قانون کا دل سے احترام کریں

09:08 AM, 4 Jan, 2026

کہتے ہیں کہ کسی قوم کے مہذب ہونے کے معیار کو ان کے سڑک پر اپنائے گئے رویوں سے با آسانی جانچا جا سکتا ہے۔ یقینا سڑک ہم سب کی مشترکہ جگہ ہے، مگر افسوس کہ بعض عناصر، جو اسے اپنے باپ کی جاگیر سمجھتے ہیں، کی وجہ سے یہی سڑک ہمارے لیے بہت زیادہ خطرناک بھی بن جاتی ہے۔
شہر میں ایک طرف تومنچلے موٹر سائیکلوں پر سوار سڑکوں پر سرکس کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، نوعمر ڈرائیوروں کی بہتات ہے اور اس پر ظلم یہ کہ بعض اوقات تو ان کے والدین بھی ان کے ہمراہ سوار ہوتے ہیں، سگنل اور ون وے کی خلاف ورزی تو گویا کوئی جرم ہی نہیں، تو دوسری طرف جب صبح اخبار کھولیں تو یہ با اثر والدین کے کم عمر بچوں کی غفلت اور تیز رفتاری کی وجہ سے لوگوں کے جان و مال کے ضائع کی خبروں، کسی خاندان کی گاڑی ٹرک کے نیچے آ نے کی خبروں، بس کے الٹ جانے کی خبروں یا کسی سگنل توڑنے والے کے جان سے جانے کی خبروں سے بھرا ہوتا ہے۔ حکومت کہتی ہے ہم نے جرمانے بڑھا دیئے ہیں، چالان ہو رہے ہیں، ایف آئی آر درج ہو رہی ہیں۔ اگر یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے اس سب کے باوجود لوگ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کیوں نہیں کرتے؟ آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ سزا کا خوف بھی ہمیں سیدھا نہیں کر سکتا؟۔
اگر تجزیہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف جرمانوں کا نہیں، مسئلہ ہمارے رویے کا ہے، ہماری سوچ کا ہے، ہمارے پورے نظام کا ہے۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ قانون کو دل سے نہیں بس مجبوری میں مانتے ہیں اور جہاں موقع ملے قانون توڑ کر خود کو ہوشیار سمجھتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے سگنل توڑ لیا، غلط لائن سے نکل گئے یا ہیلمٹ نہ پہنا، تو ہم نے کوئی بڑا جرم نہیں کیا، بس تھوڑی سی ہوشیاری دکھائی ہے۔بس گڑبڑ اور پیچیدگی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔
ہمیں بچپن سے یہ نہیں سکھایا جاتاکہ قانون کا مقصد کسی کو سزا دینا نہیں بلکہ ہماری حفاظت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ ہمارے لاشعور میں یہ بات بھی بیٹھی ہوئی ہے کہ قانون صرف کمزور آدمی کے لیے ہوتا ہے طاقتور آدمی پر اس کااطلاق نہیں ہوتا۔ ہم نے اپنے اردگرد دیکھا ہے کہ بااثر لوگ بغیر نمبر پلیٹ، بغیر ہیلمٹ، کالے شیشوں والی گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور کوئی ان سے سوال نہیں کرتا۔ پولیس والا غریب رکشہ والے یا موٹر سائیکل والے کو روک کر اس کی بے عزتی کر سکتا ہے، مگر کسی بڑے آدمی کو روکنے کی جرا¿ت نہیں کر سکتا۔ جب عام آدمی یہ سب دیکھتا ہے تو اس کے دل میں قانون کی عزت ختم ہو جاتی ہے۔
ایک مزدور جو صبح سویرے موٹر سائیکل پر نکلتا ہے، وہ جانتا ہے کہ ہیلمٹ نہ پہننے پر چالان ہو سکتا ہے، مگر وہ پھر بھی نہیں پہنتا۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اپنی جان سے محبت نہیں کرتا، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نزدیک قانون ایک دشمن ہے، ایک ایسا نظام جو صرف اس کی جیب سے پیسے نکالنا چاہتا ہے۔ اسے یہ یقین نہیں کہ یہ قانون واقعی اس کی حفاظت کے لیے ہے۔
