واشنگٹن :ٹرمپ انتظامیہ نے ہنرمند غیر ملکی افراد کے لیے ایچ ون بی ویزا کے حصول کو مزید سخت بنا دیا ہے۔ بدھ کے روز جاری کیے گئے نئے حکم نامے کے مطابق قونصلر افسران کو درخواست گزاروں کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں، آن لائن موجودگی، سابقہ ذمہ داریوں اور ڈیجیٹل پروفائلز کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ان سخت ہدایات کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ امریکہ آنے والے افراد حساس ٹیکنالوجی یا اہم شعبوں تک رسائی حاصل کرتے وقت قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بنیں۔ نئی پالیسی نئے اور سابقہ دونوں قسم کے درخواست گزاروں پر لاگو ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کا یہ سخت نظام ملکی سلامتی کے لیے ضروری ہے، تاہم ماہرین اور ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے بعض درخواست گزاروں کو ذاتی تشریح یا غیر واضح الزامات کی بنیاد پر بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ایچ ون بی ویزا امریکہ میں ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، میڈیکل اور دیگر ہائی اسکلڈ شعبوں کے لیے نہایت اہم ہے، جہاں دنیا بھر کے ماہرین خدمات انجام دیتے ہیں۔ پالیسی میں تبدیلی عالمی ہنرمند افرادی قوت پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
دو دسمبر کو امریکی سفارتی مشنز کو بھیجے گئے حکم میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کی LinkedIn پروفائلز، سی ویز اور آن لائن سرگرمیوں کا خاص طور پر جائزہ لیا جائے، بالخصوص ایسی سرگرمیوں کا جن کا تعلق معلومات کی نگرانی، گمراہ کن مواد، فیکٹ چیکنگ یا آن لائن سیفٹی سے ہو۔ ایسے شواہد ملنے پر ویزا مسترد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل بھی اسٹوڈنٹ ویزا کے لیے سوشل میڈیا کی سخت جانچ لازمی قرار دے چکی ہے، اور ایچ ون بی ویزا کی فیسوں میں اضافہ بھی حالیہ پالیسی کا حصہ ہے۔