غزہ میں ایک ماں سڑک پر گرا ہوا آٹا اکٹھا کرتے ہوئے زارو قطار وتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ غزہ کے ہزاروں بچے اور بڑے ہاتھوں میں خالی برتن اٹھائے غذا اور پانی کی ایک بوندکے لیے ترستے نظر آتے ہیں۔بھوک،پیاس اور افلاس میں ڈوبا ہوا غزہ سنگین ترین غذائی بحران سے گزر رہا ہے۔غزہ کی کسمپرسی کی نت نئی لاتعداد تصاویر اور وڈیوزہر روز سوشل اور الیکٹرانک میڈیا،اخبارات اور رسائل میں نظر سے گزرتی ہیں۔ان تصاویر کو دیکھ کر درد مند دل رکھنے والا ہر شخص افسردہ ہو جاتا ہے۔صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی غزہ پر7اکتوبر2023ء سے جاری اسرائیل کی بد ترین دہشت گردی پر سراپا احتجاج ہیں۔غزہ کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو کر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ان ڈھیروں کے نیچے کئی وہ نعشیں بھی دبی ہوئی ہیں جو ابھی تک شہدا ء میں بھی شامل نہیں۔نہ رہنے کو گھر،نہ ہسپتال،نہ تعلیمی ادارے ،نہ بازار اور شاپنگ مالز اور نہ ہی کوئی ادارہ باقی بچا ہے۔صیہونی افواج نے انسانوں پر انسانوں کے ظلم کی آخری حد بھی پار کر دی ہے۔غزہ کے مسلمانوں کو ان کی اپنی سر زمین غزہ سے نکال کرغزہ بدر کرنے کی صیہونی سازش کے تحت ہجرت پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ غزہ میں عرصۂ حیات اتنا تنگ کر دیا گیا ہے کہ کئی ماہ سے ان تک کھانے پینے کی اشیا بھی نہیں پہنچنے دی جا ر ہیں۔ایسا ظلم تو دنیا کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا۔
سوشل میڈیا پر اکثر ایسی تصاویر نظر آتی جن میںعرب شیخوں کو پر تعیش کھانے کھاتے ہوئے اور اس کے ساتھ ایک تصویرغزہ کے بھوکے بچوں کی ہوتی ہے۔ایک تصویر میں زندگی کے دومتضاد رخ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عرب حکمران خود تو عیاشیاں کر رہے ہیں ،انواع و اقسام کے کھانے کھا رہے ہیں لیکن انہیں غزہ کے سسکتے اور بھوک سے بلکتے ہوئے بچوں کی بھوک کا کوئی احساس نہیں ۔اس حقیقت میں بلا شبہ کوئی شک نہیں لیکن غزہ کے مسلمانوں کے لئے یہ بے حسی تو ہمیں اپنے گراسری اسٹورز پر وافر تعداد میں اسرائیلی،اور اسرائیل کے سرپرست امریکہ اور برطانیہ کی اشیاء کی بہتات اور لوگوں کو یہ اشیاء خریدتا دیکھ کر،اپنے گھر کے دسترخوانوں،شادی بیاہ کی تقریبات اور سرکاری ایوانوں کی آئے روز ہونے والی دعوتوں میں بھی نظر آتی ہے۔ ایمانداری کے ساتھ اپنا جائزہ لیں کہ کیاہم نے واقعی اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کی اشیاء کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے اوراپنی غذا سے تعیشات کم کر کے کتنی رقم اہل غزہ کے لئے دے رہے ہیں۔میرے خیال میں اس کا تقریباًسو فیصد جواب نفی میں ہی ہو گا۔اس لیئے سب سے پہلے اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔اپنی غلطیوں کاجائزہ لینے کی بجائے دوسروں پر تنقید کرنا بہت آسان ہے ۔
چند روز قبل غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی۔ایک خاتون نے غزہ کے حوالے سے ہونے والی گفتگو میں بتایا کہ رمضان المبارک میں ان کا اپنے بیٹے کے ساتھ عمرے پر جانے کا ارادہ تھالیکن انہوں نے سوچا کہ عمرہ تو ہم پہلے بھی کر چکے ہیں کیوں نہ یہ رقم غزہ کے مسلمانوں کے لئے بھیجی جائے۔انہوں نے اپنی اس سوچ کو عملی صورت دی اور غزہ بھیجنے کے لیئے یہ رقم الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے حوالے کر دی۔ایک اور خاتون نے بتایا کہ ان کی خالہ اور خالو حج کر چکے ہیں۔اس سال بھی انہوں نے حج پر جانے کا سوچا تھا لیکن ارادہ بدل دیا کہ ہم حج کا فرض تو ادا کر چکے ہیں ۔پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ؐ نے بھی ایک ہی حج ادا کیا تھا۔ انہوں نے حج کی رقم غزہ کے مسلمانوں کے لیئے الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کو دے دی ہے۔ان دونوں خواتین کی دلوں کو تحریک دینے والی گفتگو سن کر ایک اورخاتون بھی گویا ہوئیں۔میں نے اپنے بیٹے کی شادی اور ولیمہ بہت سادگی کے ساتھ کیاہے۔باقی رقم غزہ کے لئے بھیج دی۔ ہم نے جہیز نہیں لیا اور لڑکی والوں سے کہا کہ وہ جہیز کی رقم غزہ بھیج دیںانہوں نے ایسا ہی کیا۔غزہ کے بہن،بھائیوں اور بچوں کے لئے ان جذبات کا اظہار کرتے ہوئے یہ خواتین آبدیدہ (باقی صفحہ 4بقیہ نمبر3)
