لفظ کا دکھ… لفظ کا درد… لفظ کی خوشی… لفظ کی کہانی… یعنی لفظ اور انسانیت سے جڑی تمام تر زندگی کی عکاس ہوتی ہے… مگر کیا ہے کہ کچھ لفظ ایسے ہوتے ہیں کہ لکھتے وقت دل کرتا ہے کہ لکھتا ہی چلا جائوں اور کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو نہ میرے دکھوں نہ میرے درد اور نہ میرے لفظوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ غم و خوشی کا ساتھ لمحہ لمحہ ہمارے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ ان بہت سے واقعات نے میرے خوبصورت پاکستان کے ساتھ ملک دشمن عناصر جو گھنائونے کھیل اور نہتے عوام پر اور سب سے افسوس ناک بات کہ وہ اپنی سفاکیت، بربریت، دہشت گردی کے بارود کو معصوم بچوں اور بچیوں کے جسموں میں اتار رہے ہیں۔ میرے پاس وہ لفظ نہیں ہیں کہ میں ان کا یہاں احاطہ کر سکوں اور ظلم کی کونسی حد ہے جو انہوں نے پار نہیں کی۔ چند روز قبل خضدار میں کیا ہوا… وہاں پھر ایک ایک ایسی خونی داستان رقم کی گئی جس پر لکھتے ہوئے بھی میرے جسم میں لرزہ طاری ہو رہا ہے یعنی ایک سکول وین پر حملہ جو دہشت گردوں کی ذہنی پستی، ذہنی سفاکی، گھٹیاں سوچ اور اس کا ہمیشہ کی طرح چھپ کر وار کرکے معصوم بچوں کو شہید اور زخمی کرنا۔ مودی یاد رکھنا شہید کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا…
سفاک دہشت گرد مودی سن لو یہ دیوار پر لکھا جا چکا ہے کہ تم فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کی بہادر اور غیور افواج اور نڈر قوم کا ایک تنکا بھی نہیں توڑ سکتے… تم 1965ء اور 1971ء کی جنگ تو بھول سکتے ہو مگر 2025ء کی جنگ تمہیں تمہاری ارتھی اٹھانے تک یاد دلاتی رہے گی۔ بچوں کو شہید کرکے تم کس بہادری کا دعویٰ کرتے ہو… تم اور بھارت صرف چند گھنٹوں کی مار ہیں اور ہم نے یہ ثابت کیا ہے…
خضدار سے پہلے بھارت نے بہاولپور کے معصوم بچوں کو رات کے اندھیرے میں میزائل حملے میں شہید کیا… اور پھر میری پاک افواج کے جوانوں نے دن کے اجالے میں تمہاری اوقات دکھا کر دنیا کے آگے اس کو ننگی کرتے ہوئے تمہیں دنیا کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیا… تم پھر بھی باز نہ آئے اور بدلے میں بجائے تم ہمارے نوجوان سپوتوں کا مقابلہ کرتے تم نے خضدار کے معصوم بچوں کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنا دیا… یاد رکھنا وہ معصوم بچے اپنے رب کے سامنے زندہ اور وہ ہمارے جگر گوشے ہیں اور تاقیامت ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ تمہیں معلوم ہے کہ اس قوم کا ایک ایک بچہ ملک کی خاطر جان ہاتھ پر رکھ کے کھڑا ہے۔ تم یہ بات جان لو کہ اگر اب تم نے معصوم بچوں کو اپنی وحشت اور بربریت کا نشانہ بنایا تو پھر تم صرف چند منٹوں کی دوری پر ہو… 19مئی کا واقعہ جب تم نے میرعلی میں اس وقت ایک گھر پر ڈرون حملہ کیا جب چار بچوں کی والدہ ان کے لئے ناشتہ تیار کر رہی تھی… چاروں بچوں کے گلوں میں سکول کے بیگ تھے… دو بھائی تیار ہو کر دوسرے بھائیوں کا انتظار کر رہے تھے کہ گھر کے اندر ایک زوردار دھماکہ ہوا… اور پھر صبح سویرے بچوں کے والد کے سامنے اس کے تین بچے شہید ہوگئے جبکہ اس کے چوتھے بچے نے جو زخمی تھا اپنے باپ کے ہاتھوں میں جان اپنے رب کے سپرد کر دی…
وہ کیا برا وقت ہوگا…
جب تم معصوم بچوں پر ظلم کے پہاڑ گرا رہے تھے…
کیا بیتی ہوگی ان معصوم شہداء کی ماں کے دل پہ… جس کے جگر گوشے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے تھے۔ وہ آنکھیں کتنی صبر والی ہوں گی… جنہوں نے ان کو شہید ہوتے دیکھا ہوگا۔ وہ کیا قیامت کا لمحہ ہوگا…
جب ایک باپ کے چاروں بچے…
پل دو پل میں سکول جانے کی بجائے…
ملک پر قربان ہو گئے…
کیا لمحہ ہوگا جب ایک ہی گھر سے چار معصوم جنازے اٹھائے گئے ہوں گے…
وہ بے رحم موت لمحوں میں غزہ میں شہید ہونے والے ہزاروں بچوں کی شہادتوں کی یاد دلا گئی۔
فرق صرف فاصلوں کا تھا۔
ادھر غزہ پر اسرائیلی (باقی صفحہ 4بقیہ نمبر1)
بربریت ادھر میرعلی میں بھارتی دہشت گردی…
خضدار کی شہید ہونے والی بیٹیاں…
میری بیٹیاں…
یہ پاک دھرتی کی بیٹیاں…
یہ میرعلی دھرتی کے چار معصوم بیٹے…
یہ بہاولپور کے پاک بھارت جنگ میں شہید ہونے والے معصوم بیٹے…
خضدار کی سانیہ سومرو… حفظہ کہوسار، عیشا سلیم… کی شہادتیں ہمیں…
کبھی نہ بھول پائیں گی…
آج شدت کے ساتھ سوچ رہا ہوں کہ آخرکار غزہ، خضدار، میر علی کے ان بچوں اور بچیوں کا کیا قصور ہے؟
یہ تو ہمارے گلشن کی وہ کلیاں تھیں جنہیں ابھی پھول بننا تھا…
ان پھولوں کی مہک سے میرے پاک وطن کی فضاء کو ابھی پرنور ہونا تھا…
اور آخری بات…!
قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
بہتا ہوا ان بے گناہ معصوموں کا خون ایک دن گواہی دے گا… جب ہم یہ قرض بھی اتار دیں گے لہٰذا دس مئی کی طرح دشمن کے خلاف آہنی ہاتھوں کی ضرورت ہے اور انہی سے ملک کا مستقبل اور امن وابستہ ہے جس طرح پاک افواج نے بھارت کو شکست دے کر جو نئی تاریخ رقم کی اسی طرح وہ دہشت گردوں کے خلاف زمین تنگ کرنے میں انشاء اللہ کامیاب ہو جائیں گی۔
غزہ سے میر علی تک معصوموں کی شہادت
09:43 AM, 4 Jun, 2025