میں نے ٹیکس کے حوا لے سے کہیں ایک امریکی مزاحیہ اداکارکی ایک لائن پڑھی کہ موت اور ٹیکس میں صرف یہ فرق ہے کہ موت کانگریس کی ہر میٹنگ کے بعد مزید بدتر نہیں ہوتی۔ پاکستان میں کانگریس تو نہیں لیکن ہر سال جون میں قومی اسمبلی سے بجٹ پاس کرایا جاتا ہے جس میں اصل خبر ٹیکس میں مزید اضافے کی ہوتی ہے۔ پچھلے تین برسوں میں پیٹرولیم لیوی، بجلی و گیس بلوں کے ٹیکس، انکم ٹیکس، سپر ٹیکس سمیت بے شمار ٹیکسز میں اضافے کی بھرمار نے عام پاکستانی کی معاشی حالت بدترین کردی ہے۔ اس بار بھی حکومت اگلے چند دن میں بجٹ 2025-26پیش کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ اس حوالے سے مختلف طبقات حکومت کے سامنے اپنا مؤقف رکھ رہے ہیں۔ ٹیکس دینے والے ریٹیلرز سے لے کر کارپوریٹ کاروباری طبقہ اور صنعتی طبقہ سے لے کر کسانوں تک، سب حکومت کو بجٹ کے حوالے سے تجاویز دے رہے ہیں کہ کیسے ٹیکس نظام کو منصفانہ بنایا جائے۔
پاکستان میں ٹیکس نظام کا بنیادی مسئلہ ٹیکس نیٹ کا محدود ہونا ہے۔ ہمارے ملک میں ٹیکس صرف ان لوگوں یا کاروباروں سے وصول کیا جا رہا ہے جو پہلے سے ہی ٹیکس نیٹ میں موجود ہیں۔ ایف بی آر پچھلے کئی برس سے انہی لوگوں کے ٹیکس ریٹ میں اضافہ کرکے اپنے ٹارگٹس حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ لاکھوں افراد اور کاروبار جو قابل ٹیکس آمدن رکھتے ہیں، مکمل طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ ایسے میں حکومت جب آمدن بڑھانے کے لیے پہلے سے رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالتی ہے تو اس سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوتے ہیں بلکہ مجموعی طور معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ نتیجتاً ایک وقت کے بعد مجموعی ٹیکس محصولات میں بھی کمی آنا شروع ہوجاتی ہے۔
ٹیکس کے حوالے سے ایک امریکی معاشی ماہر آرتھر لیفر نے اپنا ایک نظریہ پیش کر چکے ہیں جسے لیفر کرو کہاجاتا ہے۔ اس کے مطابق ٹیکس کی شرح مناسب ہونی چاہیے، نہ بہت زیادہ اور نہ بہت کم۔ ٹیکس میں حد سے زیادہ اضافہ معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور بالآخر ٹیکس آمدن میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
لیفر کرو یہ بتاتا ہے کہ اگردرمیانی سطح کی ٹیکس شرح ہوتو حکومت کو زیادہ سے زیادہ آمدن حاصل ہوتی ہے۔ لیکن شرح ٹیکس بہت زیادہ ہوجائے تو حکومت کی آمدن بتدریج کم ہونے لگتی ہے۔ کیونکہ جب حکومت چند ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالتی ہے، جیسے کہ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح میں بے حد اضافہ یا سیلز ٹیکس بڑھا کر زیادہ آمدن حاصل کرنے کی کوشش کرے تو اس کے منفی نتائج نکلتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ان فارمل اکانومی کا حجم بہت بڑا ہے۔ حکومت کا اس وقت سارا دباؤ فارمل اکانومی میں موجود ٹیکس دہندگان پر ہے جبکہ معیشت کے ایک بڑا حصہ، جو ان فارمل اکانومی پر مشتمل ہے، کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے وہ اقدامات نہیں کررہی جو کرنے چاہئیں۔ جس کے نتیجے میں غیر رسمی معیشت مزید پھیل رہی ہے۔ ٹیکس رجسٹرڈ کاروبار، اپنے آپ کو غیر رجسٹرڈ کاروبار کے مقابلے میں کمزور محسوس کرتے ہیں کیونکہ انہیں مہنگی قیمتوں، زیادہ ٹیکسز اور سخت قوانین کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نتیجتاً وہ ان فارمل اکانومی کا حصہ بن جاتے ہیں یا کاروبارہی بند کر دیتے ہیں۔
