چھ سات ماہ قبل اپنی اہلیہ کے پیر کے انگو ٹھے کے علاج کی غرض سے ایک فلاحی ادارہ’’ دلاور حسین فائونڈیشن‘‘ کے تحت چلنے والے ڈائی بیٹک سنٹر(DiabeticCentre) جانے کا اتفاق ہوا تو اندازہ ہو ا کہ یہ ادارہ شوگر کے مر یضو ں کیلئے اللہ تعالی کی خا ص رحمت ہے جہاں سے شوگر مریض اپنے اعضا بچا سکتے ہیں۔اس ادارہ میں مجھے ایک منظم سسٹم دکھائی دیا ،صا ف ستھرے ما حول والے اس ادارہ میں شوگر کے ہاتھوں زندگی سے بیزاراور تنگ مریضوں کے چہر وں پر واضح امید جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔مزید کوئی بات کرنے سے پہلے میں یہ بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ جب میںاور میری اہلیہ عمرانہ خان(سینئرانائو نسر، کمپیئر ، نیوز ریڈر، ریڈیو پاکستان، لاہور) کسی مہربان کی نشاندہی پر اس ادارے میں پہنچے تو اس وقت جناح ہسپتا ل سمیت کئی ایک بڑے چھو ٹے ہسپتالوں اور پر ائیویٹ کلینکس کے کچھ ڈاکٹر آدھا پیر کٹوانے کا مشور ہ دے چکے تھے لیکن میری اہلیہ کا کہنا تھا کہ چونکہ میرا دل نہیں مان رہا کہ میرا پیر میرا ساتھ چھو ڑ جائے گا اس لئے میںکیسے مان لو ں کہ اس کا واحد علاج یہ ہے کہ اس کوبیدردی سے کاٹ ڈالا جائے۔ا کثر دیکھنے اور سننے میں آتا ہے کہ کسی بھی شوگر پیشنٹ کو اتفاقی چوٹ لگ جائے تو زخم جلدی سے نہیں بھرتا اور عام طور پر اس کا سارا زور پائوں کے انگو ٹھے یا ایڑھی میں زخم بن جانے کی صور ت میں چلتا ہے۔ میری اہلیہ کا کہنا تھا کہ میں اس بات پر حیرت زدہ ہو ں کہ میڈیکل سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے ا س کے باو جود مذکورہ کیسزکا واحد اور حتمی حل کٹائو یعنی amputationہی کیوں ہے اور کیوں زیادہ تر ڈاکٹر زخم پر محض ایک ہلکی سی نظر ڈال کر یہ کہہ دیتے ہیںکہ اسے کاٹنا ہی پڑے گا۔کیا یہ اتنا ہی آسان ہے کہ ایک دو منٹ میں کسی انسانی عضو کو عضو معطل بنا کر جسم سے الگ کردیا جائے ماسوائے اس کہ کوئی عضو مکمل طور پر ڈیڈ ہی نہ ہو چکا ہو یا کسی مریض کے اس جیسے ادارہ میں آنے میں کچھ دیر ہو گئی ہو۔ گو کہ میری اہلیہ کے کیس میںبھی کچھ تاخیر ہو گئی تھی یعنی جب ہم یہاں پہنچے توپہلے ہی ر و ز ڈاکٹر واصف نور نے دو ٹوک بتا دیا تھا کہ پائوں کی حالت مکمل طور پر خر اب ہو چکی ہے البتہ پور ی کوشش کی جائیگی کہ اس کو بچا لیا جائے، ہاں انگو ٹھے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کیونکہ وہ مکمل طور پر ڈیڈ ہو چکا ہے ،ہاں اگر آپ کچھ رو ز بھی پہلے یہاں پر آجاتے تو شائداسے بھی بچایا جا سکتا تھا مگر اس سٹیج پر اسے کا ٹنا ہی پڑے گا اور آخر انگو ٹھا تو کٹ گیا مگر پیر بچ گیا۔میرا یہ کالم لکھنے کا واحد مقصد یہی ہے کہ بہت سے شوگر پیشنٹ اگر یہاں بر وقت یعنی جلد آجائیں تو وہ اپنے ہا تھ ،پائوں اور انگو ٹھے کٹنے سے بچا سکیں گے۔دلاور حسین فائونڈیشن(شو گر مینجمنٹ سنٹر )کلمہ چو ک سے چند گز کے فا صلہ پر فیر و ز پور ر وڈ پر ہی ماڈل ٹائون انڈر پا س کے شر و ع ہونے سے پہلے عین بائیںجانب سروس رو ڈ پر شرو ع میں ہی واقع ہے۔ اس سنٹر میں اہلیہ کے علاج کے دور ان یہاں آنیوالے کئی مریضو ں نے خود یہ بات بتائی کہ ان کے اعضا کٹنے سے بچ گئے لیکن مجھے پور ا اندازہ ہے کہ ابھی بھی شو گر کے سینکڑوں مریضوں کو اس ادارہ اور اس کی افادیت کا علم نہیں ہو گا۔