مودی سرکار اس وقت پوری دنیا میں اپنی ساکھ بچانے کی کوشش میں ہے۔ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں سے خائف بھارت کی نیندیں اڑ چکی ہیں۔ مودی سرکار گویا پوری دنیا میں اپنی رہی سہی عزت بچانے کی کوششوں میں تو ہے مگر اسے کہیں سے بھی کوئی کامیابی نہیں مل پارہی۔ جس ملک کے خلاف دہشت گردی کا لیبل لگانے کی سازش کی وہ ملک یعنی پاکستانی سفارتی لحاظ سے دنیا بھر میں کلیدی پوزیشن پر آگیا۔ جہاں امریکا اور ایران کی ثالثی کی بات ہوئی پاکستان کا نام آیا۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا نام گونجا۔ یہی وہ کامیابیاں تھیں جس پر مودی سرکار پھر سے حواس باختہ ہوگئی اور پاکستان کے خلاف سازشوں کا سلسلہ تیز کر دیا۔ کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو تیار کیا گیا مقصد صرف یہی تھا کہ پاکستان میں امن خراب کیا جائے ، سازش کا نیا جال پھیلایا جائے۔ مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام باشعور ہیں۔ وہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی چالوں کا شکار نہیں بنے۔ سب نے سمجھ لیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ایجنڈا کیا تھا۔ عوام کو اکسانے کی کوشش کے دوران تانے بانے بھارت سے جا ملے۔ جیسے بھارت بلوچستان میں شر انگیزی پھیلانا چاہتا تھا یہی شر انگیزی پاکستان کے دوسرے حصوں میں پھیلانے کی سازشیں کی گئیں۔ انہی بڑھتے چیلنجز اور بھارتی چالوں پر پاکستان کے عوام نظر رکھے ہوئے ہیں۔ میڈیا انفلوئنسرز کے ساتھ اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کی بھارت کے موضوع پر اہم نشست ہوئی ہے جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے پورے خطے بالخصوص پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے پر لگا ہوا ہے۔ بھارتی قیادت زمینی حقائق تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔ بھارت ایک ہندوتوا زدہ ناکام ریاست ہے تاہم اسے اپنے آپ کو بڑا دکھانےکی عادت ہو چکی ہے۔ بھارتی ریاست کی ناکامی کی وجوہات بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور مذہبی شدت پسندی ہے۔ اکھنڈ بھارت کاغیر حقیقی خواب اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ ہندوتوا نظریہ نے بھارت کے سیکولر چہرے کو مسخ کردیا ہے۔ بھارت کی فوج بی جے پی کی متشدد اور مذہبی سیاست کی نذر ہو چکی ہے۔ تقسیم شدہ معاشرہ کی موجودگی میں بھارت کے شائننگ انڈیا ہونے کا نعرہ محض ایک ڈھکوسلہ ہے۔بھارت کی ریاست درحقیقت ایک پولیس اسٹیٹ کا نام ہے جس میں آزادی رائے اور فرینڈم آف پریس ریاستی کنٹرول میں رکھا جاتا ہے۔ دنیا کا اگلا سب سے بڑا قتلِ عام بھارت میں ہونے کا خدشہ ہے ،جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس قتل عام کی شدت غزہ اور فلسطین سے بھی بڑھ کر ہو گی۔ ہندوستان میں پائی جانے والی تفریق اور اقلیتوں پر ہونے والے ظلم و ستم ہندوستان کی مزید تقسیم کا شاخسانہ بنیں گے۔ ہندوتوا کے پیروکار یہ سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو بھی جینے کا حق ہے۔ بھارت کے مسلمانوں کے لیے زندہ رہنے کی پہلی شرط ہندوتوا سوچ کے سامنے اپنی وفاداری کا ثبوت دینا ہے۔اسی طرح مقبوضہ کشمیرکے عوام دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاو¿نی میں محصور ہیں جہاں ہر سات سے آٹھ افراد پر ایک فوجی اہلکار تعینات ہے۔ بھارت آزادی کی تحریکوں کو چھپانے کیلئے پاکستان کا نام لے کر مختلف فالس فلیگ کا ڈھونگ رچاتا ہے جس کا مقصد دنیا کی توجہ بھی ہٹانا ہے۔ بھارتی جنونیت اور اجارہ داری ایک مضبوط، خوشحال اور معتدل پاکستان کواپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ پاکستان کے استحکام اور ترقی کوہندوتوا کے پیروکاراپنی موت سمجھتے ہیں اسی وجہ سے بھارتی میڈیا اور سیاست دونوں پاکستان اور پاکستان کی افواج کے بارے میں بیانیہ بنانے میں الجھے رہتے ہیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ پاکستان میں پیش آنے والے کسی بھی واقعہ پر بھارتی میڈیا الرٹ ہوجاتا ہے اور بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کرتا ہے ، لمبی چوڑی ٹرانسمیشنز کرتا ہے ، نام نہاد بھارتی صحافی میدان میں اتر آتے ہیں اور پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف یہی ہوتا ہے کہ ایک بیانیہ تشکیل دیا جائے تاکہ بھارتی عوام بھی پاکستان کے وجود سے نفرت کریں ، ان کے دل و دماغ میں پاکستان کی نفرت ایسے ہی بڑھتی رہی ، درحقیقت یہی ہندو توا کلچرہے جو کسی بھی دوسرے مذہب کو برداشت نہیں کرتا۔ اس ہندوتوا کا سب سے بڑا پرچار کرنے والا گجرات کا قصائی نریندر مودی ہے جو امن کا لبادہ اوڑھ کر سب سے بڑا دہشت گرد بن چکا ہے۔ اگر آپ باریک بینی سے مشاہدہ کریں تو پاکستان کے اندر کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سرکردہ لیڈر شپ بھی آپ کو بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا نظر آئے گی۔ یہ بھارتی چالیں ہی ہیں جو پاکستان میں بے امنی کا تاثر دینا چاہتی ہیں تاکہ حالات خراب ہوں مگر سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ ریاست پاکستان اور اس کے عوام بھارت سے نہ کبھی مرعوب تھے اور نہ ہی کبھی ہونگے۔ ملک کے اندر موجود انتشاری ٹولے کو بھی ہوش کے ناخن لینا چاہیں یا ریاست مخالف بیانیہ سے گریز کرنا چاہیے۔
مکار بھارت کی بڑھتی شر انگیزی
08:55 AM, 4 Jul, 2026