ایف بی آر اصلاحات: وزیراعظم کی انکم ٹیکس کا نیا آٹومیٹڈ نظام اسلام آباد سے شروع کرنے کی ہدایت

05:09 PM, 4 Jun, 2026

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) میں ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے لیے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ان لینڈ ریونیو کی وصولیوں کو مزید مؤثر، شفاف اور فیس لیس بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا، جس کے تحت وزیراعظم نے انکم ٹیکس وصولی کے مجوزہ آٹومیٹڈ نظام کا پائلٹ پروجیکٹ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیا مجوزہ نظام جائیدادوں، گاڑیوں اور بینکوں کے ڈیٹا کے ذریعے کم ظاہر کی گئی آمدن اور چھپائے گئے اثاثوں کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نظام میں جدید ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا مؤثر استعمال کیا جائے گا تاکہ ٹیکس وصولی کے نظام کو خودکار اور شفاف بنایا جا سکے۔
ایف بی آر میں اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے نئے نظام کے تحت درج ذیل تین مستقل ونگز ،    نیشنل فیس لیس آڈٹ ونگ،    نیشنل اسیسمینٹ ونگ،    فیلڈ آپریشنز ونگزقائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دورانِ اجلاس بتایا گیا کہ غیر قانونی سگریٹس کے خلاف کیے گئے سخت انفورسمنٹ اقدامات کی بدولت اس سال قومی خزانے کو 40 ارب روپے کا اضافی ٹیکس حاصل ہونا متوقع ہے۔ وزیراعظم نے اس ضمن میں صوبائی حکومتوں کی مؤثر کارروائیوں کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ٹیکس وصولی کے نظام میں انسانی مداخلت اور صوابدیدی اختیارات کو کم سے کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ اس منصوبے کے نفاذ سے محصولات میں اضافہ، ٹیکس نظام میں شفافیت اور عوامی اعتماد کو فروغ ملے گا، اور معیشت کی دستاویزی شکل کے لیے ایف بی آر اصلاحات کا عمل جاری رہے گا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نزیر تارڑ، مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا واللّٰہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، معاون خصوصی ہارون اختر اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

مزیدخبریں