لاہور : بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے پنجاب حکومت نے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس کمیٹی کی چیئرپرسن سینئر وزیر مریم اورنگزیب کو مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سابق رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا اس کے شریک چیئرمین ہوں گے۔ یہ کمیٹی بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کرے گی، جس میں مختلف محکموں کے وزیروں اور اعلیٰ افسران کو شامل کیا گیا ہے۔
کمیٹی کا مقصد بچوں سے جبری مشقت کے مختلف شعبوں کی نشاندہی کرنا ہے، جن میں صنعتیں، زراعت، ورکشاپس اور دیگر سرگرمیاں شامل ہیں جہاں بچوں کو غیر قانونی طور پر کام پر لگایا جا رہا ہے۔ اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی جیسے جی آئی ایس اور اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے ایک مرکزی ڈیٹا بینک بھی تیار کیا جائے گا تاکہ تمام معلومات کو بہتر طریقے سے مرتب کیا جا سکے۔
کمیٹی نہ صرف فوری اقدامات پر توجہ دے گی بلکہ بچوں کے لیے متبادل روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ طویل مدتی حکمت عملی بھی تیار کرے گی تاکہ جبری مشقت کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، والدین، اساتذہ اور معاشرے کے دیگر افراد کو بھی اس مسئلے سے آگاہ کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ سب مل کر اس اہم مسئلے کا حل نکال سکیں۔