پاکستان اور قازقستان کا دوطرفہ تجارت 1 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم

12:30 PM, 4 Feb, 2026

اسلام آباد :  پاکستان اور قازقستان نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو ایک سال میں 1 ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ عزم دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب کے دوران کیا گیا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے شرکت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ وہ قازقستان کے صدر اور ان کے وفد کا پاکستان میں خیرمقدم کرتے ہیں اور اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے بہت اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 23 سال بعد قازقستان کے کسی صدر کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے، اور اس دوران صدر توکایووف کے ساتھ ہونے والی بات چیت بہت مثبت رہی۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے دونوں ممالک پرعزم ہیں، جس سے معاشی اور ثقافتی تعاون میں مزید اضافہ ہوگا۔

شہباز شریف نے غزہ میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان اور قازقستان کے کردار پر بھی زور دیا اور کہا کہ دونوں ممالک غزہ میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے شعبے میں بہت سی نئی راہیں کھل رہی ہیں اور ایک سال میں دوطرفہ تجارت کو 1 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور قازقستان توانائی کے شعبے میں مزید تعاون بڑھا سکتے ہیں اور دونوں ممالک کا تجارتی تعاون نئی بلندیاں چھو سکتا ہے۔

قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے اپنے خطاب میں پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہاں شاندار استقبال اور مہمان نوازی کا تجربہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی دوستی اور تعلقات بہت مضبوط ہیں اور وزیراعظم شہباز شریف کے کردار کی بدولت ان تعلقات میں مزید استحکام آیا ہے۔ صدر توکایووف نے پاکستان کی دفاعی ترقی اور خطے میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

قبل ازیں، پاکستان اور قازقستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے متعدد مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدوں میں کان کنی، پٹرولیم، اقوام متحدہ کے امن دستوں، قیدیوں کے تبادلے، کسٹم، ریلوے، صحت، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی اور ثقافت کے شعبے شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے تعلیم اور مالیاتی نظم و نسق کے شعبے میں بھی مزید تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

مزیدخبریں