میں چونکہ ریٹیلرز کمیونٹی سے رابطے میں رہتا ہوں اس لیے بتاسکتا ہوں کہ درجنوں برانڈز جو ٹیکس کمپلائنٹ تھے وہ صرف اس بنیاد پر بند ہوگئے کہ کاروباری لاگت میں انتہائی اضافہ ہو گیا تھا۔ جب کوئی ایک برینڈ بند ہوتا ہے تو اس سے منسلک سپلائی چین کی کئی صنعتیں شدید متاثر ہوتی ہیں۔ زیادہ تر کاروبار اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کردیتے ہیں۔ پاکستانیوں کے دبئی اور دیگر ممالک میں سرمایہ منتقل کرنے کی خبروں سے کون واقف نہیں۔ نتیجتاً معیشت میں جمود، بیروزگاری میں اضافہ اوراشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ عوام کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے، اشیا ضروریہ کی فروخت میں کمی سے حکومت کو سیلز ٹیکس اور دیگر محصولات کی مد میں کم آمدن حاصل ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں درست اقدامات کرنے کی بجائے ٹیکس بڑھانے کی روش سے حکومتی آمدن بڑھنے کی بجائے کم ہوتی ہے۔
غیرمنصفانہ ٹیکس نظام کے منفی اثرات صرف کاروباروں پر ہی نہیں پڑتے بلکہ اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری کا ہوتا ہے۔ حال ہی میں حکومت عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا ریلیف عوام کو دینے کی بجائے پیٹرولیم لیوی کو تاریخی اضافے کے ساتھ 78 روپے فی لیٹر کرچکی ہے۔ خبروں کے مطابق حکومت اگلے چند ماہ میں پٹرولیم لیوی 100 روپے فی لیٹر تک لے جانے کی تیاری کررہی ہے۔ حکومت وعدے کے باوجود بجلی کی قیمتوں میں مطلوبہ کمی نہیں لاسکی۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں کے تعین میں غیر متوازن طریقہ کار اور بلوں میں موجود سلیب کی وجہ ٹیکسوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ کسان دشمن پالیسیوں اور زرعی ٹیکس کے نفاذ سے آنے والے دنوں میں زرعی پیداوار بھی بتدریج شدید متاثر ہونے کی خدشات ہیں۔ ہم دنیا کی فوڈ باسکٹ بننے کی بجائے اپنی باسکٹ میں دنیا سے امداد کے طلبگار بنے ہوئے ہیں۔ اب آپ اندازہ لگائیں کہ ایک ایسا ملک جہاں کسان کھیتی کے لئے تیارنہ ہو اور کاروبار پروان چڑھنے کی بجائے الٹا بند ہو رہے ہوں۔ وفاقی وزیر پلاننگ احسن اقبال صاحب کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اپنا ریونیو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ریونیو ٹیکس نیٹ میں موجود افراد پرمزید بوجھ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسیشن میں اضافے کے ذریعے ہو گا؟ کیونکہ حکومت کی کوئی بھی پالیسی یا توجہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے، موجودہ بزنسز اور زراعت کو آسانیاں فراہم کرنے پر نہیں ہے۔ کیا یہ عوام جو پہلے ہی غربت اور بے روزگاری کے ستائے ہوئے ہیں مزید ٹیکسوں کا بوجھ اٹھا سکیں گے؟ ۔
حکومت کویہ بات سمجھنا ہوگی کہ مسئلے کا حل یہ نہیں کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالا جائے بلکہ حل یہ ہے کہ ٹیکس ریٹ کو کم اور نیٹ کو وسیع کرے۔ 10 سال کی ٹیکس پالیسی کااعلان کیا جائے۔ حکومت اپنے اخراجات کم کرے۔ کاروباراور زراعت کو تحفظ فراہم کرنے کی طویل مدتی پالیسی اپنائے کیونکہ اس وقت حکومتی رویے اور پالیسیوں نے کاروباری طبقات کو بددل کیا ہوا ہے۔ اگر کاروباری طبقات پر دباؤکی یہی صورتحال رہی تو حکومت کو ٹیکسز اور شرح نمو کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہوں جائیں گے۔
جب تک پاکستان میں ''کم لوگ، زیادہ ٹیکس'' کی پالیسی جاری رہے گی، معیشت دباؤ کا شکار رہے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ''زیادہ لوگ، مناسب ٹیکس'' کی پالیسی اپنائی جائے تاکہ ایک وسیع بنیاد پر ٹیکس وصولی ممکن ہو اور معیشت مستحکم ہو سکے۔
انڈے کھائیں، مرغی ذبح نہ کریں؟
09:41 AM, 4 Jun, 2025