شنگھائی کانفرنس سے بھارت کا فرار

09:47 AM, 4 Jul, 2025

پاکستانی قوم کیلئے خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان کو یو۔ این ۔ او میں سلامتی کونسل کی صدارت مل گئی ہے اور آج میں لکھنا بھی اِس موضوع پر چاہتا تھا لیکن چین میں جاری اہم شنگھائی کانفرنس نے مجھے اپنے طرف متوجہ کر لیا سو یو ۔ این ۔ او کی صدارت پر پاکستان کے دشمنوں کے سینوں پر جو سانپ لوٹ رہے ہیں اسے پھر پر اٹھا رکھتے ہیں۔ ’’شنگھائی کانفرنس‘‘ کی اصطلاح سے عام طور پرمراد شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) ہے۔ یہ ایک یوریشین تنظیم ہے جو سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی کے حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی بنیاد پر معرض وجود میںآئی۔ 2001 ء میں چین، روس، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان اور ازبکستان نے اسے قائم کیالیکن ازاں بعد اس میں بھارت، پاکستان اور ایران کوبھی شامل کرلیا گیا۔ ایس سی او کا مقصد اپنے رکن ممالک کے درمیان تعاون اور امن واستحکام کو فروغ دینا اور دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی جیسے مسائل کو حل کرنا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے ٹرانسپورٹ کا 12 واں اجلاس بدھ کو شمالی چین کی تیانجن میونسپلٹی میں منعقد ہوا، جس میں SCO کے ٹرانسپورٹ کے وزراء نے علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا۔ اجلاس میں ایس سی او کے رکن ممالک کے ٹرانسپورٹ سیکٹرز کے درمیان ''سلک روڈ اسٹیشنز'' کی مشترکہ تعمیر سے متعلق مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔چین کے وزیر ٹرانسپورٹ لیو وی نے کہا کہ مجوزہ سلک روڈ اسٹیشنز SCO خطوں میں بین الاقوامی مال بردار ڈرائیوروں کے لیے ضروری سہولیات جیسے پارکنگ، آرام کے علاقے اور گرم پانی فراہم کریں گے۔یہ اقدام تیزی سے پھیلتے ہوئے تجارتی راہداریوں کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کے اہم خلا کو دور کرتا ہے، جہاں آرام ٗ رکنے اور دیکھ بھال کی سہولیات نے سرحد پار مسافروں اور کارگو کے بڑھتے ہوئے بہاؤ کے درمیان ڈرائیور کی تھکاوٹ اور لاجسٹک کی سست روی میں حصہ ڈالا ہے۔اس اجلاس میں پاکستان، منگولیا، بیلاروس، کرغزستان اور تاجکستان کے ٹرانسپورٹ حکام کوبھی مدعو کیا گیاتھا۔ شرکاء نے چین-یورپ ریلوے ایکسپریس کے اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانے اور بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرانک پرمٹ کے نفاذ جیسے منصوبوں پر تعاون کو تیز کرنے پر اہم بات چیت کی۔چین نے پاکستان کے شعبہ مواصلات میں ایم6اورایم9موٹرویز سمیت مانسہرہ، ناران، جھال کنڈشاہراہوں کی تعمیر اور شاہراہ قراقرم کی اپ گریڈیشن سمیت گوادر پورٹ و ائیرپورٹ اور دیگر منصوبوں میں سرمایہ کاری اور دو طرفہ تعاون کے لئے دلچسپی کا اظہار کیا ہے جبکہ چین کے راستے افغانستان اور ایران کے ذریعے دوسرے ممالک سے تجارتی راہداریوں کیلئے باہمی اشتراک پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے اعلیٰ سطح وفدکے ہمراہ کی ٗچینی وزیر ٹرانسپورٹ مسٹر لیووی نے عبد العلیم خان اور اُن کے وفدکا پُرتپاک استقبال کیا۔ عبد العلیم خان اور چینی وزیر ٹرانسپورٹ لیووی کے مابین تیانجن آمد پر ہونے والی غیر رسمی ملاقات میں سی پیک کے مغربی حصے، ای کامرس اور بھاشا ڈیم کی 2029تک تکمیل سمیت مختلف امور پر گفتگو ہوئی۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے چین کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مواصلات کی بہتری، تجارتی راہداریوں اور موٹرویز کو ترجیح دے رہا ہے۔عبد العلیم خان نے چین کے وزیر ٹرانسپوٹ لیووی کو پاکستان کے دورے کی با ضابطہ دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ذرائع مواصلات کی بہتری کیلئے غیر ملکی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتا ہے اور مختلف شاہراہوں کی تعمیر کے لئے ’’بی ٹو بی اور جی ٹو جی ‘‘تعاون کو ترجیح دی جائے گی۔