تھیں۔کچھ خواتین نے بتایا کہ انہوں نے اس سال بھی عید الاضحی کے لئے قربانی کی رقم الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے ذریعے غزہ بھجوائی ہے۔تقریب میں موجودبعض خواتین نے تقریب کی میزبان سے پوچھاکہ اسرائیل نے تو غزہ امداد پہنچانے والے تمام راستے بند کئے ہوئے ہیں۔اس صورت میں وہاں تک قربانی کا گوشت اور دیگر امدادی اشیاء کیسے پہنچائی جا رہی ہیں۔تقریب میں الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کی نمائندہ موجود تھیں۔ انہوں نے اس بارے میں مختصراً بتایا۔
اکثرلوگوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب غزہ جانے والے تمام راستے بند ہیں توالخدمت فاؤنڈیشن پاکستان غزہ تک امداد کیسے پہنچا رہی ہے اور قربانی کا گوشت وہاں کیسے پہنچے گا۔غزہ کے لیئے قربانی کرنے اورامدادی اشیا پہنچانے کی تفصیلات جاننے کے لئے راقم نے الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی دفتر کے شعبۂ تعلقات عامہ سے رابطہ کیا۔وہاں کے ترجمان سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان نے گزشتہ سال بھی غزہ کے مظلوم عوام کے لئے عید الاضحی کے موقع پرکچھ قربانیاںکرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس مقصد کے لیئے غزہ،بیت المقدس شہر،لبنان اور مغربی کنارے کے علاوہ مصرمیں مختلف جگہوں میں رہنے والے غزہ کے ایک لاکھ مہاجرین کے لئے دو سو گائے کی قربانی کی گئی۔جنگ شروع ہونے کے بعدالخدمت فاؤنڈیشن نے ایک نظام کے تحت مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اپنا ایک دفتر اور گودام بنایا ہوا ہے۔وہاںملازمین کے علاوہ اعزازی کارکن بھی ہیں ۔ہم قاہرہ ہجرت کر کے آنے والے غزہ کے خاندانوں کی خبر گیری اوربعض مہاجرین کووہاں کرائے پر گھر لے کر دے اوربچوں کے لئے سکول چلا رہے ہیں ۔ان کی ضروریات زندگی پوری کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔گزشتہ سال عید الاضحی کے موقع پرقاہرہ کے مختلف علاقوں میں رہنے والے غزہ کے مہاجرین میں تازہ گوشت تقسیم کیاگیا۔کراچی میں اٹھارہ سو گائے اور گیارہ سو ساٹھ بکرے ذبح کئے۔کچھ کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کیا جنہوں نے گوشت فریز اور پروسس کر کے انہیں کھانے کے لئے تیار کر کے ٹن پیک کیا ۔اور دو سو پچاس ٹن گوشت کے تقریباً تین لاکھ ڈبے تیار کر کے غزہ بھیجے گئے ۔جہاز سے بھیجنے پر فی ڈبہ ایک ہزارروپے کا اضافی خرچہ آیاجو مہنگا پڑتا تھا۔
اس سال کراچی کی بجائے انشااللہ قاہرہ میںایک ہزار صحت مند گائے قربان کریں گے۔ قربانی عید کے تینوںدن ہو گی۔ الخدمت نے وہاں پہلے سے تاجروںاورگوشت پروسس کرنے والی کمپنیوں سے بھی نرخ طے کر کے سے معاہدے کئے ہیں۔ جو گوشت کو کھانے کے لئے تیارکر کے ٹن پیک کریں گے۔ قربانی سے لے کر ٹن پیک کرنے تک ایک گائے پر تین لاکھ روپے خرچہ آ رہا ہے۔اس حساب سے ایک گائے کا ایک حصہ پچاس ہزار روپے بنتا ہے۔قاہرہ میں غزہ کے پناہ گزیں مہاجرین تک تازہ گوشت پہنچایا جائے گا۔تیار شدہ گوشت کے لاکھوں تیار شدہ ٹن ہمارے پاس موجود ہوں گے جیسے جیسے غزہ کا بارڈر کھلتا جائے گا ہم ٹن غزہ کے اندر پہنچاتے جائیں گے۔اس کے علاوہ غزہ کے اندر،مغربی کنارے اورلبنان میں مویشی محدود تعداد میں ہوں گے ہم انہیں بھی قربان کریں گے ۔قربانی عید کے تینوں دن کی جائے گی جس کی نگرانی الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر خود کریں گے۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ ہم عوام کے تعاون سے ہی فلسطین میں امدادی کام کر رہے ہیں۔سینکڑوں فلسطینی طلبا و طالبات کو پاکستان لا کر ان کی تعلیم اور رہائش کا انتظام کیا۔عیدالفطر ان کے ساتھ منائی اور اب انہیں قربانی کا گوشت دینے کے علاوہ ہمارے اہل خانہ عید الاضحی بھی ان کے ساتھ منائیں گے۔
راقم کے کئی عزیز بیرون ملک مقیم ہیں۔ اس سال بھی انہوں نے قربانی کی رقم غزہ کیلئے بھجوائی ہے۔کالم کی اختتامی سطور لکھنے کے دوران جدہ سے ایک عزیز کا فون آیا ۔وہ بتا رہے تھے کہ اس سال بھی انہوں نے قربانی کی رقم فلسطین بھجوانے کے لئے الخدمت فاؤنڈیشن کو بھیجی ہے۔غزہ میں قربانی کیلئے رقم بھیجنے وا لے غزہ کے مسلمانوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ عید الاضحی کے موقع پر بھی آپ تنہا نہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
غزہ کے لیے قربانی کے قابل تقلید جذبات
09:51 AM, 4 Jun, 2025