بومرز

09:01 AM, 4 Jan, 2026

ہمارے ساتھ انفرادی سطح سے اجتماعیت تک بہت سے مسائل جڑے ہیں۔ وسائل کم ہیں مسائل زیادہ ۔ذاتی سے قومی سطح تک ہمارے رویے ڈسپلن سے عاری اور نظم عنقا۔اللہ کریم سے انسانوں تک سے شکوے کرنے والے بہت زیادہ اور کام کرکے کھانے والے انتہائی کم۔مسئلہ کسی جنریشن سے زیادہ بحیثیت مجموعی ہمارے رویوں کا ہے ۔جو یہ سمجھتے ہیں کہ جنریشن زیڈ نامی کوئی مخلوق ٹیکنالوجی کے ہتھیار سے لیس ہے یہ کسی کے لیے کوئی ”ویپن آف ماس ڈسٹرکشن “ ہوسکتا ہے تو ایسے لوگوں کے لیے عرض ہے کہ ہر جنریشن کے پاس اپنے دور کی بہترین اور جدید ٹیکنالوجی کا ہتھیار لازمی ہوتا ہے کیونکہ ہماری زندگیاں ارتقائی مراحل سے مسلسل گزررہی ہوتی ہیں۔ آج اگر سمارٹ فون ہے تو بومرز کے پاس بھی تو کمیونیکیشن کے وسائل اور ذرائع اپنے دورکے تقاضوں کے مطابق بہرحال موجود تھے۔اس سے بھی پیچھے چلے جائیں تو دوسرے انسانوں سے رابطے ،تعلق،تنظیم اور تحریک تو اللہ کریم نے انسان کو ودیعت کرکے بھیجا ہے ۔
ایک نسل کا دوسری نسل سے اگر اختلاف ہونا فطری ہے تو اتفاق ہونا بھی عین نیچرل ہے۔لیکن کیاپرانی نسل نئی نسل کی دشمن ہوتی ہے؟ ایسا بالکل بھی نہیںکیونکہ ہر پرانی نسل اپنی نئی نسل کی تربیت کرتی ہے اسے نیابناتی ہے اسے زندگی گزارنا سکھاتی ہے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ نئی نسل ان سے بہتر ہو۔اس کو زیادہ مواقع ملیں ۔معاشرہ پہلے سے بہتر ہو۔تاریخ تویہی بتاتی ہے اور قانون قدرت بھی کہ ہر زمانے کی نئی نسل پرانی نسل سے اسی طرح کی وراثت حاصل کرتی آئی ہے ۔نئے اور پرانے خیالات کا اس قدر تصادم تو ہمیشہ سے ہی رہا ہے ۔سوال اہم یہ ہے کہ کیا پرانی نسل نئی نسل کی بحیثیت مجموعی دشمن ہوتی ہے یا یہ ایک ارتقائی عمل ہوتا ہے جو غیر محسوس طریقے سے معاشرے میں تبدیلی لانے میں مصروف عمل رہتا ہے؟بہترین معاشرہ وہ بنتاہے یہاں جذبے اور تجربے کا ٹکراو¿ نہ ہو۔یہاں جذبہ اور تجربہ ایک دوسرے کے ساتھ ہوں متصادم نہ ہوں۔جب جذبہ تصادم کی روش اپناتا ہے تو اس میں وقتی تفاخر اور فتح کا احساس ضرور ہوتا ہے لیکن جب جذبہ حقیقی تجربے کی جگہ آتا ہے تو جنریشن زیڈ بھی بومر کی طرح سوچنے لگتی ہے۔
مئی دوہزار بائیس میں شروع ہونے والے جنریشن زیڈ کے انقلاب نے جولائی دوہزار بائیس میں سری لنکا کے صدر کو ملک چھوڑنے پرمجبور کر دیا۔ بائیس جولائی کو ایوان صدر میں سری لنکا کے عوام کو توڑپھوڑ کرتے اپنا غصہ اپنے ہی ملک کے اثاثوں پر نکالتے پوری دنیا نے دیکھا۔ کیا وہ لوگ کسی صدر یا راجاپاکسے خاندان کا ذاتی سامان توڑیا لوٹ رہے تھے؟ کیا اس لوٹ مار سے ملک سے بھاگنے والے صدر کو کوئی ذاتی نقصان ہورہا تھا ؟ نہیں بلکہ یہ جذباتی لوگ اپنے ہی ملک کے اپنے ہی پیسے سے بنائے اثاثے کی تباہی کررہے تھے۔اس جذباتی ردعمل کو مہذب قوموںنے بے وقوفی کہا تو ہم جیسی جذباتی قوموں نے انقلاب اور پیش گوئیاں کیں کہ آج یا کل بس پاکستان بھی سری لنکا بنے گا لیکن یہاں بومرزاس ملک کی تعمیر کرنے میں جُت گئے اور آج تین سال بعد پاکستان پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط۔ کہیں زیادہ باعزت اور کہیں زیادہ ترقی کی راہ پر ہے جبکہ سری لنکا کی اس جنریشن زیڈ کے جذباتی ردعمل کا یہ حال ہوا کہ جس شخص کو انہوں نے نفرت کا نشانہ بناکر ملک سے بھاگنے پر مجبورکردیا تھا وہ صرف پچاس دن کے بعد واپس سری لنکا آگیا لیکن سری لنکا آج تک اپنے قدموں پر واپس نہیں آیا ۔اس جذباتی ابال کے دوسال بعد ملک میں الیکشن ہوئے اور اب دوبارہ پھر ویسا ہی سسٹم،ویسے ہی لوگ سری لنکا پر حکمران ہیں۔ ان دو سال میں سری لنکا نے بھوک بھگتی،بے روزگاری کاسیلاب دیکھا۔آئی ایم ایف کے ترلے کیے۔ جون دوہزار پچیس میں فوربز کا ایک تفصیلی آرٹیکل پڑھا اس کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے کہ ”سری لنکا کو اس جذباتی انقلاب کے اثرات سے نکلنے میں بہت وقت لگے گا“۔
