کوہلو کا بیل، دائرے کا سفر اور زندگی

07:22 PM, 4 Mar, 2025

چوپال میں مکمل خاموشی تھی، بیٹھے لوگ منتظر تھے کہ چپ سائیں کوئی بات کریں۔ نتھو اور پھتو ایک دوسرے کو گھور رہے تھے۔ چپ سائیں اخبار ہاتھ میں لیے محو مطالعہ تھے۔چاچا رشیدنے چوپال میں قدم رکھتے ہیں با آواز بلند سلام کیا۔ ان کے ساتھ تیرہ چودہ برس کا ان کا پوتا تھا۔ چاچا رشید کی آوازسن کر چپ سائیں نے اخبار کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا کیا حال ہے رشید، کیسے ہو؟ سنا یہ کونسے بیٹے کا بچہ ہے۔ چاچا رشید نے کہاکہ یہ میرے چھوٹے بیٹے کا بچہ ہے۔ شہرسے گاؤں آیا ہے۔ بچے نے سب کو سلام کیا اور بدلے میں خوب دعائیں سمیٹیں۔ چاچا رشید بولے۔۔۔ سائیں جی۔۔ یہ شہر ی بچہ ہے، دیہاتی ثقافت کے بارے میں نہیں جانتا، لیکن اس کے ایک سوال نے مجھے بھی سوچ میں ڈال دیا ہے اور میں ٹھہرا چٹا ان پڑھ، اسی لیے آپ کے پاس لے آیا۔ میں اس کو کل کولہو دکھانے کے لیے گیا۔ یہ بہت خوش ہوا لیکن اس کے سوال بہت عجیب تھے، کہ دادا جی یہ بیل ایک دائرے میں ہی کیوں گھوم رہا ہے؟اوراس کی آنکھوں پر پٹی کیوں بندھی ہے۔؟ کیا یہ دیکھ نہیں سکتا۔؟ چوپال میں موجود سب لوگ چاچا رشید کی طرف دیکھنے لگے۔چپ سائیں زیر لب مسکرائے اور بچے کو اپنی طرف بلایا، نام پوچھا اور کہا کہ بیٹا میں تم کو کوہلو کے بیل اور دائرے کے سفر کی کہانی کے بارے میں بتاتا ہوں۔
نتھو، پھتواور چوپال میں بیٹھے سب لوگ چپ سائیں کی طرف متوجہ ہوگئے۔ چپ سائیں بولے پتری کیا کبھی تمہارے بہن بھائیوں نے کوکلا چھپاکی کا کھیل کھیلا ہے، بچے نے سرہلاتے ہوئے کہا جی۔سائیں جی نے اگلی بات کہی بیٹا اس میں بھی ایک بچہ گول گول ہی گھومتا ہے اور راستہ نہیں بدلتا، اسی طرح کولہو کا بیل بھی ایک دائرے کے گرد ہی گھومتا ہے، اس کی زندگی میں دائرے کا سفر ہی اہم ہے۔ پتری وہ بیل اور کوکلا چھپاکی کھیلنے والے دائرے کے سفر سے بہت خوش ہیں اورلطف اٹھاتے ہیں۔ وہ کبھی دائرے کے سفر سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کرتے۔ چپ سائیں بولتے بولتے چپ کرگئے۔
توقف کے بعد بولے صاحبو دائرہ عموما تکمیل، ارتقا، یا زندگی کی مکمل ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ دائرے کا سفر زندگی کے مختلف مراحل کی نشاندہی کر تا ہے، جہاں ہر مرحلہ نئے تجربات، سیکھنے اور بڑھنے کے عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔زندگی ایک دائرہ ہے، جو ہر انسان کو اپنے اندر کی حقیقت کو تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ سفر ایک گہری علامت ہے، جو ہمیں دکھاتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی تلاش کرتے ہیں، وہ دراصل ہمارے اندر ہوتا ہے۔ بیل کی کہانی ایک ایسی علامت بن کر ابھرتی ہے جو انسان کی جستجو، اس کی محنت، اور اس کی تقدیر کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
