اس میں کسی شک اور شبہ کی ذرا بھی کوئی گنجائش نہیں کہ سوداللہ اوراس کے پیارے حبیب حضرت محمدﷺ کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔اللہ کے آخری کتاب قرآن مجیدفرقان حمیدمیںاس اعلان جنگ کاانتہائی واضح اورکھلے الفاظ میں ایک نہیں متعدد باراورتفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔مالک ارض وسما کے اس واضح اعلان کے بعدبھی جوشخص سودکوگلے لگائے گایااس کے قریب جائے گااس نے پھراس دنیامیں ذلیل ورسواہونے کے ساتھ آخرت میں بھی ناکام ہی ہوناہے۔یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ دنیاکی کوئی بھی طاقت اللہ اوراس کے رسولﷺ کا مقابلہ نہیں کر سکتی اوریہ بھی سب کواچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ اوراس کے رسولﷺ کی مخالفت اوردین اسلام کے احکامات سے بغاوت کرنے والوں کاانجام پھرکیا ہوتا ہے۔؟ ہم نے اللہ، رسولﷺ اور دین کے بہت سے باغیوں کواپنی ان گناہ گار آنکھوں سے اس دنیامیں ہی ذلیل ورسواہوتے دیکھا ہے۔ افسوس اس بات کاہے کہ یہ سب کچھ جاننے کے باوجودکہ اللہ اوراس کے رسول کامقابلہ کوئی نہیں کرسکتااوریہ کہ سوداللہ اوراس کے رسولﷺ سے اعلان جنگ ہے پھربھی کچھ لوگ سودکے گناہ میں اس طرح مبتلاہورہے ہیں کہ جیسے ان کواس گناہ اورجرم عظیم کے بارے میں کوئی علم ہی نہ ہو۔دوتین سال پہلے کی بات ہے ایک صاحب جن سے ہماری پہلے بھی کئی ملاقاتیں تھیں کافی عرصے بعد اچانک سرراہ مل گئے۔وہ بہت پریشان لگ رہے تھے۔ہم نے چلتے چلتے پریشانی کی وجہ پوچھی توکہنے لگے جوزوی صاحب زندگی میں ایک غلطی ہوگئی ہے اب اس سے جان نہیں چھوٹ رہی۔ہم نے تفصیل پوچھی توکہنے لگے۔ مالی حالات بہت خراب بلکہ بگڑگئے تھے،کسی کاقرضہ دیناتھا،اس قرض کوواپس کرنے کے لئے مجبوری سے سودپر قرضہ لیا،اس شخص کاقرض توادا ہوگیالیکن سودوالاقرضہ اب ختم ہونے کانام ہی نہیں لے رہا۔ختم کیا۔؟یہ توکھٹمل کی طرح روزبچے دیکر بڑھتا جا رہا ہے۔ کئی قسطیں جمع کرائیں لیکن وہ پیسے جتنے لئے تھے ان سے کم ہی نہیں ہورہے۔جتنی قسط جمع کراتے ہیں اس کے قریب اس کے ساتھ سودلگ جاتا ہے۔سمجھ نہیں آرہی کہ اس جنجال اورگرداب سے کیسے نکلیں۔؟اس صاحب کی فریادسن کرہمیں اپنے دوست اجمل یاد آ گئے۔ اجمل ہمارے ایک اچھے دوست ہیں جوکہ انتہا کے شریف اورسادہ ہیں۔یہ ہزارہ کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں کنٹریکٹ ملازم ہیں چندسال پہلے ان کے ساتھ بھی ایساہی معاملہ ہوا۔کسی کے پیسے دینے کے لئے انہوں نے قرضہ لیاجوپھراس کے گلے پڑگیا۔تین چارمہینوں میں جب وہ قرض ڈبل ہوگیاتوپھراجمل کی آنکھیں کھل گئیں۔شکرہے کہ آنکھیں جلدکھلیں نہیں تو اجمل بھی آج کسی پنکھے یا درخت کے ساتھ جھولے کھاکرلٹک رہاہوتا۔یہ تواس کی قسمت اچھی تھی کہ بروقت اپنی غلطی،گناہ اورجرم کااندازہ ہونے پراس نے نہ صرف سچے دل سے توبہ کی بلکہ رب کے حضورگڑگڑاکراپنے جرم وگناہ کی معافی بھی مانگی۔ شائدگناہ پردل سے ندامت اورتوبہ کی قبولیت کااثرتھاکہ ایک ہی بارپیسے جمع کرانے کے بعداس آفت اورمصیبت سے ان کی جان چھوٹ گئی ورنہ سودسے منہ کالاکرنے والے پھراتنی آسانی کے ساتھ اس دلدل سے جان نہیں نکال سکتے۔ برسوں پرانی بات ہے اس پر ہم پہلے پورا ایک کالم بھی لکھ چکے ہیں۔ گاﺅں میں سیف اللہ نامی ہمارے ایک پڑوسی نے بھی اسی طرح ایک شخص سے سودپرپیسے لئے تھے۔ وہ پیسے بھی پھرختم ہونے کانام نہیں لے رہے تھے۔ ہمیں یادہے ان پیسوں کوختم کرانے کے لئے اول توجرگوں پرکئی جرگے ہوئے لیکن سودخورکی جانب سے جب بات نہ بنی تو پھرسیف اللہ کے بوڑھے والدعبدالخالق کاکانے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی زمین بیچ دی تھی تب جاکر وہ پیسے ختم ہوگئے تھے۔کہنے کو توسود کا لفظ بہت آسان اورمعمولی ہے لیکن اس کے اندر جو آفت اورمصیبت چھپی ہوئی ہے وہ دنیاکی ہرشئے پربھاری بہت بھاری ہے۔ اللہ سودی معاملات اور سودخوروں سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ آسان الفاظ میں سودنہ صرف تباہی بلکہ بربادی بھی ہے مگرافسوس وقتی فائدے کے لئے ہم میں سے بہت سے لوگ آج بھی اس سے منہ کالاکررہے ہیں۔کہنے کے لئے ہم سب حاجی اورنمازی ہیں لیکن ہمارے درمیان بھی سودخوروں کی کوئی کمی نہیں۔اتنی ایمانداری اورذمہ داری کے ساتھ ہم اپنے اللہ اوراس کے پیارے حبیبﷺ کو یاد نہیں کر رہے جتنی یکسوئی ،خلوص اور پیار کے ساتھ ہم سودی لین دین، معاملات اور کاروبار کر رہے ہیں۔بحیثیت مسلمان ہم سب جانتے ہیں کہ سودنہ صرف حرام بلکہ یہ اللہ اوراس کے رسولﷺ کے ساتھ کھلی جنگ ہے لیکن پھربھی آپ گاﺅںاوردیہات کے ساتھ ان بڑے بڑے شہروں میں دیکھیں آپ کواچھے بھلے،پڑھے لکھے لوگوں میں کوئی نہ کوئی سودخورضرورملے گا۔گناہ کوگناہ جاننے کے باوجودبھی اگرکیاجائے توپھروہ صرف گناہ نہیں رہتابلکہ عذاب بن جایاکرتاہے۔عذاب کی پھرکئی شکلیں اورصورتیں ہیں۔ہمیں آج اپنے گریبان میں جھانک کرایک منٹ کے لئے یہ سوچنا چاہئے کہ جن حالات سے آج ہم گزررہے ہیں یہ کہیں عذاب کی کوئی شکل اورصورت تونہیں۔؟یہ توسب کوپتہ ہے کہ سوکھی لکڑیوں کے ساتھ پھرگیلی لکڑیوں کوبھی جلناپڑتاہے۔ماناکہ اس ملک میں اکثریت سودخوروں کی نہیں ہوگی لیکن یہ توسب کوپتہ ہے کہ ہمارادرمیان سودخوروں سے پاک اورخالی بھی نہیں۔ایسے میں کہیں ہمیں ان سوکھی لکڑیوں کے ساتھ جلناتونہیں پڑرہا۔سودکی آفت نے ہمیں معاشرتی اورانسانی طورپرتباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ سودخوروں کوانسانوں اورمعاشرے کاکوئی لحاظ نہیں۔ جوپیٹ جہنم کی آگ سے بھرنے ہوں وہ دنیاکے ان پیسوں سے کیسے بھریں گے۔؟یہ ظالم راہ راست پرنہیں آ سکتے۔ جو لوگ اللہ اوراس کے رسولﷺ کے اعلانات واحکامات سے بغاوت کردیں ان کے لئے کوئی تحریر،کوئی تقریر،کوئی وعظ ونصیحت کیسے کارگرثابت ہوگی۔اللہ ایسے ظالموں اوربدبختوںکوہدایت دے نہیں تواللہ ان کوتباہ کردے تاکہ یہ ملک اورمعاشرہ اس گندسے صاف ہو۔
سودخوروں سے اللہ بچائے
09:08 AM, 4 Jan, 2026