پیٹرولیم لیوی یا……

09:49 AM, 4 Jul, 2025

پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور یہ اضافہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کو جواز بنا کر کیا گیا ہے۔ جب کہ حالیہ ایران اسرائیل جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 65 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 80ڈالر فی بیرل ہو گئی تھیں اور اب وہ پھر واپس 65 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہیں اور توقع یہی کی جا رہی تھی کہ اب حکومت تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی کرے گی کیونکہ پچھلے کافی عرصہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل نہیں کیا گیا تھا۔ اس سے تو یہی لگتا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے مطالبے پر کاربن لیوی بڑھائے جا رہی ہے اور جوازمیں بین الاقوامی منڈی میںحالیہ دنوں ہونے والے اضافے کو پیش کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پست ترین سطح پر رہیں مگر ہمارے حکمرانوں نے تیل کی قیمت 250 روپے فی لٹر سے کم نہیں ہونے دی، عوام کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو حکومت ملک میں معاشی ترقی اور اقتصادی استحکام لانے کی دعوے کر رہی ہے لیکن جب عوامی ریلیف کی بات آتی ہے تو ان کے لئے کچھ نہیں ہے ان کی روزبروز مشکلات بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ان پر متعدد قسم کے ٹیکسوں اور لیویز پر سرسری نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے ہوں یا نجی کاروباری کمپنیاں سبھی عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ میں عالمی منڈی میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کو حکومت نے عوام کو فائدہ دینے کی بجائے ٹیکس بڑھا کر اپنی آمدنی میں اضافہ کر لیا۔ حکومت پیٹرولیم لیوی کی مد میں 78.02 روپے فی لٹر وصول کر رہی ہے اور 2.50 روپے ایک مزید ٹیکس کاربن لیوی کے نام سے بھی عائد ہے اور حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں مالی سال2025-26 ء میں اپنی آمدنی کو 1.47 ٹریلین تک بڑھانے کا ٹارگٹ قائم کر رکھا ہوا ہے۔ یہ امر ہمارے لئے حیرت کا باعث ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات اور خام تیل وغیرہ کے درآمدی بل میں اربوں روپے کی کمی ہوئی اور اسی عرصہ میں ان کی درآمدی مقدار میں بھی اضافہ ہونے کی وجہ سے ان پر ٹیکسوں کی مد میں آمدنی میں مزید کئی ارب اضافے کے باوجود عوام کو ریلیف دینے یا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کرنے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گئی۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ حکومت کسی کی بھی ہو سبھی قسم کی حکومتیں عوام کی لوٹ کھسوٹ کو اپنا حق سمجھتی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ بد نصیبی کی بات کیا ہو گی کہ حکومتی اداروں کا رویہ بھی نجی کاروباری اداروں سے مختلف نہیں اور وہ بلاواسطہ یا بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے آسانی سے مال بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ وزارتِ پیٹرولیم میں بیٹھے افراد کو اس امر کا احساس ہی نہیں ہے کہ وہ اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے ملک کی معیشت کا بیڑا غرق کر رہے ہیں۔ ڈیزل اور پیٹرول جیسی اشیاء کی بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں میں کمی کی وجہ سے حکومت کی آمدنی میں جو اربوں روپے کا اضافہ ہوا ہے اس کا ایک تہائی حصہ بھی اگر مارکیٹ کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کی طرف منتقل کر دیا جاتا تو ملک کی پیداواری صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا تھا اور اس طرح حکومت کی آمدنی بھی یقیناً اس سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی جو اب ہو رہی ہے کیونکہ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے بند کار خانے کھل جاتے، نئی صنعتیں قائم ہوتیں،  روزگار کے وسائل میں اضافہ ہوتا، ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی آتی مگر افسوس کہ یہ قومی رجحان ریاستی اداروں کی سوچ اور فکر سے باہر ہے ۔ 
ہم آئے روز اخبارات اور نیوز چینلز پر حکومتی نمائندوں کا مسلسل واویلہ سنتے ہیں کہ پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل آیا ہے اور یہ کہ وطنِ عزیز ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے لیکن اڑھائی سال سے یہ خبریں ہی ہیں جب کہ مہنگائی، بیروزگاری اورسماجی ناانصافی کی عوامی چیخ و پکار دل دہلا رہی ہے۔ حیرت کی انتہا ہے کہ یکم جولائی کو سٹاک ایکسچینج میں تیزی کی حکومت اس طرح سے تشہیر کر رہی تھی کہ جیسے ملک میں سے سونے کے ذخائر نکل آئے بندہ پوچھے کیا ایک غریب مزدور سٹاک ایکسچینج کے اوپر جانے سے اپنے اہل و عیال کے لئے دو وقت کی سستی دال روٹی لے آئے گا۔اسے بھلا سٹاک ایکسچینج کے اوپر جانے سے کیا لینا دینا، اسے تو سٹاک ایکسچینج کے کھیل کچھ اندازہ بھی نہیں ہو گا بلکہ اسے اس گورکھ دھندے کا سرے پتہ بھی نہیں ہو گا۔ یہ جو معاشی اشاریوں کے مثبت رجحان کی بات کی جاتی ہے اس کی کئی دیگر وجوہات ہیں نہ کہ ہماری معیشت نے کوئی ٹیک آف کر لیا ہے۔ ہمیں اپنی عوام کو اعتماد میں لینا ہو گا اور انہیں بتانا ہو گا کہ صرف آئی ایم ایف کا قرض ملنے کے بعد ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ ڈیفالٹ سے باہر آ گئے ہیں یہاں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہنے لگیں۔ معاشی ترقی تو تب کہیں کہ ہمارے ہاں سے کوئی معدنیات نکل آئی ہیں یا ہمارے ہاں کوئی بیرونی سرمایہ کاری آئی ہے یا یہ کہ ہماری ایکسپورٹس ایک دم سے بڑھ گئی ہیں اگر ایسی کوئی بات نہیں ہے تو پھر یقین مانیں کوئی ترقی نہیں ہوئی صرف ہم نے قرض لیا ہے اور جب اتارنے کی باری آئے گی تو ہم سے اس کا سود بھی نہیں اتارا جائے گا۔ اس لئے عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی ملک کی معاشی ترقی کا پیمانہ صرف سٹاک ایکسچینج کا گھٹنا بڑھنا نہیں ہوتا بلکہ اس کا اصل اور حقیقی پیمانہ عام آدمی کا معیارِ زندگی ہوتا ہے جو کہ بد قسمتی سے ہر آنے والے دن کے ساتھ گرتا چلا جا رہا ہے۔ اور یہی حقیقت ہے کہ یہاں غریب محنت کش طبقہ اور چھوٹے سرکاری و نجی ملازمین مہنگائی کے ہاتھوں زندہ درگور ہو چکے ہیں۔ حکومت روز دعویٰ کرتی ہے کہ اس وقت مہنگائی حالیہ تاریخ کی پست ترین سطح پر آ چکی ہے لیکن اگر بازار جا کر دیکھیں تو عام آدمی اس وقت بھی بدترین مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔
آخر میں ہماری حکومتی اربابِ اختیار سے گزارش ہے کہ ہم نے جو اعداد و شمار اوپر پیش کئے ہیں یہ حکومتی اداروں کے مہیا کردہ ہی ہیں ان کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی ہدایت کی جائے۔ مگر یہ کمی اشک شوئی کی صورت نہیں بلکہ گزشتہ کئی ماہ میں اس مد میں حکومت نے جو کمائی کی ہے اس کا معقول حصہ عوام کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف اس ایک فیصلے سے ملک میں معاشی سرگرمی میں تیزی آئے گی، ضارب اورا سراع کی قوتوں کی عمل پذیری کی بدولت ملکی اقتصادی حالت بہتر ہو گی ساتھ ہی حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو گا۔

مزیدخبریں