دوستو بیل جو مسلسل گول گول چکر لگاتا رہتا ہے، ایک عجیب احساس محسوس کرتا ہے۔ یہ چکر نہ صرف اس کی جسمانی حرکت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس کی زندگی کی حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ وہ دائرہ جو وہ طے کرتا ہے، دراصل اس کے اندر کی تشویش اور اضطراب کی عکس بندی ہے۔ بیل کی آنکھوں میں سوالات ہیں، لیکن وہ اس چکر سے باہر نکلنے کا طریقہ نہیں جانتا۔ کہاجاتا ہے کہ انسان کتنی بار اپنی تقدیر کو سمجھنے میں ناکام ہوتا ہے، حالانکہ حقیقت بہت قریب ہوتی ہے۔معروف ناول نگار پالو کوہلو کے الفاظ میں جب تک تم اپنے راستے پر قائم رہو گے، تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جو تمہاری تقدیر میں ہے، لیکن جب تک تم اس چکر سے باہر نہیں نکلتے، تم نہیں جان پاؤ گے کہ وہ حقیقت کیا ہے۔سچ ہے یہ دائرہ صرف ایک جسمانی سفر نہیں، بلکہ ایک روحانی تجربہ بھی ہے، جہاں ہر قدم ایک نئی چیز سیکھنے کا آغاز ہوتا ہے،پھر ایک دن، بیل کو احساس ہوتا ہے کہ اس کا سفر اس کا اندرونی راستہ تھا، اور وہ دائرہ، جو اسے چھوٹا اور بے معنی لگتا تھا، اس کے ارتقا کا حصہ تھا۔ اس کے قدم اب سچائی کے قریب جا رہے تھے۔ وہ اب سمجھتا تھا کہ زندگی کا مطلب صرف سفر کرنا نہیں، بلکہ اس سفر میں وہ جو کچھ سیکھتا ہے، وہی اصل حقیقت ہے۔
دوستومدعا یہ ہے کہ بیل کی موجودگی ایک علامت ہے جو مسلسل دائرے کی شکل میں چل رہا ہوتا ہے، دراصل ایک انسان کی کہانی ہوتی ہے جو اپنی زندگی کی الجھنوں میں پھنس چکا ہوتا ہے، اور وہ اسی ایک دائرے میں چکر کاٹ رہا ہوتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ جان پائے کہ اس کے ارد گرد ایک وسیع تر حقیقت موجود ہے۔بیل کا مسلسل چکر لگانا، دراصل اس کی محدودیت کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ دائرہ اس کی حقیقت ہے، جس میں وہ اپنے مسائل، اضطراب اور خوف کے ساتھ پھنسا رہتا ہے۔ یہاں دائرہ زندگی کی ایک ایسی حالت ہے جہاں انسان اپنی روزمرہ کی فکر و پریشانیوں میں الجھ کر اپنی حقیقت سے بے خبر رہتا ہے۔ اس دائرے میں انسان ان اہم سوالات سے دور ہو جاتا ہے جو حقیقت میں اس کی روحانی اور ذاتی نشونما کے لیے ضروری ہیں۔جیسے ہی بیل اس دائرے سے باہر نکلنے کا فیصلہ کرتا ہے، وہ نہ صرف جسمانی طور پر آگے بڑھتا ہے بلکہ وہ اپنی سوچ میں بھی ایک نیا زاویہ تلاش کرتا ہے۔ یہ بیل کا فیصلہ اس وقت کی علامت ہے جب ایک انسان خود کو کھو کر اپنی زندگی کے مقصد کی تلاش کرتا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسی جستجو کی ابتدا ہے جو اس کی تقدیر کے راستے کو واضح کرتی ہے۔
صاحبو!دائرہ دراصل ایک علامت ہے جو صرف بیل یا کسی جانور کے سفر تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ انسان کی زندگی کے تجربات، چیلنجز، اور انتخاب کی نمائندگی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دائرہ کے سفر میں بیل اور انسان دونوں اپنی زندگی کے اس حصے میں ہوتے ہیں جہاں وہ اپنی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ ایک مسلسل تلاش کا عمل ہے۔ انسان کو اپنی تقدیر کا پتہ تب چلتا ہے جب وہ اپنی روحانیت اور اندرونی حقیقت کو سمجھتا ہے۔
کولہو کے بیل کا یہ سفر صدیوں سے جاری ہے۔۔۔لوگ خود ساری زندگی ایک نقطے پر سفر کرتے کرتے دوسروں کے دائروں کی تکمیل کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے۔۔۔تیل نکلتا ہے۔۔نکلتارہے گا۔۔۔دائرے بنتے ہیں۔۔۔بنتے رہیں گے۔

مزیدخبریں