسی بندے کو مشکل میں نہیں ڈالتا جو مشکلات آتی ہیں وہ بندے کی اپنی پیدا کردہ ہیں،پاکستان میں سیلاب آئے پرانی بات ہو گئی لیکن ہم اب بھی ہر ملکی اور غیر ملکی فورم پرسیلاب سے تباہی کا رونا روتے ہیں حالانکہ آئندہ اس آفت سے بچاؤ کیلئے تدبیر کرنے کی ضرورت تھی جو ہم نے نہیں کی،کیونکہ ہم کرپشن کی دلدل میں گوڈے گوڈے پھنس چکے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ زرعی ملک ہے اور اجناس وغیرہ باہر سے منگواتے ہیں پہلے گندم کا ٹارگٹ مقرر کرتے ہیں پھر اس ٹارگٹ کے پورا ہونے پرڈھول ڈھمکا کرتے ہیں پھر گندم کو دوسرے ملکوں کو بیچتے ہیں اس میں کمیشن لیتے ہیں،پھر ملک میں گندم کی کمی کارونا رو کر باہر سے منگواتے ہیں اور اس میں بھی ٹوکا مارتے ہیں یعنی آؤتے کیہہ لے کے آؤ گے جاؤ گے تے کیہہ دے کے جاؤ گے کے مصداق لوٹ مار دونوں طرف سے ہی کرنی ہے اور کر رہے ہیں،اب آجائیں غریب ملک کی امیر بیورورکریسی کی طرف جس نے ملک کو سیاستدانوں سے بھی زیادہ لوٹا ہے تین چا رمنصوبے بنا کر وزیر موصوف کے سامنے رکھ دیتے ہیں جو بھی اوکے ہو گا اس میں فائدہ بیوروکریسی کا ہی ہے محسن نقوی جب نگران وزیراعلیٰ پنجاب تھے نے نہرپر جتنے انڈر پاس تھے پر لگی ٹائل کو تڑوا کراسے نئی شکل دیدی یہ ٹائلیں عرصہ سے لگی تھیں جس سے اوپر والوں نے جان چھڑانے کا پروگرام بنا لیا اس میں کامیاب بھی رہے انڈر پاسز پر اب ٹیپا ٹاپی کر کے لائٹس لگا دی ہیں اور ان کی رکھوالی کیلئے ایک چوکیدار بٹھا دیا ہے جبکہ پہلے کسی چور ڈاکوکا کوئی ڈر نہ تھا دو چار ٹوٹی ٹائلیں ٹھیک نہ کی گئیں پورے کے پورے انڈر پاس توڑڈالے اب مرمت کے نام پرکاغذکالے کیے جائیں گے؟ نہ جانے کون سی گیڈر سنگھی ہے شاہ جی کے پاس جہاں جاتے ہیں خود کو طاقتور ظاہر کرکے دھاک بٹھا لیتے ہیں ایسے لگتا ہے پاکستان میں کوئی بندہ ہی کام کا نہیں ہے اب کرکٹ کا بیڑا غرق کر رہے ہیں وزار ت داخلہ میں کیا تیر مارا ہے جس کی تعریف کی جائے دہشت گردی کا عفریت سر چڑھ کر بول رہا ہے جہاں جاتے ہیں داستاں چھوڑ آتے ہیں پاکستان کی بیورورکریسی اتنی طاقتور ہے کہ سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرنے کا ”گر“ بڑے اچھے طریقے سے جانتی ہے جس کی زندہ مثال یہ ہے کہ ایف بی آر نے اعتراض کے باوجود افسران کیلئے گاڑیاں خریدنے کا اعلان کر دیا،چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا تھاکہ نوجوان افسران کیلئے کاریں خریدی جائیں گی، آپریشنز اور سیلز ٹیکس چیکنگ کیلئے افسر کا وزٹ ضروری ہوتا ہے، کمیٹی کے اعتراض کا احترام سے شافی جواب دیا ہے، ٹیکس اہداف پورے کریں گے، شہر قائد میں سب سے زائد ٹیکس کلیکشن کے حوالے سے ایف بی آر چیئرمین نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں بڑی کمپنیز کے ہیڈ کوارٹرز ہیں، یہاں ملٹی نیشنلز کے بھی ہیڈ کوارٹرز ہیں، ٹیکس کلیکشن کا عمل اُدھر سے ریکارڈ میں آتا ہے، کراچی سے زائد ٹیکس آنے لیکن رقم نہ لگنے سے متعلق سوال پر کہا گیامعاملہ مالی، فیڈرل ازم اور آئین میں طے ہے، اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عوام کے پیسے پر کس طرح عیاشی کی جاتی ہے اور کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی کوئی پوچھے تو ان کے پاس لاکھ بہانے ہوتے ہیں جس سے حکومت کو رام کر لیا جاتا ہے،بات یہاں ہی ختم نہیں ہو تی تنخواہوں میں اضافہ کیلیے وفاقی کابینہ کی منظوری لازمی ہوتی ہے لیکن نیپرا اتھارٹی نے بھی دیکھا دیکھی کسی منطوری کے تنخواہوں میں 20 سے 22 لاکھ روپے تک اضافہ کرلیا مانگے تانگے سے چلنے والے ملک کے عوامی نمائندوں کو ہی لے لیجیے اسمبلی میں ایک دوسرے کو چور چورکہتے نہیں تھکتے اور تنخواہیں بڑھاتے وقت سب کو سانپ سونگھ گیا کسی نے لب نہ کھولے کہ غریب ملک ہے تنخواہیں کیوں بڑھائی
جائیں؟ دوسری طرف پنجاب حکومت نے پولیس کی مختلف یونٹس کی اپ گریڈیشن کیلئے اربوں روپے کے فنڈز جاری کر دیئے، رائٹ مینجمنٹ فورس، سائبر کرائم ونگ اور انفورسمنٹ فورس کی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے جدید مشینری اور آلات خریدے جائیں گے، پنجاب پولیس کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے بڑی تعداد میں گاڑیاں مانگ لیں،حکام کے مطابق لاہور کیلئے36 گاڑیوں سمیت 319 کاریں مانگ لی گئی ہیں۔ لاہور کیلئے سنگل کیبن اور ڈبل کیبن گاڑیاں بھی طلب کی گئی ہیں، ان کی کارکردگی دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جرائم ہیں کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھانے عقوبت خانے بن گئے ہیں جہاں شریف آدمی کی عزت نفس آئے روز مجروح کی جاتی ہے اس کے باجود پنجاب سرکار محکمے پر سر سے لیکر پاؤں تک مہر بان ہے،معروف قلم کارعارف صحرائی لکھتے ہیں کہ جب پتھروں پر زوال آتا ہے تو ان کے بت بنا لئے جاتے ہیں اور جب قوموں پر زوال آتا ہے تو ان کے دل پتھر کے ہو جاتے ہیں آج دل ودماغ پتھرکے ہوچکے ہیں عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور حکمران عیاشیوں سیر سپاٹوں میں مگن ہیں ہے کوئی جو تھوڑا کہے کو زیادہ جان لے؟؟؟۔
سورۃ یوسف مسائل کا حل……
07:25 PM, 4 Mar, 2025