اس کی خاموشی بولتی ہے

09:49 AM, 4 Jul, 2025

جدید شعرا کے ہاں تازہ کاری بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے اور شعریت تخلیقیت سے تہی، سطحیت کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔ مضمون آفرینی کی جگہ کلیشے نے لے لی ہے۔ جو ظلم مزاحیہ شاعری کے نام پر ڈھایا جا رہا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ بازاری الفاظ کی مدد سے ٹک ٹاکرز کی وارداتوں کو نظم کر کے مضحکہ خیز انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پرانے دور کے بھانڈ بھی اس مسخرے پن کا مظاہرہ نہیں کر سکتے تھے۔ حال یہ ہے کہ سستی شہرت کے ہر حربے کو برت کر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عام طور پر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تحقیق و تخلیق بند گلی میں پہنچ گئی ہوں۔ سنجیدہ تخلیق کار کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ بقول وحید احمد " ہم تھوڑے تھوڑے ہیں، اس بھری بھرائی دنیا میں ہم کم کم ہوتے ہیں"۔ گزشتہ شب میں رحمٰن فارس کی کتاب دیکھ رہا تھا۔ یہ احساس پھر تازہ ہوا کہ رحمٰن فارس خاموش ہے مگر گم نام نہیں۔ 
رحمٰن فارس کی کثیر الجہت شخصیت انھیں اپنے سبھی معاصرین سے مختلف مقام عطا کرتی ہے۔ وہ بلند پایہ شاعر، محقق، مترجم، ٹی وی اینکر، کالم نگار اور نقاد ہیں۔ انھوں نے جدید شاعری میں نیا لہجہ اور شعر کہنے کا نادر اسلوب متعارف کرایا۔
شعر کہنا آسان کام نہیں ہے۔ در حقیقت زبان و ادب پر قدرت رکھنے کے ساتھ ساتھ کئی علوم میں مہارت ایک شاعر کو وہ اعتماد عطا کرتی ہے کہ وہ اپنا رنگ دریافت کر سکے اور ندرتِ خیال اور تہہ داری کو سہل ممتنع کی صورت میں پیش کر سکے۔ اس کی بہترین مثال ہمیں اساتذہ کے ہاں ملتی ہے۔ راشد، میراجی، مجید امجد تصدق حسین خالد، ظفر اقبال، ثروت حسین، شکیب جلالی، احمد مشتاق، سلیم کوثر جیسے شعرا کے ہاں مشرق و مغرب کا گہرا مشاہدہ اور بین الاقوامی ادب کا وسیع مطالعہ نظر آتا ہے۔ ان شعرا کے ہاں ترجمہ کی مضبوط روایت بھی شعری ارتقا کا بڑا وسیلہ معلوم ہوتی ہے۔ انگریزی، فرانسیسی، روسی زبانوں سے واقفیت کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی اور ترکی سے بھی گہرا تعلق دیکھنے کو ملتا ہے۔ جون ایلیا جیسا غیر روایتی انداز بھی سنسکرت، فارسی، عربی اور عبرانی زبان میں مہارت حاصل کرنے کے بعد سامنے آتا ہے۔ مجھے رحمٰن فارس کے منظوم تراجم سے ان کی دیگر زبانوں میں دلچسپی اور مہارت کا اندازہ ہوا۔ کس باریک بینی سے مضمون کی صحت کو برقرار رکھتے ہوئے شعر کہے گئے کہ شعر کی لطافت تک مجروح نہ ہونے پائے۔
کہانی ختم ہوئی اور ایسے ختم ہوئی 
کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے 
