سفارتی محاذ پر ایران کی سبقت: واشنگٹن ترکیہ کے بجائے عمان میں مذاکرات پر راضی

06:22 PM, 4 Feb, 2026

تہران/واشنگٹن: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سرد جنگ میں ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایران نے واشنگٹن کو مذاکرات کا مقام ترکیہ سے عمان منتقل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ایرانی دفترِ خارجہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ موجودہ حالات میں عمان، ترکیہ کے مقابلے میں ایک زیادہ غیر جانبدار اور پرامن ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے تہران کے اس مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے جمعہ کے روز عمان میں ملاقات کی حامی بھر لی ہے۔
 یہ مذاکرات ایک ایسے حساس موڑ پر ہو رہے ہیں جب امریکی صدر کی جانب سے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں تہران کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ تاہم، ایرانی وزارتِ خارجہ نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بات چیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے مقام کی تبدیلی محض جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ ایران کی ایک سٹریٹجک کامیابی ہے۔ عمان میں ہونے والی یہ بیٹھک خطے کی مجموعی صورتحال اور مستقبل کے معاہدوں پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔

مزیدخبریں