29ستمبر2016کا دن تھا جب ہندوستان کے پردھان منتری نریندرامودی نے پنجاب کے شہر بٹھنڈا میں ایک جلسے سے خطاب کیا اور بار بار یہ بات دہرائی کہ پاکستان کو جانے والا پانی ہندوستان کاہے اور وہ یہ پانی پنجاب کے کسانوں کو واپس دلوائے گا۔مودی نے یہ بھی کہا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے ۔بہت سے لوگو ں نے اس کو جذباتی تقریرسمجھ کر نظر اندازکردیا لیکن یہ اس منصوبے کا اظہار تھا جو ہندوستان سندھ طاس معاہدے سے نکل کر پاکستان کو بنجر بنانے کا بناچکا تھا۔کہانی بٹھنڈا کی اس تقریر سے پہلے شروع ہوتی ہے۔نریندرمودی نے وزیراعظم بننے کے کچھ عرصہ بعد یہاں پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کا منصوبہ بنایاوہیں پاکستان کا پانی روکنا بھی اسی سازش کا بڑا حصہ تھا۔مودی نے پاکستا ن کا پانی روکنے کے لیے جب اپنی کچن کابینہ سے مشاور ت کی تو اس میں مختلف تجاویز سامنے آئیں ۔تجاویز کا مقصد سندھ طاس معاہدے کو توڑنے کا جواز تراشنا تھا۔اس مشاورت میں چناب کے پانی کا رخ موڑ کر بیاس میں ڈالنا ،چناب پر ضرورت سے زیادہ ڈیمز بنانا اور مختلف جگہوں پرسرنگیں بناکر پانی کا رخ موڑنا شامل تھا۔
اسی سال نومبر میں سارک کا سربراہی اجلاس پاکستان میں طے تھا۔سارک کانفرنس کا خاتمہ اور پاکستا ن کے پانی کوروکنے کے لیے ہندوستا ن کو ایک بڑے بہانے کی تلاش تھی۔مودی نے را کے چیف سمت گوئل کو طلب کیا اس کو منصوبے کی کچھ تفصیلات بتائیں تو مودی کو ایک تگڑا جواز فراہم کرنے کے لیے فالس فلیگ آپریشن کا فیصلہ کرلیاگیا۔میں پندرہ ستمبردوہزار سولہ کو ایک کانفرنس کے لیے دلی میں تھا ۔ امریکی ادارے ایسٹ ویسٹ سنٹر کی طرف سے ساو¿تھ ایشاڈائیلاگ میں میرے سمیت سارک ممالک کے صحافی دلی کے ایک فائیو اسٹارہوٹل میں جمع تھے۔بھارت کی ایک سینئر خاتون صحافی نے مجھے مخاطب کیا اور کہا کہ چودھری صاحب پاکستان میں سارک کانفرنس نہیں ہوگی!میں نے تعجب کا اظہار کیا ۔پوچھا یہ آپ کی خواہش ہے یا خبر ؟ بولیں جو مرضی سمجھ لیں ۔سارک کانفرنس نہیں ہوگی۔اس وقت کے معروضی حالات اور پاکستان کی کانفرنس کے لیے تیاری دیکھ کر اس بات پر یقین کرنا مشکل تھا لیکن سولہ ستمبر کو میں واپس پاکستان پہنچا تو دودن بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ”اڑی “ میں واقع کیمپ میں ایک دھماکا ہوتا ہے اور اس حملے میں ہندوستان کے انیس فوجی مارے گئے ۔
مودی کو مطلوبہ جواز مل چکا تھا۔اس حملے کو جواز بناکر مودی نے بنگلہ دیش کی حسینہ واجد اور نیپال کے صدر کو فون کیا اور سارک کانفرنس کے بائیکاٹ پر راضی کرلیا۔دیکھتے ہی دیکھتے باقی سارک ممالک نے بھی کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا یوں سارک کا فورم تباہ ہوگیا۔وہ دن گیا اور آج کا آیا سارک کا فورم ختم ہوگیا۔پاکستان نے سارک کانفرنس منعقد کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود رہی۔”اڑی ناٹک“کا پہلا مقصد پورا ہوچکا تھا اب دوسرے مقصد یعنی سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی باری تھی۔ سارک کو ختم کرنے کے بعد اگلے ہفتے مودی نے بٹھنڈا میں پاکستان کا پانی روکنے کا اعلان کردیا ۔
