چلیں باقی سب کو چھوڑیے، آپ یہ بتائے آپ نے خود آخری مرتبہ اپنے لیے ایک جیلی کا پیکٹ خرید کر اسے مزے لے لےکر کب کھایا؟ جیسے بچپن میں کھاتے تھے؟ دیکھا جائے تو آجکل زیادہ لذیذ جیلی میسر ہیں، زاویہ کیوں بدل گیا؟ آپ نے کب آخری بار یونہی خواہ مخواہ ایک گیس کا غبارہ خرید کر اسے ہوا میں اڑتا دیکھ کر چاشنی سے لبریز تبسم دیا؟۔ کیا آپ نے کبھی کچی زمین پر پانی پھینک کر اس کی سوندھی خوشبو کو روح میں سرایت کرنے کا موقع دیا؟۔
بات فقط کامیابی کی دوڑ اور “لوگ کیا کہیں گے” کے طعنے کی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ آپ فقط زندہ ہیں اور گزار رہے ہیں، آپ اسے آج بھرپور انداز میں جینا شروع کر دیں یہ حسین ہوتی جائے گی۔ یہ مان لیں کہ کچھ چیزیں آپ نہیں بدل سکتے، ان سے سمجھوتا کر لیں اب چاہے وہ ناپسندیدہ نوکری ہو یابیوی ۔۔۔ اب جو بدل سکتے ہیں اس پہ توجہ کیجیے۔ کیوں ہمارے معاشرے کے مرد عمر سے پہلے بوڑھے ہو رہے ہیں ، بال جھڑ گئے، پیٹ نکل آئے۔۔۔ کیوں آپ چوبیس میں سے ایک گھنٹہ جاگنگ جمنگ یا سوئمنگ کے لیے نہیں نکال سکتے؟ کیوں ہمارے معاشرے کی خواتین اپنا حسن کھو رہی ہیں؟ ادرک لہسن سے میرینیٹ ہوئی یہ خواتین آخر کیوں کسی شادی بیاہ یا تقریب کے سوا اپنی آرائش و زیبائش نہیں کر سکتیں؟ ۔
مانا کہ زندگی تھوڑی مشکل ہے، لیکن اسے سہل کیا جا سکتا ہے، ایک کاوش اپنی ذات کے لیے کر کے دیکھیے۔ جہاں دو گھنٹے آپ ٹی وی پر تجزیے سن کر بظاہر اپنے علم میں اضافہ کرتے ہیں کسی روز اپنے بچے کے ساتھ آدھاگھنٹہ لڈو کھیل کر گزارئیے، جہاں آپ دن بھر گھر کے کام کاج میں لگی رہتی ہیں اور فرصت کے لمحوں میں غیبت سے شغل فرماتی ہیں وہیں کسی روز جوگر کے تسمے باندھ کے اپنے بچے کے ساتھ بیڈمنٹن کی ایک گیم لگا کر دیکھیں۔۔۔
یہ جو آپ نے بلڈ پریشر ، شوگر بڑھا رکھا ہے نصف سے زیادہ تو آپ کا اپنا قصور ہے۔ اگر آپ شادی شدہ نہیں ہیں اور ابھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو کیوں آپ پاکٹ منی سے ہی گزارہ کرتے ہیں، آخرکیوں آپ ہوم ٹیوشن پڑھا کر یا آن لائن ٹریڈنگ کر کے اپنے قدموں پہ کھڑے نہیں ہو سکتے؟ ۔
مانا گریڈ اہمیت رکھتا ہے، لیکن آپ اگر غالب فیض فراز کے شوقین ہیں تو کورس کی کتابوں سے چند لمحے نکال کر گرم بھاپ اڑاتی چائے کی چسکیاں لیتے سمے دیوان کی ورق گردانی میں آخر کیا مضائقہ ہے؟ ۔
میری بہنیں جو شادی کے انتظار میں انٹر نیٹ سے حسن جوانی قائم رکھنے کے ٹوٹکے دیکھنے میں مگن ہیں یاخواتین ڈائجسٹ پڑھ کر سپنوں کے راجکمار کے انتظار میں بالوں میں چاندی چمکا رہی ہیں آخر کیوں وہ اسی انٹرنیٹ پہ کسی ڈسٹنٹ لرننگ پروگرام سے کوئی ڈگری یا ہنر حاصل نہیں کر لیتیں؟ ۔
ہماری ہر تکلیف کی ذمہ داری ملک معاشرے یا حکومت کی نہیں ہے، مانا خوش گوار زندگی کے لیے وسائل کی فراوانی اہم ہے لیکن اول تو محدود وسائل میں بھی خوش رہا جا سکتا ہے اور دوسرا یہ کہ آپ اپنے شوق سے وسائل پیدا کرسکتے ہیں۔
