چین کے ’’ننگے افسر‘‘ اور ہم!

09:08 AM, 4 Feb, 2026

چین میں ایک اصطلاح رائج ہے جسے وہ’’ نیکڈ آفیشل‘‘کہتے ہیں۔ یہ سن کر پہلا خیال یہی آتا ہے کہ شاید یہ کسی مغربی میڈیا کی طنزیہ اختراع ہو، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ معاملہ ہے۔ چین میں نیکڈ آفیشل اس افسر کو کہا جاتا ہے جو بظاہر پورے کپڑوں میں ہوتا ہے، مگر ریاست کی نظر میں وہ ننگا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟ جواب بہت سادہ ہے۔ اس لیے کہ اس کی بیوی، اس کے بچے یا اس کا خاندان چین میں نہیں بلکہ امریکا، کینیڈا، یورپ یا آسٹریلیا میں رہ رہا ہوتا ہے۔میں نے جب پہلی بار یہ اصطلاح پڑھی تو میرے ذہن میں فوراً سوال اٹھا،کیا کسی افسر کے خاندان کا بیرونِ ملک ہونا واقعی اتنا بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے؟چین نے اس سوال کا جواب کسی کتاب میں نہیں، عمل میں دیا ہے۔ 2014 کے بعد چین میں ایک خاموش عمل شروع ہوا۔ نہ کوئی گرفتاری، نہ ایف آئی آر، نہ عدالت، نہ ٹی وی ٹاک شو۔ بس ایک دن فائل بند ہوئی اور افسر کو بتایا گیا کہ آپ اب اس عہدے کے لیے موزوں نہیں رہے۔ یہ افسر کرپٹ نہیں تھے، ان پر کوئی مالی الزام نہیں تھا، ان کے ہاتھ صاف تھے۔ پھر مسئلہ کیا تھا؟ مسئلہ یہ تھا کہ ان کے خاندان غلط جگہ پر تھے۔
چینی قیادت نے خود سے ایک سوال پوچھا، اور شاید یہی سوال ریاستوں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔ اگر کسی افسر کا بیٹا نیویارک میں ہو، بیٹی لندن میں ملازمت کرتی ہو اور بیوی ٹورنٹو میں مستقل رہائش رکھتی ہو، تو کیا وہ افسر واشنگٹن یا یورپ کے خلاف سخت فیصلہ کر سکتا ہے؟ کیا وہ پابندیوں، ویزوں، بینک اکاؤنٹس اور جائیدادوں کے دباؤ سے آزاد ہو سکتا ہے۔بیجنگ نے اس کاصاف جواب دیا’’نہیں‘‘۔چین کا ماننا ہے کہ جس افسر کا خاندان باہر ہو، وہ کمزور ہو جاتا ہے۔ وہ دباؤ میں آ سکتا ہے، بلیک میل ہو سکتا ہے، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے آسان ہدف بن سکتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت صدر شی جن پنگ نے فیصلہ کیا کہ چین کو اب صرف قابل لوگ نہیں چاہئیں، بلکہ غیر مشروط وفادار لوگ چاہئیں۔ چنانچہ ریاست نے افسر سے کہا ’’خاندان واپس لاؤ، یا کرسی چھوڑ دو‘‘۔یہ کوئی اخلاقی لیکچر نہیں تھا، یہ ریاستی بقا کا اعلان تھا۔
ہم چین کی ترقی کو عموماً سڑکوں، پلوں، ٹرینوں اور فیکٹریوں سے ناپتے ہیں، مگر اصل فرق یہ نہیں۔ اصل فرق یہ ہے کہ چین نے مان لیا ہے کہ ریاست جذبات سے نہیں، کنٹرول اور یقین سے چلتی ہے۔ چین جانتا ہے کہ عالمی سیاست کسی شاعر کی غزل نہیں، یہ مفادات کا بے رحم کھیل ہے اور اس کھیل میں وہی ملک زندہ رہتا ہے جس کے فیصلہ ساز ذاتی طور پر آزاد ہوں۔اب یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے۔ اگر یہی پیمانہ پاکستان پر لگایا جائے تو تصویر کیسی بنتی ہے؟ پاکستان میں طاقتور طبقے کے بچے کہاں ہیں؟لندن، نیویارک، دبئی، کینیڈا۔
