بلاشبہ حادثات زندگی کا حصہ ہیں اور انہیں خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن افسوس اور غصہ کی صورتحال اس وقت بنتی ہے جب کوتاہی ، لالچ یا لاپرواہی کی وجہ سے کوئی ایسا حادثہ پیش آ جائے جس میں انسانی جانوں بالخصوص بچوں کا نقصان ہو ۔ گزشتہ چند روز میں پیش آنے والے یہ سانحات ہمیں ایک تلخ حقیقت کا احساس دلا رہے ہیں کہ ہمارے ہاں تعلیم کے معیار یا اس کے سستا اور مہنگاہونے پر تو بہت بات ہوتی ہے لیکن تعلیمی اداروں بالخصوص ٹیوشن سینٹرز اور چھوٹے لیول پر چلائے جانے والے سکولوں میں عملہ اور طالبعلموں کے لیے محفوظ ماحول مہیا کرنے پر ضرورت سے بہت کم توجہ ہے۔
مسئلہ ایک یا دو اداروں کا نہیں بلکہ نظام کی اس کمزوری ہے جس میں ہر شخص اپنی ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر مطمئن ہو جاتا ہے۔ ٹیوشن سینٹر کا مالک سمجھتا ہے کہ اگر اسے کاروبار کرنے کی اجازت مل گئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ عمارت کے معیار کی خیر ہے، محکمہ تعلیم سمجھتا ہے کہ عمارت کی جانچ پڑتال اس کی ذمہ داری نہیں، ضلعی انتظامیہ کا خیال ہوتا ہے کہ جب تک کوئی شکایت نہ آئے کارروائی کی ضرورت نہیں ، بلدیاتی ادارے اپنی الگ ذمہ داری بیان کرتے ہیں۔ یوں ذمہ داری مختلف اداروں کے درمیان تقسیم تو ہو جاتی ہے لیکن جوابدہ کوئی بھی نہیں رہتا۔
ٹیوشن سینٹر اور پرائیویٹ سکول مالکان کو یہ بات جانے کون سمجھائے گا کہ کسی عمارت میں صرف کرسیاں اور وائٹ بورڈ رکھ دینے سے وہ تعلیمی ادارہ نہیں بن جاتا۔ بچوں کی جان کی حفاظت بھی اسی ادارے کی ذمہ داری ہے۔ اگر عمارت خستہ حال ہے تو پہلے اس کی مرمت ہونی چاہیے، اگر تعمیراتی کام ناگزیر ہے تو کلاسیں عارضی طور پر کسی محفوظ جگہ منتقل کی جانی چاہیں۔بے شک چند دن کی مالی قربانی مشکل محسوس ہو، لیکن اس کے بدلے کئی زندگیاں محفوظ رہ سکتی ہیں۔
نجی سکولوں اور ٹیوشن سینٹروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مگر ان کی نگرانی کا نظام اسی رفتار سے مضبوط نہیں ہو سکا۔ ہر ضلع میں ایسے مراکز کی فہرست موجود ہونی چاہیے، ان کی رجسٹریشن، عمارت کی حالت اور حفاظتی معیار کا مکمل ریکارڈ ہونا چاہیے۔ سال میں ایک بار نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق اچانک معائنے بھی ہونے چاہئیں تاکہ کوئی ادارہ صرف کاغذوں میں حفاظتی معیار پورا نہ کرتا رہے۔
ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اس کے پاس اختیار بھی ہے اور وسائل بھی۔ اگر کسی عمارت کو غیر محفوظ قرار دیا جائے تو اسے فوری طور پر خالی کرایا جا سکتا ہے۔ اگر تعمیراتی کام حفاظتی اصولوں کے خلاف ہو رہا ہو تو اسے روکا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی مالک بار بار ہدایات نظر انداز کرے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی بھی ممکن ہے۔
