زمین سے آسمان تک مذاکرات

09:26 AM, 5 Jul, 2026

پاکستان اور بھارت میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ایک سو سے زیادہ افراد نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کو دونوں ممالک کے درمیان بات چیت یعنی ڈائیلاگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم ابھی تک اس ڈائیلاگ یا مستقبل کے مذاکرات پر دونوں ممالک نے سرکاری سطح پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ 
ان سو افراد کی جاری کردہ فہرستوں کا جائزہ لیا جائے تو اس میں سیاسی شخصیات سمیت دفتر خارجہ کے افسران بیوروکریٹس، سابق وزراءسفیر اور عسکری قیادت کے سینئر ترین نام شامل ہیں۔ دراصل گزشتہ ہفتے سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ایک ادارے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسٹراٹیجک اسٹڈیز نے پاکستان اور بھارت کے درمیان غیر رسمی ڈائیلاگ کروایا ہے جسے بھارتی مبصرین نے ٹریک ٹو ڈائیلاگ کہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے پاکستان کی نمائندگی کرنے والوں نے میڈیا بیان دینے سے گریز کیا ہے۔ 
کولمبو کے مشہور ہوٹل میں پاک و بھارت ٹریک ٹو مذاکرات کی ایک اہم نشست عشائیے پر ہوئی جس میں امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر سینیٹر شیری رحمان سمیت دو افسران شریک تھے۔ بھارت کی جانب سے سابق آرمی چیف جنرل منوج مکھر نروانے سمیت دو افسران تھے۔ اس نشست میں پاکستان اور بھارت کے مابین ڈیڈ لاک ختم کرنے پر سیرحاصل گفتگو کی گئی جو امریکی سیکرٹری کی موجودگی میں ہوئی ہے۔ بھارتی ذرائع کے مطابق بھارتی سابق آرمی چیف جنرل منوج مکھر نروانے نے اپنی قیادت میں ٹریک ٹو بیک ڈور مذاکرات کو کامیاب قرار دیا ہے۔ 
اگر بھارت کے اندر دیکھا جائے تو وہاں ہندووں کی مذہبی انتہا پسندی کی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اس حوالے سے بہت متحرک ہے۔ گزشتہ ماہ آر ایس ایس کے جنرل سیکرٹری دتاتریہ ہوسابلے نے بھارت اور پاکستان کے درمیان سردمہری ختم کرنے اور اس کے لئے بھارت کی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ جس کے بعد سابق آرمی چیف جنرل منوج مکھر نروانے نے کھل کر پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت بحال کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا دونوں ممالک کے درمیان جنگ آپشن نہیں ہونا چاہیے۔
میڈیا خبروں پر نظر ڈالی جائے تو امریکہ، ایران جنگ بندی کے ساتھ ہی پاکستان اور بھارت کے مابین بیک ڈور مذاکرات کی باز گشت تیز ہوئی ہے۔ مگر پاکستان اور بھارت دو ایٹمی ہمسائے ہیں جنہوں نے ایک سال پہلے مئی دو ہزار پچیس میں جنگ لڑی ہے اور اس وقت سفارتی تعلقات تعطل کا شکار ہیں۔
ایک طرف بھارت نے سندھ طاس معاہدہ ایک سال سے معطل کر رکھا ہے اور پاکستان کے دریاﺅں کا پانی روک رکھا ہے تو دوسری جانب پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لئے اپنی ایئر سپیس بند کر رکھی ہے۔ یعنی دونوں نے ایک دوسرے کا زمین سے آسمان تک جینا حرام کر رکھا ہے۔ 
بین الاقوامی سطح پر جنوبی ایشیائی خطے میں امن نہ ہونا ایک سنگین مسئلہ ہے جسے امریکا بھی بخوبی سمجھ رہا ہے اور بیک ڈور ڈائیلاگ انتہائی اہم ہیں۔ بھارت کو سعودی عرب کی جانب سے سخت تنبیہ جاری کی گئیں کہ اب بھارت کسی بھی فالس فلیگ آپریشن اور دہشت گردی کے واقعے کے بعد یکطرفہ طور پر پاکستان پر جھوٹا الزام لگانے سے گریز کیا جائے۔ 
بھارت کے اندر نوجوان نسل کے مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج جنہیں باقاعدہ طور پر کاکروچ جنتا پارٹی کا نام دیا گیا ہے انہیں احتجاج کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں لداخ کے کلائمیٹ ایکٹیویسٹ سونم وانگ چگ کو ان ملک گیر احتجاجی مظاہروں کو لیڈ کرنا کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ یہ سب بھارت کا عالمی امیج بہتر کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ بھارت کے اندرونی مسائل اور ملک میں مسلمانوں کا قتل عام ، مذہبی انتہا پسندی ، بی جے پی کی پالیسی بھارت کی عالمی تنہائی کا سبب ہیں جس سے اب بھارت کو نکالنے کے لئے نوجوانوں کی تحریک کو جگہ دی گئی یے۔ اب بھارتی اسٹیبلشمنٹ کو سمجھ آ چکی ہے کہ بھارتی جنتا پارٹی کے بیانات اور سخت گیر پالیسیاں بھارت کو نقصان دے رہی ہیں۔ جس کے لئے آر ایس ایس کو ایکٹو کیا گیا ہے جو بی جے پی کی سربراہ تنظیم ہے۔ 
سال دو ہزار چھبیس میں فروری میں قطر کے شہر دوحہ میں یو کے تھنک ٹینک نے پاکستان اور بھارت کے مختلف افراد کو ڈائیلاگ کے لئے مدعو کیا تھا۔ اس میں پاکستان اور بھارت نے بھرپور شرکت کی تھی۔ جس کے بعد کولمبو میں ٹریک ٹو ڈائیلاگ منعقد ہوا ہے۔
دیکھنے میں تو یہ صرف سو لوگ ہیں مگر یہ سو لوگ نہیں بلکہ سو آوازیں ہیں جنکی گونج دونوں ممالک تک ہے۔

مزیدخبریں