بنگلہ دیش کے نوجوان اور سٹوڈنٹس بھی اسی راہ کے مسافر بنے ۔گوکہ حالات سری لنکا سے مختلف تھے لیکن واقعات ملتے جلتے تھے۔بنگلہ دیش کو حسینہ واجد نے پوری طرح ہندوستان کے ہاں گروی رکھ چھوڑا تھا اس کو کسی نہ کسی دن بھارتی اثرسے آزادہونا تھا لیکن شاید اس طرح کی مار دھاڑ غیر ضروری تھی لیکن بنگلہ دیش میں بھی جنریشن زیڈ انقلاب لے آئی۔ سوال یہاں بھی وہی سری لنکاوالا کہ کیا بنگلہ دیش اس ایک ایونٹ کے اثرات سے نکل کر ترقی کی سڑک پر دوڑنے لگاہے؟ جواب بھی سری لنکا والا ہی ہے کہ بنگلہ دیش کو اس اثر سے آزاد ہونے میں بہت وقت لگے گا۔بنگلہ دیش ابھی تک ملک میں الیکشن کرانے کے قابل نہیں ہوسکا۔اگر کسی انقلاب کے بعد طویل عرصے تک بومرز کو ہی عبوری حکمرانی دینا ہے تو جنریشن زیڈ کے انقلاب کی ضرورت کیا ہے؟ اور پھر وہ سٹوڈنٹس تحریک جس نے اس انقلاب کو لیڈ کیا ۔اس طلبا تحریک نے الیکشن لڑنے کے لیے بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی سے اتحاد کرلیا ہے۔یعنی وہ جنریشن زیڈ جس نے ملک میں انقلاب برپا کیا اب وہ راج نیتی کے لیے بومرزکی پارٹی کی محتاج ہوگئی ؟اور یہ تجزیہ بھی تاریخ کا حصہ رہے گا کہ لوگ جب بنگلہ دیش کے حکمران چنیں گے تو ووٹ وہ بومرز کو ہی دیں گے۔
جنریشن زیڈ کاجذباتی انقلاب حالیہ تاریخ میں عرب سپرنگ سے شروع ہواتھالیکن کسی عرب ملک میں اس کے نتیجے میں دودھ اور شہد کی نہرنہیں ہے۔مصر میں تحریر سکوائر کی موومنٹ کا کیا بنا؟ حالات یہ کہ مصر پر آج بھی ایک بومر براجمان ہے۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ جذباتی انقلاب نیپال بھی پہنچ گیا۔گزرے سال کے آخرمیں نیپال کی جنریشن زیڈ نے بھی یہی کہا تھا کہ ”اٹ از اوور“ پھر وقتی جذباتی ردعمل سے یہ اوور ہوبھی گیا بالکل ویسے ہی جیسے سری لنکا میں ہوا تھا،جیسے مصرمیں ہوا تھا،جیسے بنگلہ دیش میں ہوا تھا ۔ایک بومر کو اقتدار سے نکالا تو دوسرے بومر کو بغیر کسی انتخاب کے، بغیر کسی عوامی رائے کے، بغیر کسی ووٹ کی پرچی کے عبوری طور پر اقتدار پر بٹھا دیا۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ جنریشن زیڈ بومر کو اقتدار سے نکالتی ہے ۔ان کی پالیسیوں پر غصہ کرتی ہے ۔ان کو متروک سوچ کہتی ہے۔ان کو ترقی کے دشمن کہتی ہے ۔ انہیں طعنے دیتی ہے کہ آپ درست راستے پر نہیں ہیں آپ کی وجہ سے ملک تباہی کا شکار ہے ۔آپ جدیدیت میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس لیے ہم آپ کے خلاف انقلاب لائیں گے ۔آپ کو ملک چلانے کا ڈھنگ ہم سکھائیں گے لیکن جب وہ جذباتی انقلاب آجاتا ہے تو پھر ملک چلانے کے لیے بومرزکا ہی کیوں انتخاب کرتے ہیں۔ پھر اقتدار اسی سال کے بوڑھے محمد یونس کوہی کیوں دیتے ہیں؟ کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ انقلاب کے نام پر جذباتی توڑپھوڑ پر لوگوں کو اکسانا سوشل میڈیا پر غصہ نکال کرخوشی حاصل کرنا بہت آسان لیکن اس انقلاب کو سنبھلالنا اور ملک کو واقعی چلانا مشکل ہوتا ہے؟۔
دودن سے جنریشن زیڈ نامی مخلوق پاکستان سے ہزاروں میل دور امریکی یونیورسٹی میں پڑھنے والے ایک نوجوان کے چیٹ جی پی ٹی سے لکھوائے آرٹیکل کو انقلاب کا ہراول دستہ کہہ کر خوش ہے۔جنرل زیڈ ،الفا یا بیٹا جو بھی جنریشن ہے اس سے بھی گزارش ہے کہ اگر انقلاب لاکر کسی اسی سالہ بومر کے حوالے ہی ملک کرناہے تو پھر صلح ہی بہتر آپشن ہے۔

مزیدخبریں