چین کے وزیر ٹرانسپورٹ لیووی نے اجلاس میں پاکستان کی بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کام کرنا چینی ماہرین اور انجینئرزکیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ‘پاکستان سے چین کا تعلق دیرپا اور دو طرفہ تعاون پر مبنی ہے۔اس ملاقات میں دونوں وزراء نے پاکستان کے وزیر اعظم کے اگست2025ء کے مجوزہ دورہ چین سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اور بالخصوص ایس سی او کانفرنس میں وزرائے ٹرانسپورٹ کی شرکت اور مستقبل میں باہمی تعاون پر بات چیت ہوئی۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں بھارت سے مدعو آنند پرکاش غیر حاضر رہے اور اُن کی نشست خالی رہی۔
پاکستان ریل روڈ اور فضائی راستوں کے ذریعے تجارت کے فروغ کے لئے عرصہ دارز سے کوشاں ہے اور چین، افغانستان اور ایران کے راستے تجارتی راہداریوں میںبھی گہری دلچسپی رکھتا ہے لیکن پاکستان کی ہر پل بدلتی سیاسی صورت حال نے ہونے والے بہت سے کاموں میں تاخیر کردی ہے اور بہت سے نہ ہونے والے کاموں میں وقت ضائع ہو چکا ہے ۔بلا شبہ سی پیک کے تحت پاکستان نے شاہراہوں کی تعمیر میں سنگ میل عبور کیا ہے اور اب افغانستان اور ایران کی سرحدوں سے آگے تجارت پھیلانا چاہتا ہے جبکہ گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں عالمی معیار کے مطابق کارگو کے لئے فعال ہیں اور پاکستان کی تجارتی ترقی میں خنجراب کے شمالی بارڈر، گوادر اور کراچی کے ساحل شامل ہیں۔اسی طرح ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کے مابین ریلوے کا منصوبہ خطے میں ترقی کا اہم باب ثابت ہو گا ۔شنگھائی کانفرنس میں پاکستان کا خنجراب سوست روڈ کو سال بھر کھلا رکھنے کا فیصلہ اہمیت کا حامل ہے،چین کے تعاون سے سلک روڈ سٹیشنوں کی مشترکہ تعمیر کی حمایت پاکستان کا بہتر ین فیصلہ ہے۔ پاکستان ٹرانسپورٹ سسٹم کی ڈیجیٹلائزیشن پر کام کر رہا ہے جبکہ سمارٹ ٹرانسپورٹ سسٹمز کی طرف بھی تیزی سے گامزن ہیں۔ پاکستان 126ممالک کے لئے ویزا آن ارائیول کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے جس کے تحت اب تک20ہزار سے زائد ویزوں کا اجرا ہو چکا ہے۔ ایس سی او کانفرنس کے فورم کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کا عہد کیا گیا ہے مجھے امید ہے کہ پاکستان کا آنے والا وقت انتہائی خوشی اور بہترین حالات کی نشاندہی کر رہا ہے ۔ خطے کی ترقی کا راستہ باہمی اعتماد و تعاون اور جدید نیٹ ورک سے منسلک ہے، ایس سی او ممالک کے ساتھ مربوط ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی تشکیل پر کام تو جاری ہے اور پاکستان 2017ء سے ایس سی او کا مستقل رکن ہونے کے ناتے مواصلات کی بہتری کے لئے پر عزم بھی ہے لیکن اس کیلئے ہمیں اپنے داخلی حالات کو بھی تیزی کے ساتھ بہتر کرنا ہو گا ہمیں جزا اور سزا کا عمل بھی تیزی سے پروان چڑھا کر سرمایہ کاروں کو پاکستان میں بہترین سہولتیں اور بہترین محفوظ پاکستان دینا ہو گا کہ اب یہی فلاح کا رستہ ہے۔

مزیدخبریں