بچے کسی بھی ملک کا مستقبل ہوتے ہیں لہٰذا ان کی جان کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز جس طرح ہر معاملہ میں پرفیکشن کو یقینی بناتی ہیں اور مختلف ٹاسک فورسز کے ذریعے بہترین نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں اگر اسی طرح تعلیمی اداروں میں ایک محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے بھی کوئی ٹاسک فورس قائم کر دی جائے تو شائد نتائج بہتر انداز میں اور زیادہ تیزی سے حاصل کیے جا سکیں۔ والدین کو بھی بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ درست ہے کہ ہر شخص انجینئر نہیں ہوتا، لیکن اتنا تو ضرور دیکھ ہی سکتا ہے کہ عمارت بوسیدہ تو نہیں؟ دیواروں میں نمایاں دراڑیں تو موجود نہیں؟ تعمیراتی کام تو بچوں کی موجودگی میں نہیں ہو رہا؟ کلاس روم ضرورت سے زیادہ بھرے ہوئے تو نہیں؟ اگر کسی جگہ خطرہ محسوس ہو تو خاموش رہنے کے بجائے فوری طور پر انتظامیہ سے بات کر سکتا ہے۔
میڈیا کا بھی یہ سٹائل بن چکا ہے کہ اس نے سیاست اور شوبز وغیرہ کو اپنی ترجیح بنا رکھا ہے اور تعلیمی اداروں میں ہونے والے حادثات کو ایک یا دو دن اہمیت دے کر پھر اپنے روائتی سٹائل کے مطابق کام شروع کر دینا ہے۔ نہ صرف میڈیا کو حساس معاملات پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے بلکہ سول سوسائٹی، والدین کی انجمنوں اور مقامی نمائندوں کو بھی اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم صرف افسوس کا اظہار کریں یا چند دن سوشل میڈیا پر غم و غصہ نکال کر خاموش ہو جائیںبلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان معصوم بچوں کی قربانی کو ایک ایسی تبدیلی کا ذریعہ بنایا جائے جس سے آئندہ کسی بچے کی جان ضائع نہ ہو۔ اگر ان سانحات کے بعد بھی ہماری ترجیحات نہ بدلیں تو پھر ہمیں انتظامیہ یا کسی ایک ادارے کو مورد الزام ٹھہرانے کا بھی کوئی حق نہیں ہونا چاہیے۔
ہر حادثے کے بعد ہمیں ایک جملہ بار بار سننے کو ملتا ہے کہ، ’ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔‘ ویسے تو یہ باتیں صرف بیان بازی کی حد تک ہی ہوتی ہیں اور آج تک اس قسم کے معاملات میں کسی بااثر شخصیت کو سزا نہیں ہوئی لیکن سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا سخت کارروائی سے وہ بچے واپس آ جائیں گے جو ان حادثات کا شکار ہو گئے؟ کیا کسی ماں کی خالی گود پھر سے بھر جائے گی؟ کیا کسی باپ کے ٹوٹے ہوئے خواب دوبارہ جڑ جائیں گے؟ یقیناً نہیں۔ اس لیے اصل کامیابی سزا دینے میں نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنے میں ہے کہ سزا دینے کی نوبت ہی نہ آئے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کاہنہ کا دورہ کرنا ، جان بحق ہونے والے بچوں کے والدین سے تعزیت کرنا اور انہیں امدادی چیک دینا بھی ایک قابل تعریف عمل ہے۔ امید ہے بات امدادی چیکوں کی حد تک نہیں رکے گی بلکہ صوبہ بھر میں طالبعلموں کی ہر ممکن حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات یقینی بنائے جائیں گے۔ ہمیں بھی بحیثیت قوم یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم حادثات گننے والی قوم بننا چاہتے ہیں یا حادثات روکنے والی ۔ اگر آج یہ فیصلہ کر لیا جائے تو شاید آنے والے دنوں میں جب کوئی بچہ تعلیم کے حصول کے لیے گھر سے نکلے گا تو اس کے والدین کو یہ یقین ہو گا کہ وہ شام کو محفوظ واپس لوٹ آئے گا۔ یہی یقین ایک اعلیٰ معاشرے کی پہچان بنے گا۔
طالبعلموں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہو گا
09:25 AM, 5 Jul, 2026