جو خواتین کھانے بنانے کی شوقین ہیں وہ اپنا کاروبار شروع کر سکتی ہیں، جنہیں ڈیزائننگ پہ عبور حاصل ہے وہ اپنی بوتیک بنا سکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ بوتیک کا آئیڈیا بنا وسائل کے آپ کو مضحکہ خیز لگے اور عین ممکن ہے کہ سیلف گروتھ کی طرف اٹھایا گیا آپ کا پہلا قدم کل آپ کو ایک برینڈ بنا دے۔
کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، لوگوں کی پروا کرنا چھوڑ دیجیے، اپنے لیے جینا سیکھیے اور اپنے شوق پورے کرنا شروع کیجیے، زندگی سہل ہو جائے گی اور آخر میں اتنا کہنا چاہوں گی جو گزر گیا اسے بھول جائیے، پھرچاہے وہ لاحاصل محبت ہو، من پسند نوکری ہو یا کوئی تعلیمی ڈگری، ہاں مجھے علم ہے کہ یہ کہنا آسان ہے اور کرنامشکل لیکن یقین جانیے آپ ایک ایسا طاقتور انسان ہیں، جس نے اپنوں کے جنازے اٹھائے پھر سپنوں کے جنازے اٹھائے پھر بھی جیے جا رہے ہیں تو آپ دنیا یہاں کی وہاں کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بس کسی گلی کے نکڑ پہ بیٹھے رات کی ڈیوٹی کرتے کسی گارڈ کو یونہی خواہ مخواہ ایک کپ چائے کا پکڑا دیں، بس یونہی خواہ مخواہ ایک سرخ گلاب اپنی بیوی کے بالوں میں اڑس دیں، دھیان رہے کہ بیوی آپ کی اپنی ہو ورنہ نتائج کے ذمہ دار ہم نہ ہوں گے۔ بس کسی روز اپنے بوڑھے والدین کو جھولوں کی سیر کرانے لے جائیں، اور ان کو انکابچپنا جینے کا موقع دیں۔
کتابیں پڑھنا لطف دیتا تھا؟ وقت نکالیں ورق گردانی کریں۔ تاش کھیلنا پسند تھا؟ زندگی کے جھمیلوں میں وہ دوست کہیں کھو گئے جن کے ساتھ بازی لگتی تھی؟ تاش کی گڈی پھینٹیں اور بہن بھائی، بیوی، یا اور کوئی نہیں تو دادادادی کے ساتھ بیٹھ کر کھیلیں ، انہیں نئے نئے حربے سکھائیں اور پھر جادو دیکھیں۔۔۔
میں اگر اپنی مثال دوں تو میں نے کسی بہت بچپن میں چاہا تھا کہ زندگی کہ کسی موڑ پر میں کبھی پہاڑوں کے بیچ لکڑی کے ایک مکان میں لکڑیاں سلگا کر سفید بالوں کا جوڑا بنائے، مہنگے پرفیوم میں نہا کر ہاتھ میں کافی کا مگ تھامے بہت ڈھیر ساری کتابوں کے بیچ بیٹھ کر اپنا کوئی افسانہ لکھ رہی ہوں گی۔ لکڑیوں کی جگہ بجلی کا ہیٹر ہے، کافی بھاپ اڑا رہی ہے، ہاں بالوں میں چاندی ابھی نہیں اتری اور افسانے کی جگہ کالم لکھ رہی ہوں، لیکن۔۔۔ لکھ رہی ہوں، میں وہ زندگی جی رہی ہوں جو میرے لاشعور نے چاہی تھی، اور شاید وقت سے بہت پہلے جی رہی ہوں، اور اس پہ رب کا جتنا شکر ادا کروں وہ کم ہے۔ تو ہو سکتا ہے جس کے پیچھے تم آج بھاگ بھاگ ہلکان ہو رہے ہو وہ اک سراب ہو؟ اس سے کہیں بہتر خالقِ کائنات نے بہت پہلے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہو۔
عین ممکن ہے کہ ہر وقت کی بے وجہ اداسی اور الجھن کا علاج نیند کی گولی نہیں منور بیگم کی آواز میں ایک غزل ہو۔ سو سال کی یہ پہلی رات نفع نقصان کا حساب کرنے کی بجائے اپنے رب کے حضور شکرانے میں گزاریے۔ اور سب سے اہم بات اپنے لیے وقت نکالیں، اپنے ساتھ وقت گزاریں، یہ بہت قیمتی جیون ہے اسے لاحاصل کی کسک میں برباد مت کریں۔خدارا کم از کم ایک کاوش اپنی ذات کے لیے کریں! ۔ (ختم شد)
سال کی پہلی رات
09:02 AM, 4 Jan, 2026