پہلی مثال پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں جنوری 2013میں علامہ طاہر القادری کا لاہور سے لانگ مارچ اور پھراسلام آباد دھرنا تھا جو 14جنوری سے21جنوری تک جاری رہا اور اسے لاہور سے روانگی سے لے کر دھرنے کے اختتام تک سرکار کی جانب سے ہر طرح کی سہولت فراہم کی گئی ۔ یہ2013جنوری کے مہینے میں ہوا اور ٹھیک ایک سال سات مہینے بعد علامہ طاہر القادری اور ان کے ساتھ میرے قائد انقلاب عمران خان صاحب اپنے اپنے قافلے کے ساتھ 14اگست2014کو لاہور سے اسلام آباد کے لئے لانگ مارچ لے کر نکلے اور 126دن کا تاریخی دھرنا دیا۔ اس سارے عرصہ میں حکومت وقت نے جس حد تک لاڈ پیار ہو سکتا تھا اس کا مظاہرہ کیا لیکن اس کے باوجود بھی ایمپائر کی انگلی نہ اٹھ سکی ۔ اس مختصر تمہید کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے تحریک انصاف کے بھائی اکثر یہ شکوہ کرتے ہیں کہ احتجاج کیسے کریںحکومت سختی بہت کرتی ہے تو عرض ہے کہ جب حکومت نے آپ سے مثالی حسن سلوک کیا تھا تو آپ اس وقت ایمپائر کی انگلی نہیں اٹھا سکے کہ وہ ایمپائر کہ جو فاﺅل پلے کھیلنے سے بھی گریز نہیں کرتا تھا تو اب تو پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بھی گذر چکا ہے تو اب حکومت اگر آپ کو پھولوں کے ہار بھی پہناتی ہے تو پھر بھی کیا کسی تبدیلی کی توقع کی جا سکتی ہے لیکن ہم بحث سے بچنے کے لئے تحریک انصاف کے بھائیوں کی اس دلیل کو من و عن مان لیتے ہیں کہ حکومت بہت زیادہ سختی کرتی ہے تو یہ سختی توپنجاب یا سندھ میں ہوتی ہو گی لیکن اگر خیبر پختون خوا سے زیادہ نہیں صرف ایک لاکھ کا چارج مجمع لے کر تحریک انصاف آ جاتی تو کیا کسی میں جرات تھی کہ اسے ڈی چوک آنے اور وہاں پر دھرنے سے روک سکتی اور جب ایک لاکھ کا پر جوش مجمع وہاں موجود ہوتا تو اس کے دباﺅ پر کون سی حکومت تھی کہ جو تحریک انصاف سے مذاکرات نہ کرتی اور ان کے مطالبات تسلیم نہ کرتی ۔ اسی طرح ہم بحث سے بچنے کے لئے یہ بھی مان لیتے ہیں کہ جب ضمنی الیکشن ہوئے تھے تو پنجاب اور سندھ میں زبردست دھاندلی ہوئی ہو گی ورنہ تو خان صاحب کی مقبولیت سب سے زیادہ ہے لیکن عمر ایوب خان کی سیٹ پر جو ضمنی الیکشن ہوئے تھے وہ تو خیبر پختون خوا کی حدود میں تھے اور وہاں تمام عملہ بھی خیبر پختون خوا حکومت کا تھا تو پھر وہاں پر ایک بڑے مارجن کے ساتھ شکست کی کیا وجہ تھی اور کسی نے احتجاج کیوں نہیں کیا تھا ۔
یہ تو ماضی تھا لیکن ڈیل کی کہانیاں اب بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں اور گذشتہ دنوں تو ایک بڑی ہائی فائی قسم کی ڈیل کی کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ۔ اندازہ کریں کہ اس بار ڈیل کی کہانی میں ایک سابقہ آرمی چیف نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی ہے ۔ اس سے پہلے کہ آگے بڑھیں اس طرح کی ڈیل کی کہانیوں کو بعد میں سچا کیسے ثابت کیا جاتا ہے ۔ پرانی بات ہے کہ ایک ڈپٹی کمشنر کا تبادلہ کسی نئی جگہ پر ہوا تو وہاں پر اس نے جب ریکارڈ دیکھا تو اس میں پانچ لاکھ روپے سے ایک سوئمنگ پول بنایا گیا تھا تو اس نے اپنے سیکریٹری سے پوچھا کہ یہ سوئمنگ پول کہاں پر ہے تو اس نے سر کو کھجاتے ہوئے کہ کہ سر یہ سوئمنگ پول تو صرف فائلوں میں بنا ہے حقیقت میں تو نہیں بنا تو اس پر نئے ڈپٹی کمشنر نے پوچھا کہ اگر ہائر اتھارٹی پوچھ لے تو میں اس سوئمنگ پول کو کہاں سے دکھاﺅں گا تو اس کے سیکریٹری نے کہاں کہ سر اس میں کون سی مشکل بات ہے ۔ آپ فائل میں لکھ دیں کہ سوئمنگ پول میں کوئی نہانے نہیں آتا تھا اور پھر صفائی کا بھی کوئی معقول انتظام نہیں تھا جس سے گندگی کی وجہ سے علاقے میں بیماری پھیلنے کا خدشہ تھا لہٰذا اس سوئمنگ پول کو بند کرنے کے لئے موجود فنڈ سے پانچ لاکھ لگا کر اسے بند کر دیا گیا ہے ۔ اب ہر ڈیل کے بعد کچھ اسی طرح کی بناسپتی وجوہ بتا کر اس ڈیل کو ناکام بھی بنا دیا جاتا ہے ۔
اندازہ کریں کہ ایک سابقہ آرمی چیف اور ساتھ میں کہا کہ جس کو مدت ملازمت میں توسیع بھی ملی تھی تو جنرل کیانی تو ہو نہیں سکتا تو زیادہ امکان جنرل باجوہ صاحب کا ہی ہے ۔ یہ ملاقات کسی خفیہ مقام پر نہیں ہوئی کہ کسی کو خبر ہی نہ ہو تو جیل کے مرکزی دروازے سے لے کر بیرک تک یا کسی آفس تک سینکڑوں ملازم ہوتے ہیں کہ جن کے ہوتے ہوئے کوئی ملاقات خفیہ نہیں رہ سکتی اور اگر ان سب کو معمول سے ہٹ کر چھٹی دے دی جائے تو یہ خبر بھی منٹوں میں میڈیا تک پہنچ جائے گی اور جو بھی ملاقات کرنے جائے گا اس کے جانے سے پہلے اس ملاقات کی خبر پوری دنیا میں پہنچ چکی ہو گی ۔ آج کی تحریر میںچونکہ ہر بات فرض کی جا رہی ہے تو یہ بات بھی فرض کر لیں کہ چونکہ پورے ملک میں حالات بہت خراب تھے اور خان صاحب کی رہائی کے لئے شہر شہر ہنگامے ہو رہے تھے تو حکومت نے حالات معمول پر لانے کے لئے ایک سابقہ آرمی چیف کو عمران خان سے ڈیل کرنے کے لئے جیل بھیجا تھا تو ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ ڈیل ہوتی یا نہیں لیکن کم از کم حکومت جنید اکبر خان کو گلگت بلتستان سے دیس نکالا تو نہ دیتی ۔ اسے بھی چھوڑیں گلگت بلتستان میں انتخابی نشان دے کر الیکشن میں بحیثیت جماعت شرکت کی اجازت تو دے دیتی اور کچھ نہیں تو کم از کم خان صاحب کی بند ملاقاتیںہی کھل جاتیں ۔
ڈیل کی کہانیاں
09:09 AM, 4 Jun, 2026