یہ ادارہ زکوۃ اور عطیات پر چلتا ہے البتہ جو لو گ مخیر ہیں وہ پیسے دے کر بھی علاج کرا لیتے ہیں، بالکل جیسے شو کت خانم اور دیگر خیراتی اداروں میں نظام رائج ہے۔ اس فائونڈیشن کے قیام کا پس منظر کچھ اس طر ح سے ہے کہ 2011ء میں اس کی بنیاد گڑھی شاہو میں پہلے شو گر مینجمنٹ سنٹر کے قیام سے ڈالی گئی تھی۔ دو سرا مرکز فیر وز پور روڈ پر کلمہ چوک کے نزدیک اور تیسر ا مر کز قصور میں کھیم کرن رو ڈ پر قا ئم ہے۔ آج 2025ء تک اس ادارہ کے تحت مجمو عی طور پر380000سے زائد مر یضوں کا علا ج کیا جا چکا ہے۔ ادارہ کی بانی شخصیت دلاور حسین مرحو م کا تعلق قصور سے تھا۔ دلاور حسین مرحوم نے کنگ ایڈور ڈ میڈیکل کا لج سے ایم بی بی ایس کیا اور لاہور کے علاقے دہلی در وازہ میں ا یک فری ڈسپنسری قائم کی جو بعد ازاںان تینوں شوگر مینجمنٹ سنٹرز کے قیام کی بنیاد بنی۔ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ زبیدہ دلاور حسین نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔اب ان کے خاندان کے افراداور ساتھی ان کے مشن کو آگے بڑھانے میں پیش پیش ہیں۔ اگر بطور خاص ڈاکٹر واصف نور کا ذکر کیا جاتے تو وہ بے جا نہ ہو گا کیونکہ ڈاکٹر واصف نوریہاں کام کرنیوالے سب سے سینئر ڈائی بٹالوجسٹ یعنی ماہر امراض ذیابیطس (شو گر) ہیں جن کی بدو لت یہاں آنیوالے شوگر مریض ان کے ہاتھوں ہی صحت یاب ہو کر اور اپنے اعضا بچا کر اپنے گھروں کو خوشی خوشی واپس جاتے ہیں۔ڈاکٹر واصف نورگنگا رام ہسپتال کے شو گر ڈیپا ر ٹمنٹ کے سر براہ بھی ہیں۔اس ادارہ کی بنیادی حکمت عملی یہ ہے کہ شوگر سے متاثرہ زخم والے مریضوں کے خون میں شوگر کی مقدار بہترین لیول پر رکھی جائے اور زخم کی بلا نا غہ رو زانہ صفائی کی جائے جس میں ما ہر ڈاکٹر کے زیر نگرانی تربیت یافتہ عملہ زخم کی صفائی کرتا ہے ،نیز مریض کو سمجھایاجاتا ہے کہ اسے کس طر ح کے جوتے استعمال کرنے ہیں اور زخم ٹھیک ہو نے تک پائوں پر وزن نہیں ڈالنا۔ مستقل مزاجی سے علاج کرانیوالے مریض ہی شفا یاب ہو تے اور اپنے اعضا بچا لیتے ہیںور نہ تو پرائیویٹ ہسپتالوں میں لاکھوں روپے دیکر بھی مریضوں کو اپنے پائوں ،انگلیاں، ایڑھیاں ، گھٹنے اور ٹانگیں کٹواتے دیکھا گیا ہے۔اس فلاحی ادارہ کی سپیشلائزیشن یہاں کا فٹ کیئر کلینک ہے جہاں واقعی معجزات رو نما ہوتے ہیں۔یہ فٹ کیئر کلینک اس ادارہ کے انتہائی ماہر ڈر یسر جمیل مہر کی زبردست صلاحیتوں اور محنت کا مر ہو ن منت ہے۔ دلاور حسین فائونڈیشن کا ہائر سٹاف اور باقی کا عملہ مریضوں کیساتھ انتہائی خوش اخلاقی سے پیش آتا ہے۔ یہاںمر یضوں کے بیٹھنے کیلئے زبردست انتظام کیا گیا ہے ،مو سم گر ما میں مکمل اے سی کی سہو لت میسر ہے۔زیادہ ترشوگر مریضوں کا تعلق انتہائی غریب خاندانوں سے ہوتا ہے ، پھرلاتعداد مریض دور در از کے علاقوں سے بھی آتے ہیں جنھیں ادارہ کی فار میسی سے وافر مقدار میں مفت ادویات ملتی ہیں۔مریض اور ان کے لواحقین یقینی طور پر دلاور حسین مر حوم کیلئے دعائے خیر کرتے ہیں، پھر یہ فلا حی ادارہ دلاور حسین مرحوم کیلئے صدقہ جاریہ کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالی مر حوم کے در جات بلند فرمائیں۔ ادارہ کی اہمیت کے پیش نظرتجویز ہے کہ ادارے کے نام کیساتھ ا س کے حصے اور سلوگن کے طور پر یہ تحریردر ج کر دی جائے کہ ’’ ہم اعضا کاٹتے نہیں، بچاتے ہیں‘‘۔
دلاور حسین فائونڈیشن (شو گر مینجمنٹ سنٹر)
09:52 AM, 4 Jul, 2025