پانی روکنے کے لیے مودی نے ایک ہائی پاورڈ ٹاسک فورس بنادی جس کے کنونیئر مودی کے پرنسپل سیکرٹری پرمود کمارمشرا کو بنایا گیا۔ یہ مشرا وہی شخص ہے جس کومودی گجرات سے لائے تھے جو گزشتہ بارہ سال سے مودی کا پرنسپل سیکرٹری ہے ۔اس ٹاسک فورس میں مقبوضہ کشمیر اور پنجاب کے چیف سیکریٹری کے ساتھ ساتھ پانی کے سیکریٹری اور وزیر بھی شامل ہیں۔یہ ٹاسک فورس گزشتہ دس سال سے پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبے پر مسلسل تجاویز دیتے آئی ہے ۔نریندر مودی باقاعدگی سے اس ٹاسک فورس کے اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں اور منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیتے آئے ہیں ۔
پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر جماعت علی شاہ کو خرید نا بھی اسی منصوبے کا حصہ تھا۔ہمارا انڈس واٹر کمشنر ہندوستان کی مٹھی میں آگیا اور ہم بے خبر رہے ۔چناب پر ڈیم بنتے رہے اور ہم دیکھتے رہے ۔سندھ طاس معاہدے میں رہتے ہوئے غیر قانونی ڈیم بنانا ہندوستا ن کے لیے ممکن نہیں تھا۔پانی کا رخ موڑنا عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھی اس لیے اب وقت آگیا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کردیا جائے ۔اس کے لیے ایک اور بڑے جواز کی ضرورت تھی۔یہ جواز ایک اور فالس فلیگ کا تقاضا کرتا تھا اس کے لیے دوبارہ مشاورت ہوئی ۔ٹاسک فورس نے بتایا کہ منصوبہ تیار ہے بس آپ اعلان کے لیے جواز گھڑیں۔مودی نے پھر ”را“ کوٹاسک دیا ۔فالس فلیگ کے لیے پھر مقبوضہ کشمیر کو چنا گیا اور بائیس اپریل دوہزار پچیس کو پہلگام میں اپنے شہری ماردیے ۔بائیس اپریل کو پہلگام کا فالس فلیگ ہوا اورتیئس اپریل کو ہندوستان نے جو پہلا اعلان کیا وہ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا تھا۔مودی کو پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دس سال لگے جس کے لیے دو فالس فلیگ آپریشن کیے گئے ۔اپنے فوجی اور سویلین کی بلی چڑھائی گئی ۔
آپریشن سندور میں عبرتناک شکست کے بعد ہندوستا ن پاکستان کو تنہا کرتے کرتے خود دنیا میںتنہا ہوگیا۔معرکہ حق میں فتح نے سندھ طاس معاہدے سے نکلنا ہندوستان کے لیے مشکل کردیا ہے۔اگر آپریشن سندور کا نتیجہ خدا نخواستہ کچھ اور ہوتا تو ہندوستان پاکستان کا پانی مکمل بند کرچکا ہوتا کیونکہ دس سال کی تیاری صرف اس مقصد کے لیے کی گئی تھی ۔گزرے ایک سال میں سیلاب اورپانی کی کمی دیکھ کر پاکستا ن کو مکمل احساس ہوچکا کہ ہندوستان کا منصوبہ اصل میں کیا ہے۔ایک سال میں پاکستان نے قانونی راستوں کا انتخاب کیا جو تمام فیصلے پاکستان کے حق میں آئے لیکن ہندوستان فیصلوں پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہے تو اب سفارتی مہم کا آغاز کیا گیا۔اسلام آباد میں اس ہفتے انڈس واٹر سیمنار اسی سلسلے کی کڑی ہے۔اس سیمینارمیں روس ، چین اور یورپ سمیت دنیا بھر کے واٹر ایکسپرٹس کو بلایا گیا۔سب نے پاکستان کے پانی کے حق کو تسلیم کیا ۔اب یہ پانی کی مہم مزید تیز ہوگی ۔دنیا کے سامنے پاکستان اپنا پانی کا مقدمہ رکھے گا۔پاکستان پانی روکنے کو جنگی اقدام قرار دے چکا جس کا مقصد بہت واضح ہے کہ اپنے حق کا پانی حاصل کرنے کے لیے پاکستان ایک اور معرکہ حق کے لیے بھی تیار ہے۔
اس وقت دنیا ہمارے ساتھ ہے ۔دنیا پاکستا ن کے پانی کا حق تسلیم کرتی ہے اور ہندوستان کے اقدام کو غیر قانونی قراردیتی ہے۔پہلے مرحلے میں سفارتی چینلزکے ذریعے دنیا کو اپنا کیس سمجھایا جائے گا ۔پھر عالمی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں لے جایا جائے گا لیکن اگر ہندوستان ہٹ دھرمی پر قائم رہتا ہے تو پھر ایک اور معرکہ حق کا آپشن کھلا ہے۔
ایک منصوبہ دو فالس فلیگ
09:32 AM, 5 Jul, 2026