یہ بات کڑوی ضرور ہے مگر سچ ہے کہ ہمارے ہاں ٹریفک قوانین کا نفاذ انصاف کے ساتھ نہیں ہوتا۔ کہیں سختی ہے تو کہیں مکمل چھوٹ۔ کہیں پولیس والا ذرا سی غلطی پر بدتمیزی کرتا ہے، اور کہیں کھلی خلاف ورزی پر خاموش رہتا ہے۔ جب قانون ایک جیسا نہ ہو تو لوگ اسے ماننے کے بجائے اس سے بچنے کے طریقے ڈھونڈتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ چوک میں تعینات پیادے کی مٹھی گرم کر کے یا پھر چالان دے کر جان چھڑا لو، کوئی کہتا ہے کہ کوئی جان پہچان ہو تو مسئلہ حل ہو جاتا ہے اور کوئی کسی چکر بازی کا سہارا لیتا ہے غرض قانون ایک اصول نہیں بلکہ ایک مذاق بن چکاہے۔
پھر ہمارے ہاں جلد بازی بہت ہے۔ ہم ہر وقت جلد میں رہتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم دو منٹ سگنل پر رک گئے تو دنیا ختم ہو جائے گی۔ ہمیں لائن میں لگنا برا لگتا ہے، انتظار کرنا ذلت محسوس ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلے نکلنا ہماری جیت ہے۔ یہی جلد بازی ہمیں حادثوں کی طرف لے جاتی ہے۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ شاید یہی دو منٹ کسی کی زندگی بچا لیں۔
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ڈرائیونگ سکھائی ہی نہیں جاتی۔ زیادہ تر لوگوں نے نہ کبھی باقاعدہ ڈرائیونگ سکول دیکھاہے اور نہ ہی کسی نے انہیں بتایا کہ لین کیا ہوتی ہے، کس سائن بورڈ کا کیا مطلب ہے یا اوورٹیکنگ کب اور کیسے کرنی چاہیے۔ لائسنس ایسے بن جاتے ہیں جیسے کوئی رسم پوری کی جا رہی ہو۔ظاہر ہے کہ جب علم ہی نہ ہو گا تو قانون پر عملدرآمد کیونکر ممکن ہو پائے گا؟۔
عوام کو لگتا ہے کہ حکومت ان کے لیے نہیں، ان پر حکومت کر رہی ہے۔ اس لیے جب جرمانہ بڑھتا ہے تو لوگ اسے حفاظت کے بجائے ظلم سمجھتے ہیں۔ اگر سڑکیں بہتر ہوں، سگنل درست کام کر رہے ہوں، پولیس رویہ ٹھیک ہو، تو شاید عوام بھی تعاون کریں۔ مگر جب ہر طرف بدنظمی ہو تو قانون ماننا ایک اضافی بوجھ ہی لگتا ہے۔
ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ مثال اوپر سے آتی ہے۔ اگر حکمران خود قانون توڑیں گے، تو عوام کیوں مانیں گے؟ اگرپولیس اہلکار موبائل پر بات کرتے ہوئے گاڑی چلائیں یا سگنل کی پابندی نہیں کریں گے تو عام آدمی کیوں احتیاط کرے؟ جب قانون سب کے لیے برابر نہیں ہوتا تو پھر یہ کسی کے لیے بھی قابل احترام نہیں رہتا۔
ویسے اگر ایک بڑے کینوس پر دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ مسئلہ صرف ٹریفک کا نہیں بلکہ ہماری مجموعی سوچ کا ہے۔ ہم قانون کو دشمن سمجھتے ہیں، ذمہ داری نہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ قانون ماننا ایک کمزوری ہے۔حکومت کو بھی چاہیے کہ جرمانے بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس حقیقت پر بھی کچھ توجہ دے کیونکہ جب تک یہ سوچ نہیں بدلے گی، تب تک جرمانے جتنے مرضی بڑھا لیں ٹریفک کی وجہ سے ہونے والے نقصانات میں کمی نہیں آ سکتی۔
 صرف حکومت کی سطح پر نہیں بلکہ گھر ، سکول اور اداروں کی سطح پر بھی شعور اجاگر کرنے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے ۔ بچوں کو سکول سے ہی سڑک کے اصول اور آداب سکھائے جائیں۔ میڈیا حادثات کی خبروں کے ساتھ ساتھ احتیاط کی بات بھی کرے۔ پولیس صرف چالان ہی نہ کرے بلکہ رہنمائی بھی کرے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ طاقتور کو بھی اسی قانون کے تابع کیا جائے جو غریب پر لاگو ہوتا ہے۔
 ٹریفک قانون ماننا حکومت پر احسان نہیں، یہ اپنی جان پر احسان ہے۔ یہ کسی پولیس والے کو خوش کرنے کے لیے نہیں، اپنے بچوں کو یتیم ہونے سے بچانے کے لیے ہے۔ جب ہم یہ بات دل سے مان لیں گے، تو شاید سڑکیں بھی محفوظ ہو جائیں ورنہ ہم ہر سال یہی سوال پوچھتے رہیں گے کہ جرمانے بھی ہیں، ایف آئی آر بھی، پھر بھی لوگ قانون پر عملدرآمد کیوں نہیں کرتے؟ اور جواب ہر بار یہی ہوگا کہ ہم نے قانون کو دل سے ماننا سیکھا ہی نہیں۔

مزیدخبریں