نریندر مودی کی قیادت میں بھارت جس سمت گامزن ہے، وہ محض ترقی، ٹیکنالوجی یا معاشی استحکام کی داستان نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں ایک واضح، منظم اور مسلسل ابھرتا ہوا عسکری بیانیہ بھی موجود ہے۔ حالیہ بھارتی بجٹ میں دفاعی اخراجات میں پندرہ فیصد اضافہ اسی سوچ کا عملی اظہار ہے، جس کے تحت بھارت خود کو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی سطح پر ایک بڑی فوجی طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔ پچاسی ارب ڈالر، یعنی تقریباً تئیس ہزار آٹھ سو ارب روپے کا دفاعی بجٹ کسی بھی لحاظ سے معمولی نہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خود بھارت کے اندر غربت، بے روزگاری، کسانوں کی بدحالی، مہنگائی اور سماجی عدم مساوات جیسے مسائل سنگین شکل اختیار کر چکے ہیں۔مودی حکومت کا مؤقف ہے کہ مضبوط دفاع ہی مضبوط بھارت کی ضمانت ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے مطابق اس بجٹ میں اضافے کا بنیادی مقصد بھارتی افواج کو جدید ترین لڑاکا طیاروں، ڈرونز، بحری جہازوں، آبدوزوں اور دیگر عسکری سازوسامان سے لیس کرنا ہے۔ بظاہر یہ دلیل قومی سلامتی کے نام پر دی جا رہی ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ آخر بھارت کو اس قدر تیز رفتار عسکری توسیع کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے؟ کیا واقعی خطے میں ایسے غیر معمولی خطرات موجود ہیں جو اس بے مثال دفاعی اخراجات کو جائز قرار دیں یا پھر یہ سب کچھ مودی حکومت کے جنگی جنون، طاقت کے مظاہرے اور بالادستی کے خواب کا نتیجہ ہے؟۔
حقیقت یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں بھارت کا عسکری اور سفارتی رویہ واضح طور پر جارحانہ ہوا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر مسلسل کشیدگی، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں اور پڑوسی ممالک کے خلاف سخت اور تحکمانہ لہجہ اس بات کی علامت ہے کہ مودی سرکار نے طاقت کو اپنی خارجہ اور داخلی پالیسی کا مرکزی ستون بنا لیا ہے۔ گزشتہ مئی میں پاکستان کے ساتھ چار روزہ تنازع، جس میں کم از کم ستر افراد ہلاک ہوئے، اسی رویے کی ایک خطرناک جھلک تھا۔ اس مختصر مگر شدید تصادم میں ڈرونز، میزائلوں اور توپ خانے کا بھرپور استعمال اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ یہ خطہ کس قدر تیزی سے ایک بڑی جنگ کے دہانے تک پہنچ سکتا ہے۔
دفاعی بجٹ میں حالیہ اضافہ محض فوجی تیاری تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک وسیع تر سٹرٹیجک مقصد بھی کارفرما دکھائی دیتا ہے، اور وہ ہے چین اور پاکستان پر عسکری و سیاسی بالادستی قائم کرنا۔ ایک طرف بھارت چین کے ساتھ لداخ اور اروناچل پردیش میں مسلسل سرحدی تنازعات کا سامنا کر رہا ہے، جہاں دونوں ممالک کی افواج آئے دن آمنے سامنے آتی ہیں، تو دوسری جانب پاکستان کے ساتھ تاریخی دشمنی اب ایک مستقل فوجی تنائو میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ایسے میں نئی دہلی کی جانب سے جدید ہتھیاروں، میزائل دفاعی نظام، بحری طاقت اور فضائی برتری پر غیر معمولی سرمایہ کاری اس بات کی غماز ہے کہ بھارت خطے میں طاقت کے توازن کو یکطرفہ طور پر اپنے حق میں موڑنا چاہتا ہے۔دلچسپ اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بھارت کے تعلقات صرف پاکستان اور چین تک ہی محدود طور پر خراب نہیں ہوئے، بلکہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی اعتماد کا شدید فقدان پیدا ہو چکا ہے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ پانی کی تقسیم، سرحدی کشیدگی اور سیاسی معاملات میں مداخلت کے الزامات تعلقات میں دراڑ کا باعث بنے ہیں۔ نیپال کے ساتھ سرحدی تنازعات اور سفارتی سرد مہری کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ سری لنکا میں بھارت کے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جہاں بھارتی اثر و رسوخ کو داخلی عدم استحکام سے جوڑا جاتا ہے۔ ان تمام مثالوں سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ بھارت خطے میں ایک ذمہ دار ہمسائے کے بجائے ایک بالادست طاقت کے طور پر خود کو منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔
دفاعی بجٹ میں اس بھاری اضافے کے اثرات بھارتی معیشت اور سماج پر بھی مرتب ہوں گے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اپنی بجٹ تقریر میں اعلان کیا کہ بھارت انفراسٹرکچر اور دفاع پر ریکارڈ رقم خرچ کرے گا۔ انفراسٹرکچر کے لیے ایک سو تیتیس ارب ڈالر اور دفاع کے لیے پچاسی ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ بظاہر انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری ایک مثبت قدم دکھائی دیتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس سرمایہ کاری کے ثمرات عام شہری تک کب اور کس شکل میں پہنچیں گے؟ بھارت میں آج بھی کروڑوں لوگ صاف پانی، معیاری صحت، بنیادی تعلیم اور مناسب رہائش جیسی سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ ریاست کی اولین ترجیح ہتھیاروں اور عسکری سازوسامان پر اربوں ڈالر خرچ کرنا بنتی جا رہی ہے۔
جنوبی ایشیا پہلے ہی ایک حساس خطہ ہے جہاں دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں۔ بھارت کی جانب سے عسکری طاقت میں اس قدر تیز اضافہ ایک نئی ہتھیاروں کی دوڑ کو جنم دے سکتا ہے، جس کا براہ راست اثر پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑے گا۔ امن، تجارت اور علاقائی تعاون کے امکانات اس فضا میں مزید کمزور ہو جائیں گے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت کی جارحانہ عسکری حکمت عملی اس کی داخلی سیاست سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ مودی حکومت قوم پرستی اور حب الوطنی کے نعروں کو استعمال کر کے عوامی توجہ مہنگائی، بے روزگاری اور سماجی ناانصافی جیسے اصل مسائل سے ہٹانے میں کامیاب رہی ہے۔ جب بھی داخلی بحران شدت اختیار کرتا ہے، قومی سلامتی اور دشمن کے خطرے کا بیانیہ ابھار دیا جاتا ہے۔ دفاعی بجٹ میں اضافہ اسی سیاسی حکمت عملی کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔اگر بھارت واقعی خود کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے تو اسے جنگی جنون کے بجائے سفارت کاری، اعتماد سازی اور علاقائی تعاون کو ترجیح دینا ہوگی۔
بھارت کی جنگی تیاری اور خطے کا غیر یقینی مستقبل
09:08 AM, 4 Feb, 2026