واشنگٹن/لندن: عالمی میڈیا نے افغانستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ برطانوی اخبار 'دی گارڈین' کی رپورٹ نے افغان معاشرے میں خواتین پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے، جس کے بعد عالمی اداروں سے طالبان حکومت کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ 5 سال سے افغانستان میں ساتویں جماعت کی طالبات کے لیے تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں۔ مزید برآں، نکاح کے نئے متنازع قوانین کے تحت کم سن بچیوں کی شادیوں کو جائز قرار دے دیا گیا ہے، جس پر تبصرہ کرتے ہوئے جریدے نے لکھا کہ آج کے افغانستان میں ایک پرندے کو بھی افغان عورت سے زیادہ تحفظ اور حقوق حاصل ہیں۔