خوشی اب ایک مہنگی چیز ہے 

09:03 AM, 4 Jan, 2026

ایک وقت تھا جب خوشی کسی اعلان، کسی کامیابی یا کسی اضافی خرچ کی محتاج نہیں ہوتی تھی، وہ بنا دستک زندگی کے آنگن میں آ بیٹھتی تھی۔ فجر کی اذان پر آنکھ کھل جانا، گھر کی فضا میں سانسوں کی روانی محسوس ہونا، کسی اپنے کی آواز میں خیریت سن لینا یا سادہ سے کھانے میں دل کی چاہ پا لینا ہی خوشی کی پوری تعریف تھا۔ تب زندگی کی رفتار دھیمی تھی، اس لیے لمحے ٹھہرتے تھے، رشتے بولتے تھے اور دل کے پاس یہ فرصت ہوتی تھی کہ وہ خود کو سن سکے مگر آج خوشی ایک ایسی نایاب متاع بن چکی ہے جو خواہش میں تو سب کے شامل ہے مگر دسترس سے باہر۔ ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں سہولتوں کی فراوانی ہے مگر دل پر بوجھ کم نہیں ہوتا، جہاں رابطے لاتعداد ہیں مگر بات کہنے والا کوئی نہیں، جہاں مصروفیت ایک مستقل عذر ہے اور اندر کا خلا ہر گزرتے دن کے ساتھ اور گہرا ہو جاتا ہے۔ خوشی اب کسی لمحاتی واردات کا نام نہیں رہی، یہ ایک طویل انتظار بن گئی ہے، ایسی جدوجہد جس میں اکثر لوگ لڑنے سے پہلے ہی تھک جاتے ہیں۔
خوشی کے مہنگا ہونے کی اصل وجہ شاید وقت کی تنگ دامانی ہے۔ ہم نے وقت کو اس قدر ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے کہ اس میں ٹھہراو¿ کی گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔ صبح سے رات تک ایک ایسی دوڑ ہے جس میں سانس لینے کی اجازت تو ہے مگر رکنے کی نہیں۔ انسان دن بھر ذمہ داریوں کی گرہ میں بندھا رہتا ہے، لوگوں کی توقعات کو نبھاتا ہوا چلتا ہے، مگر رات کو بستر پر لیٹ کر اسے یہ یاد نہیں رہتا کہ آج آخری بار وہ دل سے کب مسکرایا تھا۔ ذہنی دباو¿ نے خوشی کے چہرے سے سب سے زیادہ رنگ چھینے ہیں۔ مستقبل کا خوف، ناکامی کا اندیشہ، بیماری کی دھڑکن اور تنہائی کا سناٹا ہمارے اعصاب میں اس طرح اتر چکا ہے کہ خوشی اگر سامنے آ بھی جائے تو ہم اسے تھامنے سے پہلے سوچتے ہیں کہ یہ خوشی کتنی دیر ساتھ دے گی اور اس کے بعد ہمیں کیا چکانا 
پڑے گا۔ آج خوشی ایک مکمل پیکیج بن چکی ہے جس میں نیند، صحت، ذہنی سکون، مالی اطمینان اور جذباتی تحفظ سب شامل ہیں اور ان میں سے ایک کمی بھی خوشی کو ادھورا کر دیتی ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ غربت کی نہیں بلکہ سکون کی نایابی کی شکایت کرتے ہیں، کیونکہ نیند خریدی نہیں جا سکتی، دل کا بوجھ اتارا نہیں جا سکتا اور ذہنی سکون کسی بازار کی زینت نہیں بنتا۔
ہم نے خوشی کو غیر محسوس طریقے سے کہیں اور صرف کر دیا ہے، سکرینوں کی چمک میں، غیر ضروری مقابلوں کی دھول میں، دوسروں کی زندگیوں سے اپنا موازنہ کرتے ہوئے اور خود کو ہر وقت بہتر ثابت کرنے کی دوڑ میں۔ سوشل میڈیا پر خوشی ایک نمائش بن چکی ہے، فلٹر شدہ، ایڈٹ شدہ اور اکثر حقیقت سے بہت دور۔ ہم دوسروں کی مسکراہٹیں دیکھ کر اپنے زخموں کو اور مضبوطی سے چھپا لیتے ہیں اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں خوشی مزید دور ہو جاتی ہے۔ ہم نے خوشی کو کامیابی کے ساتھ اس طرح باندھ دیا ہے جیسے خوش ہونا صرف اسی کا حق ہو جو منزل پر پہنچ چکا ہے، جو ابھی راستے میں ہے، جو جدوجہد کی گرد میں لپٹا ہوا ہے، اس کے لیے خوشی ایک عیاشی بن گئی ہے۔ ہم نے خود کو اجازت دینا چھوڑ دی ہے کہ ہم نامکمل ہوتے ہوئے بھی خوش رہ سکیں حالانکہ انسان کی سب سے بڑی تھکن یہی ہے کہ وہ ہر وقت خود کو ثابت کرنے میں لگا رہتا ہے، مضبوط نظر آنا چاہتا ہے، مطمئن دکھنا چاہتا ہے، چاہے اندر سے بکھر ہی کیوں نہ رہا ہو۔ یہی نقاب خوشی کو ہم سے دور لے جاتا ہے کیونکہ خوشی صرف اسی دل میں ٹھہرتی ہے جو سچ بولنے کی ہمت رکھتا ہو۔
ہم سب کسی نہ کسی سطح پر تھکے ہوئے ہیں، کوئی جسم میں، کوئی ذہن میں اور کوئی احساسات میں۔ مگر ہم نے اس تھکن کو بھی معمول بنا لیا ہے۔ اداسی ایک عادت بن گئی ہے اور بے دلی ایک مستقل کیفیت۔ ایسے میں خوشی ایک ایسے مہمان کی مانند ہے جو آ تو جاتی ہے مگر دیر تک ٹھہرنے سے جھجکتی ہے۔ خوشی کی ایک قیمت یہ بھی ہے کہ ہمیں کچھ نہ کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔ ہر شے پانے کی خواہش خوشی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ زیادہ کام، زیادہ لوگ اور زیادہ شور ہمیں بھر تو دیتے ہیں مگر مطمئن نہیں کرتے حالانکہ خوشی اکثر کمی میں ملتی ہے، کم توقعات میں، کم شکایتوں میں، کم موازنے اور کم ہجوم میں۔ شاید خوشی مہنگی نہیں ہوئی، ہم ہی اتنے تھک چکے ہیں کہ سادہ خوشی کو سنبھال نہیں پاتے، وہ خوشی جو خاموشی میں ملتی ہے، جو تنہائی میں بھی سکون دیتی ہے اور جو کسی داد یا تصدیق کی محتاج نہیں ہوتی۔ مگر چونکہ ہم نے شور کی عادت ڈال لی ہے، اس لیے خاموش خوشی ہمیں اجنبی لگتی ہے۔
خوشی کی نئی تعریف شاید یہی ہے کہ ہم خود سے ایماندار ہو جائیں، یہ مان لیں کہ ہر دن روشن نہیں ہوتا، ہر لمحہ مکمل نہیں ہوتا اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے طاقت نہیں ہوتی۔ خود کو ٹوٹنے کی اجازت دینا، کمزور ہونے کی گنجائش رکھنا اور ہر وقت مضبوط نظر آنے کی مجبوری سے آزاد ہونا ہی وہ دروازے ہیں جہاں سے خوشی دبے پاو¿ں اندر آتی ہے۔ سال کے آغاز میں ہم بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں مگر شاید اس بار ہمیں ایک چھوٹا سا وعدہ کرنا چاہیے کہ خوشی کو مو¿خر نہیں کریں گے، اسے کسی کامیابی، کسی موقع یا کسی خاص دن سے مشروط نہیں کریں گے۔ اگر آج کا دن سانس لینے کی اجازت دیتا ہے تو یہی کافی ہے۔ خوشی اب کسی تقریب کا نام نہیں رہی، یہ ایک حالت ہے اور حالتیں تب بدلتی ہیں جب ہم خود کو مسلسل قربان کرنا چھوڑ دیں اور یہ سمجھ لیں کہ خوش رہنا کوئی انعام نہیں بلکہ ایک حق ہے، ایسا حق جسے ہم نے مدتوں سے نظر انداز کر رکھا ہے۔ اگر خوشی واقعی مہنگی ہو گئی ہے تو شاید اس کی وجہ اس کی قیمت نہیں بلکہ ہمارا ترجیحات کا انتخاب ہے کیونکہ خوشی آج بھی وہیں ہے، کسی خاموش لمحے میں، کسی سادہ بات میں، کسی بے آواز مسکراہٹ میں۔مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم نے اسے پہچاننے کی فرصت کھو دی ہے اور شاید سال کے آغاز پر ہمیں یہی سیکھنا ہے کہ خوشی کو ڈھونڈنا نہیں بلکہ واپس لانا ہے، اپنی زندگی میں، اپنے دل میں اور اپنے ہونے میں۔

مزیدخبریں