اس شاعر نے کیا مزاج پایا ہے۔ ملک کے سماجی ومعاشی حالات بگڑنے لگیں یا کوئی جنگ چھڑ جائے۔ رحمٰن فارس کا قلم حرکت میں آتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے سرحد پار تک ان کے نغموں کی گونج پہنچتی ہے۔ وہ ایک مخلص پاکستانی کی حیثیت سے ایسے شعر کہتے ہیں جو کروڑوں پاکستانیوں کے دل کی آواز بن کر گونجنے لگتے ہیں۔ خاکہ نگاری ہو یا تنقیدی مضامین اور تبصرے ان کا اچھوتا انداز اور جدید اسلوب ہر جگہ تکنیکی بدلاؤ کی کئی صورتیں ساتھ لے کر آتا ہے۔ 
محبت کی سو نظمیں، عشق بخیر نے جتنے ایوارڈ حاصل کیے ان سے کہیں زیادہ محبتیں سمیٹیں۔ فارس نے انگلینڈ، سکاٹ لینڈ، انڈیا، دبئی، قطر، امریکہ، چائنہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں اردو شاعری کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا۔ 
ہمارے ملک میں شاعر تو بہت سے ہیں لیکن ایسے تازہ گو شعرا بہت کم ہیں جو اپنی علمی قابلیت اور شعری مہارتوں کی بدولت اپنا مختلف مقام بنانے میں کامیاب ہوئے ہوں۔میں ان کا ذکر اس لیے بھی بطور خاص کر رہا ہوں کہ انھوں نے کئی جہات میں اپنی خدمات انجام دی ہیں۔ ملک کے اہم انتظامی عہدوں پر ایمانداری اور بے باکی سے اپنے فرائض انجام دینا وہ نیکی ہے جس کا کوئی صلہ نہیں ملتا۔ لیکن ایسا شخص اپنے سماج میں عزت و احترام ضرور حاصل کرتا ہے۔ ایک اور بات ذکر کرتا چلوں کہ میرا رحمٰن فارس سے ایک اور تعلق بھی ہے۔ رحمٰن فارس نے کیریئر کی ابتدا میں پاکستان ایئر فورس میں کمیشن حاصل کیا پھر شعری سفر کو ترقی دی۔ خاکسار نے بھی 2017 میں پاک فضائیہ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ لیکن ہم دونوں کے پاس اب پیٹی نہیں ہے۔ ایسا شاعر ہر وقت لکھنے پڑھنے کی تڑپ لیے چکرا دینے والی مصروفیات کے باوجود ادبی بیٹھکوں، مشاعروں، کانفرنسوں سے ہمیشہ جڑا رہا ہے۔ کبھی ہم کسی ٹیلی ویژن پروگرام پر دیکھ رہے ہیں رحمٰن فارس کسی تقریب یا ادبی پروگرام کی نظامت کر رہے ہیں کبھی بیرون کسی ادبی کانفرنس یا مشاعرے کا انتظام سنبھالتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک طرف ملازمت کی سرکاری ذمہ داریاں دامن گیر ہیں تو دوسری طرف شعر و ادب کا عشق۔ سفر کا سلسلہ ٹوٹتا نہیں جاری ہے۔ اور یقینا ہمت بھی نہیں ٹوٹتی اسی لیے وہ کامیابی سے سب کی ڈھارس بندھانا جانتے ہیں۔ آخر میں ایام عزا کی مناسبت سے رحمٰن فارس کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔ 
تمہیں خبر بھی ہے جو مرتبہ حْسین کا ہے ؟
فْرات چھیننے والو ! خْدا حْسَین کا ہے !!!
کوئی سدا نہیں روتا بچھڑنے والوں کو
ثباتِ رسمِ عزا مْعجزہ حْسَین کا ہے
ازل سے تا بہ ابد نْور کے نشاں دو ہیں
اک آفتاب ہے، اک نقشِ پا حْسَین کا ہے
جہاں بھی ذکر ہو اشکوں سے گل برستے ہیں 
یہ احترام نبی کا ہے یا حْسَین کا ہے
ستارہ سحری جس کو لوگ کہتے ہیں
فرازِ عرش پہ روشن دیا حْسَین کا ہے

مزیدخبریں