قرآن مجید کی سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: ”اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔“
اسلام میں حج کی فرضیت کا تعلق بنیادی طور پر استطاعت (مالی و جسمانی قدرت) سے ہے، لیکن ساتھ ہی انسان کے ذمے موجود حقوق اور ذمہ داریوں کا بھی لحاظ رکھا جاتا ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے اخراجات پورے کر سکتا ہے قرضوں سے آزاد ہے تو اس پر حج فرض ہے۔ اس کالم میں، میں جو تحریر کرنے جا رہا ہوں میری اللہ سے دعا اور معافی کا طلب گار ہوں کہ مجھ پر کوئی شدت پسند کہیں غیر مسلم ہونے کا فرمان جاری نہ کر دے، پاکستان سے آنے والے حجاج کی بڑی تعداد اور اسکے حوالے سے اخراجات نے میری توجہ اس طرف دلائی، نیز پاکستان کے معاشی حالات جس پر حکومت کا تو دعویٰ ہے کہ وہ قابو پا رہی ہے (اللہ کرے کسی دن یہ بیانیہ صحیح ثابت ہو جائے) مگر زمینی حقائق ایسے نہیں، میرا وہ ملک جہاں تقریباً 28 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جس کا مطلب ہے تقریباً 7 کروڑ پاکستانی قومی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کے نئے بین الاقوامی معیار کے مطابق یہ شرح 44 فیصد بنتی ہے، یعنی تقریباً ہر دو میں سے ایک پاکستانی غربت کے قریب یا اس سے نیچے ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق تقریباً 29 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ بعض آزاد تحقیقی ادارے یہ شرح 43 فیصد تک بتاتے ہیں۔ میرا ملک وہ ہے جہاں سننے میں آتا ہے کہ والدین نے بچوں کو قتل کر کے خود کشی کر لی چونکہ وہ انہیں روٹی نہیں دے سکتے تھے تعلیم دلانا تو دور کی بات ہے۔ یتیم بچیاں شادی کیلئے بیٹھی ہیں، والدین اخراجات نہ ہونے کی بنا انکی شادیاں نہیںکر سکتے اور کئی واقعات ایسے ہیں کہ خدانخواستہ وہ بچیاں منفی راہ اختیار کر لیتی ہیں۔ ان حالات میں منشیات مافیا کی چاندی ہوتی ہے، ذہنی حوصلہ شکنی انہیں سستے نشہ کی طرف راغب کر دیتی ہے۔ علماءاکرام اور اللہ تعالیٰ کی ہدایات نے حج کو لازمی قرار دیا ہے، اس حالت میں جب استطاعت ہو، اور استطاعت کے معنی آسان ہیں۔ مگر ہمارے پاکستانی جو استطاعت نہیں رکھتے وہ بھی حج کرتے ہیں بنکوں نے سہولیات دی ہیں حج و عمرہ کیلئے قسطوں پر قرض دینے کی۔ اللہ کا گھر دیکھنے اور اپنے لیے جنت کی تلاش میں عمرہ و حج کے خواہش مند بنکوں سے اس کیلئے قرض بھی لیتے ہیں اور یقینی بات کہ کوئی بنک ایسا نہیں جو قرض دے اور سود نہ لے۔ اس طرح ایک طرف حج یا عمرہ کی سعادت کیلئے قرض لیکر ثواب کمانے کی خواہش اور دوسرے جانب ”سود“ کا گناہ اپنے سر لیتے ہیں جو ایک عظیم گناہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں سود (ربائ) کو حرام قرار دیتے ہوئے بہت سختیاں بیان کی ہیں۔ سود پر رقم دینے والا اور رقم لینے والا دونوںہی گناہ گار ہیں، دینے والے کا تعلق تو ہماری ’اشرافیہ‘ سے ہے، انکے ذمے تو نہ جانے کون کون سے گناہ موجود ہیں، ٹیکس چھپانا، اپنے ملک کی معیشت کو کمزور کرنا بھی گناہ ہے، کاروبار میں جھوٹ بھی گناہ ہے جس کا انہیں کوئی خوف نہیں۔ اس دنیا سے جانے کے بعد بھی شائد وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں انکا شمار اشرافیہ میں ہی ہو گا۔ میں نے یہاں ایسے پاکستانی حجاج و عمرہ پر آئے ہوئے لوگوں سے ملاقات کی ہے جو پاکستان میں رشوت کا بازار گرم رکھتے ہیں۔ ایک صاحب نے تو فرمایا ”زندگی میں بہت گناہ کیے ہیں، اللہ نے سعادت دی ہے کہ میں حج کروں“۔ بقول انکے وہ اب ”زیرو میٹر“ ہو گئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے وہ پھر سے وہی کچھ کرینگے جو زندگی میں کرتے رہے ہیں۔ وہ اولادیں قابل تحسین ہیں جو اپنے والدین کو حج یا عمرہ کراتی ہیں۔ وہ یقینی طور پر فرضی حج ہوتا ہے مگر جو لوگ ”نفلی“ حج ادا کرتے ہیں یا ہر تین ماہ میں عمرہ کیلئے آتے ہیں، انکے لئے زیادہ ثواب کا کام ملک کے اندر، ضرورت مندوں پر رقم خرچ کرنا ہے۔ پاکستان سے تقریباً تیس یا بیس فیصد حجاج یا عمرہ زائرین ایسے آتے ہیں جو نفلی حج، حج بدل، عمرہ بدل ادا کر رہے ہوتے ہیں، یہاں اب ہماری وزارت مذہبی امور کی ذمہ داری ہوتی ہے وہ نظام بنائیں کہ جو شخص حج ایک مرتبہ ادا کرے وہ بعد میں کم از کم پانچ سال حج ویزہ نہ لے سکے۔ یہ اس شخص کے ایمان پر منحصر ہے کہ وہ اب اس رقم کو ان ضرورت مندوں پر خرچ کرتا ہے جنکا ذکر اوپر کیا ہے۔ قرآن بار بار یتیموں، مسکینوں اور محتاجوں کی مدد کا حکم دیتا ہے: سورہ الانسان کے الفاظ ”اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔“ سورہ البقرة .... ”نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف پھیر لو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ مال خرچ کرو۔“ اسی وجہ سے بہت سے فقہاءنے لکھا ہے کہ اگر فرض حج ادا ہو چکا ہو؛ اور اردگرد بھوکے، بیوائیں، یتیم یا ایسی لڑکیاں موجود ہوں جن کی شادی محض غربت کی وجہ سے رکی ہوئی ہو تو ان کی مدد کرنا ”نفلی حج، نفلی عمرے یا دیگر نفلی عبادات“ سے زیادہ اجر کا باعث ہو سکتا ہے۔ ہم غریب ملک الحمدللہ نہیں ہیں۔ ہمارے حجاج کی تعداد اس سال بھی 1,79,210 تھی۔ سرکاری اور نجی گروپوں پر مشتمل سرکاری حج سکیم کا پیکیج تقریباً ساڑھے گیارہ
سے ساڑھے بارہ لاکھ روپے تھا۔ اوسطاً 12 لاکھ روپے فی حاجی شمار کیے جائیں اور تو 1.79 لاکھ حاجیوں کا مجموعی خرچ تقریباً 215 ارب روپے، نجی گروپ ملا کر 250 ارب، ہم ڈالرز کیلیے آئے روز دوست ممالک اور آئی ایم ایف کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب اندرون ملک جانوروں کی قیمتوں میں اس سال نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ بکرا تقریباً 60 ہزار سے ایک لاکھ جبکہ گائے اور بیل لاکھوں روپے تک فروخت ہوئے، قربانی کی مد میں پاکستانیوں نے غالباً ایک کھرب روپے سے کہیں زیادہ رقم خرچ کی، جبکہ مجموعی طور پر عیدالاضحی معیشت ڈیڑھ کھرب روپے کے قریب یا اس سے زائد جا سکتی ہے۔ کوئی شخص لاکھوں روپے کے جانور محض نمود و نمائش کے لیے خریدتا ہے، تو یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق قابلِ تعریف نہیں۔ اس سال پاکستانی حجاج جو صرف پاکستان سے آئے تھے انکے لئے سٹیٹ بنک نے حج خدمات کے مد میں 800 ملین ڈالر ادا کیے ہیں۔ قربانی کی مد میں پاکستانیوں نے پاکستان کے اندر 1.8 ارب ڈالر خرچ کیے .... ماشاءاللہ کون کہتا ہے ہم غریب ملک ہیں۔؟؟ نمود و نمائش کو چھوڑ دیں تو ملک کے اندر ضرورت مندوں کو زندہ رہنے کا حق مل سکتا ہے۔
پاکستان غریب لوگوں کا ملک، یہ خام خیالی ہے
09:07 AM, 4 Jun, 2026