کچھ کی جائیدادیں مے فیئر اور نائٹس برج میں ہیں، کچھ کے فلیٹس دبئی مرینا میں ہیں، کچھ نے آسٹریلیا کے ساحلی علاقوں میں ریزورٹس اور جزیرے نما جائیدادیں خرید رکھی ہیں اور کچھ کے نام سوئس بینکوں میں ایسے اکاؤنٹس سے جڑے ہیں جن کا ذکر فائلوں میں نہیں آتا۔ اب سوال یہ ہے۔کیا ایسا طبقہ واقعی آزادانہ قومی فیصلے کر سکتا ہے؟کیا ایسے لوگ آئی ایم ایف، امریکا یا مغرب کے خلاف سخت موقف اختیار کر سکتے ہیں؟یا پھر ہر فیصلہ کرتے وقت ان کے ذہن میں بچوں کے ویزے، جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹس گردش کرتے ہیں؟پھر ہم حیران کیوں ہوتے ہیں کہ ہم آئی ایم ایف کے سامنے کیوں جھک جاتے ہیں؟ ہم خارجہ پالیسی میں دو ٹوک بات کیوں نہیں کر پاتے؟ ہم ہر بڑے فیصلے سے پہلے ’’عالمی ردعمل‘‘ کیوں دیکھتے ہیں؟اصل مسئلہ صرف معیشت نہیں، بلکہ ذہنی غلامی ہے۔ اور ذہنی غلامی وہاں جنم لیتی ہے جہاں فیصلہ کرنے والوں کا مستقبل اس ملک میں نہیں ہوتا جس کے لیے وہ فیصلے کر رہے ہوتے ہیں۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ یہی آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے بار بار اپنی رپورٹس میں پاکستان کے اندر گورننس، شفافیت اور ادارہ جاتی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ عالمی ادارے، خصوصاً ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان مسلسل نچلے درجوں میں شمار ہوتا رہا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ مسئلہ چند افراد کا نہیں، پورے نظام کا ہے۔ آئی ایم ایف کی حالیہ جائزہ رپورٹس بھی واضح کرتی ہیں کہ پاکستان میں پالیسی سازی پر ذاتی مفادات، کمزور احتساب اور مفاداتی ٹکراؤ کا سایہ حاوی ہے، جس کی قیمت پوری معیشت ادا کرتی ہے۔
اور یہاں ایک اور تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ جب دنیا شفافیت کی طرف جا رہی ہے، اسی دوران پاکستان کی پارلیمنٹ ایسے قوانین منظور کرتی ہے جن کے تحت منتخب نمائندوں اور بعض عہدیداروں کے لیے اپنے اثاثے مکمل طور پر ظاہر نہ کرنے کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔ دلیل دی جاتی ہے کہ یہ ’’پرائیویسی اور سیکیورٹی‘‘ کا معاملہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب قانون ہی یہ سہولت دے دے کہ قوم کو یہ نہ بتایا جائے کہ اثاثے کہاں ہیں اور کس ملک میں ہیں، تو پھر ریاست وفاداری اور قومی مفاد کی جانچ کیسے کرے گی؟چین میں افسر سے پوچھا جاتا ہے کہ اس کا دل کہاں ہے، اور ہم نے قانون بنا کر یہ سوال ہی ختم کر دیا ہے کہ پیسہ کہاں ہے۔ یہ محض قانونی نہیں، ریاستی سمت کا سوال ہے۔ جب پارلیمنٹ خود شفافیت سے پیچھے ہٹ جائے تو پھر آئی ایم ایف، عالمی اداروں یا عوام کے سامنے اعتماد کیسے قائم ہوگا؟۔

مزیدخبریں