اسلام آباد : وزیراعظم کی ہدایت پر ایران اور عراق جانے والے زائرین کے مسائل حل کرنے کے لیے خصوصی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس کی سربراہی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر مذہبی امور، دیگر وزراء اور مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران نے بھی حصہ لیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایران کے لیے پروازوں کی تعداد بڑھا کر ہفتے میں 6 سے 15 کر دی جائے گی۔ عراق کے لیے بھی اربعین کے موقع پر 107 خصوصی پروازیں چلائی جائیں گی۔ مزید پروازوں کے اضافہ پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
زائرین کی سہولت کے لیے فیری سروس شروع کرنے کا منصوبہ بھی بنایا جا رہا ہے۔ عاشورہ کے بعد عراق میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لے کر زمینی راستے سے سفر کی اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ حکومت زائرین کی حفاظت کو سب سے اہم سمجھتی ہے اور ان کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ یکم جنوری 2026 سے زائرین صرف گروپ آرگنائزرز کے ذریعے ہی زیارت کے لیے جا سکیں گے اور سالار سسٹم کو ختم کر دیا جائے گا۔ اب تک 1413 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن کی جانچ جاری ہے۔
وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے اور دیگر ادارے غیر قانونی طور پر عراق جانے والے افراد کو روکنے کے لیے سخت کارروائی کریں۔