افغان کرپشن اور دوحہ مذاکرات نے ملکی استحکام کو کمزور کیا:خصوصی امریکی رپورٹ میں انکشاف

01:57 PM, 4 Jan, 2026

واشنگٹن :خصوصی امریکی انسپکٹر جنرل نے جاری کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ سقوط کابل کے بعد امریکا نے طالبان حکومت کو چار سال کے دوران 3.83 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی، تاہم افغان حکومت میں موجود کرپشن اور ناقص انتظامیہ نے اس امداد کے اثرات کو محدود کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق، امریکا اور طالبان کے دوحہ مذاکرات میں افغان حکومت کو نظرانداز کرنا ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے کا اہم سبب تھا۔ اس فیصلے کی وجہ سے افغان سیکیورٹی فورسز امریکی انخلا کے بعد تیزی سے بکھر گئیں، اور ملک میں سیاسی اور سیکیورٹی بحران پیدا ہوا۔

20 سالہ افغانستان جنگ اور تعمیر نو کے دوران، امدادی پروگراموں کی بدانتظامی اور بدعنوانی نے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ امریکی پالیسیوں اور امدادی حکمت عملیوں کے اثرات کا زیادہ تر فائدہ افغان حکومت کے محدود حصوں کو ہوا، جبکہ عام شہری اور ملکی استحکام متاثر ہوئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے نتائج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ افغانستان میں مستقبل کی پالیسیوں کے لیے شفافیت، مضبوط ریاستی ڈھانچہ اور مقامی حکومتوں کی شمولیت ناگزیر ہے۔

مزیدخبریں