بزنس مین کیا کریں؟

09:08 AM, 4 Jun, 2026


پاکستان میں کاروبار کرنا صرف سرمایہ لگانے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسے میدان میں اترنے کے مترادف ہے جہاں ہر قدم پر طاقت، اثرورسوخ اور تحفظ کی جنگ لڑی جاتی ہے۔ یہاں صرف منافع کمانا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اپنے کاروبار کو بچانا بھی ایک مستقل جدوجہد بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں کاروباری طبقہ دولت کمانے کے بعد طاقت کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔ سیاست میں دیکھیے۔ کوئی ایم این اے یا ایم پی اے اپنے حلقے میں دوسرا مضبوط امیدوار پیدا نہیں ہونے دیتا۔ وہ جانتا ہے کہ سیاسی طاقت برقرار رکھنے کا راز مقابلے کو کمزور رکھنے میں ہے۔ یہی اصول کاروباری دنیا میں بھی کسی نہ کسی شکل میں کارفرما نظر آتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ سیاست دان ووٹ کی طاقت سے خود کو محفوظ بناتا ہے جبکہ کاروباری شخص سرمایہ ہونے کے باوجود خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ یہاں صورتحال یہ ہے کہ کسی فیکٹری یا کاروباری دفتر میں کوئی واقعہ ہوجائے اور وہاں کا ایڈمن پولیس کے پاس رپورٹ درج کرانے جائے تو تفتیشی افسرفیکٹری مالک کو بلانے کا کہے گا، بھئی وہ مصروف آدمی ہے، ہزاروں لوگوں کے روزگار میں مصروف ہے، اس نے اپنے ذمہ دار آدمی کو بھیجا ہے پھر اس کو کیوں بلانا ضروری ہے۔کسی جگہ مینجر کو بھیجیں دفتر والے مالک کو بلانے کا کہیں گے۔کیوںکہ ہر بندہ اپنے مفاد کی خاطر براہ راست بات کرنا چاہتا ہے، نظام کو کام نہیں کرنے دیتا۔ یہ رویہ کاروباری افراد کو غیر ضروری الجھنوں کا شکار بناتا ہے۔دل برداشتہ ہو کر کسی واقعہ کے بعد پولیس کے جھمیلوں سے مایوس یہ لوگ نقصان اٹھانے کے باوجود خاموش ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔
پاکستان میں جیسے ہی کوئی صنعت کار یا تاجر ایک خاص سطح پر پہنچتا ہے، اس کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ سرمایہ سمیت ملک سے باہر منتقل ہو جائے، اور دوسرا یہ کہ وہ اپنے گرد طاقت کا حصار تعمیر کرے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی بڑے کاروباری گروپ میڈیا ہاو¿سز، ٹی وی چینلز، تعلیمی اداروں، فلاحی تنظیموں یا سیاسی روابط میں سرمایہ کاری کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ صرف کاروباری توسیع نہیں ہوتی بلکہ ایک حفاظتی ڈھال بھی ہوتی ہے۔کوئی پندرہ چینل اور اخبارات صرف سرکاری اہلکاروں اور نجی غنڈوں سے بچنے کے لئے کاروباری افراد نے لانچ کئے ہیں۔ویب چینلوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کاروباری شخص اکثر خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ ایک جھوٹی ایف آئی آر، ایک بدنیت اہلکار، ایک انتقامی کارروائی یا ایک سرکاری نوٹس برسوں کی محنت کو چند گھنٹوں میں خاک میں ملا سکتا ہے۔ چند روز قبل ایک معروف کاروباری شخصیت کو صرف ایک متنازع ایف آئی آر کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں وہ بے گناہ ثابت ہو بھی جائے تو کیا اس کی عزت، وقت، ذہنی اذیت اور کاروباری نقصان واپس آ جاتا ہے؟۔
