اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے جو بھی خدشات یا قیاس آرائیاں ہیں، ان کا حل صرف اور صرف مخلصانہ اور شفاف بات چیت کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ این ایف سی ایوارڈ کا عمل مکمل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیر خزانہ کی سربراہی میں گیارہویں این ایف سی کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ سندھ، خیبرپختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے وزرائے خزانہ نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں صوبوں اور وفاق کی مالی حالت پر بریفنگ دی گئی، اور وزیر خزانہ نے تمام ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کا اجلاس آئینی ذمہ داری اور باہمی تعاون کا ایک اہم موقع ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ وفاقی حکومت کا واضح ارادہ ہے کہ صوبوں کے موقف کو سنا جائے اور ان کے ساتھ مل کر مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کی تکمیل کے لیے صوبوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی فضا قائم کرنی ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ قدرتی آفات جیسے سیلاب کے باوجود، صوبے وفاق کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہی اتحاد این ایف سی کے معاملات کو کامیابی سے مکمل کرنے میں مدد دے گا۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ صوبوں کی جانب سے نیشنل فِسکل پیکٹ پر دستخط کرنا ایک اچھا قدم ہے، جو قومی مفاد میں کام کرنے کی مشترکہ خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری طرف، وزارتِ منصوبہ بندی نے دو اہم تجاویز وزیراعظم کو پیش کی ہیں۔ پہلی تجویز میں قابل تقسیم محاصل سے دہشتگردی کے خلاف جنگ، واٹر سکیورٹی، سول آرمڈ فورسز اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے گرانٹس کے لیے 2.5 فیصد کٹوتی کی بات کی گئی ہے، جس کے بعد 57 فیصد صوبوں اور 42 فیصد وفاق کو ملیں گے۔ دوسری تجویز میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اخراجات کو قابل تقسیم محاصل سے نکال کر وفاق کے وسائل بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ایک اور اہم تجویز صوبوں کے درمیان این ایف سی کی تقسیم میں آبادی کے بجائے دیگر عوامل جیسے ریونیو جنریشن، زرخیزی اور جنگلات کے رقبے کو زیادہ اہمیت دینے کی ہے، تاکہ وسائل کی تقسیم میں بہتر توازن آ سکے۔