کاروباری طبقہ اکثر یہ شکوہ کرتا ہے کہ اس کے پاس دولت تو ہے مگر طاقت نہیں۔ ایک فیکٹری لگانے میں برسوں لگ جاتے ہیں لیکن ایک معمولی درجے کا افسر چند کاغذات کے ذریعے اسے سیل کر سکتا ہے۔ سرمایہ کار کروڑوں روپے لگا کر روزگار پیدا کرتا ہے، ٹیکس دیتا ہے، برآمدات کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ عدم تحفظ کا شکار رہتا ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں سرکاری اختیارات اور احتساب کے درمیان توازن کمزور ہے۔ اگر کسی کاروباری شخص سے غلطی ہو جائے تو اس کے خلاف کارروائی فوراً شروع ہو جاتی ہے، لیکن اگر کسی سرکاری اہلکار کی بدنیتی یا نااہلی سے نقصان پہنچے تو اس کا احتساب شاذونادر ہی نظر آتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کاروباری افراد ہمیشہ درست ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ قانون سب کے لیے برابر کیوں نہیں؟۔ معاشی ماہرین بارہا نشاندہی کر چکے ہیں کہ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں قانون کی حکمرانی، پالیسی کا تسلسل اور انصاف کی ضمانت موجود ہو۔ عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹیں برسوں سے یہ بتاتی رہی ہیں کہ کاروبار دوست ماحول سرمایہ کاری بڑھاتا ہے جبکہ غیر ضروری ضابطے، بدعنوانی اور انتظامی بے یقینی سرمایہ کار کو بھگا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے پاکستانی کاروباری گروپ اپنی نئی سرمایہ کاری دبئی، سعودی عرب، برطانیہ یا دیگر ممالک میں منتقل کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال صرف کاروباری طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی معیشت کا مسئلہ ہے۔ جب سرمایہ کار خود کو غیر محفوظ سمجھے گا تو وہ نئی فیکٹری نہیں لگائے گا۔ جب نئی فیکٹری نہیں لگے گی تو روزگار پیدا نہیں ہوگا۔ جب روزگار نہیں ہوگا تو غربت بڑھے گی۔ اور جب غربت بڑھے گی تو ریاست پر دباو¿ مزید بڑھ جائے گا۔
اس مسئلے کا حل کیا ہے؟
میری رائے میں ہر ضلع میں ملک کے نمایاں اور سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے کاروباری افراد پر مشتمل ایک مشاورتی کونسل قائم ہونی چاہیے۔ اس کونسل کا مقصد کسی کاروباری شخص کے لیے خصوصی رعایت حاصل کرنا نہیں بلکہ انتظامی زیادتیوں کی نشاندہی کرنا ہونا چاہیے۔ یہ کونسل ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں رہے اور اگر کسی صنعت کار، تاجر یا سرمایہ کار کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہو تو اس کی فوری نشاندہی کرے۔ لیکن صرف کونسلیں بنا دینا کافی نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت احتساب کے ایسے نظام کی ہے جس میں اختیارات کے ساتھ جوابدہی بھی موجود ہو۔ اگر ایک کاروباری شخص قانون توڑتا ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے، لیکن اگر کوئی سرکاری اہلکار اختیارات کا ناجائز استعمال کرتا ہے تو اس کا احتساب بھی اتنی ہی شدت سے ہونا چاہیے۔ آج پاکستان کی معیشت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم سرمایہ کار کو مشکوک نگاہ سے دیکھتے رہیں گے یا اسے ترقی کا شراکت دار سمجھیں گے۔ دنیا کی کوئی معیشت تاجروں، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو خوف میں مبتلا رکھ کر ترقی نہیں کر سکی۔ معاشی سپر پاور بننے کے خواب صرف نعروں سے پورے نہیں ہوتے، ان کے لیے ایسے ادارے درکار ہوتے ہیں جو انصاف دیں، تحفظ دیں اور اعتماد پیدا کریں۔ اگر کاروباری شخص کو اپنی فیکٹری بچانے کے لیے سیاست دان کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے، اگر اسے تحفظ کے لیے میڈیا ہاو¿س بنانا پڑے، اگر اسے قانون کی بجائے تعلقات پر انحصار کرنا پڑے، تو پھر یہ صرف ایک فرد کی ناکامی نہیں بلکہ پورے نظام کی کمزوری ہے۔ پاکستان کو سرمایہ کاروں کی دولت سے زیادہ ان کے اعتماد کی ضرورت ہے۔ دولت خوف کے ماحول میں بھی پیدا ہو سکتی ہے، مگر اعتماد صرف انصاف کے ماحول میں پیدا ہوتا ہے۔ اور جس دن یہ اعتماد بحال ہو گیا، اس دن کاروباری طبقہ طاقت نہیں، صرف کاروبار تلاش کرے گا۔ یہی وہ دن ہوگا جب پاکستان حقیقی معنوں میں معاشی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکے گا۔

مزیدخبریں