زندگی کے برسوں میں کچھ ملاقاتیں ایسی ہوتی ہیں جو محض ملاقاتیں نہیں ہوتیں، بلکہ تقدیر کی جانب سے عطا ہونے والے ایسے انمول تحفے ہوتی ہیں جن کی خوشبو برسوں ساتھ رہتی ہے۔ سید محسن جعفر سے پہلی ملاقات بھی میرے لیے کچھ ایسا ہی روح پرور تجربہ تھی۔ مجھے آج بھی وہ لمحہ یوں یاد ہے جیسے کل کی بات ہو۔ وارث نہاری کی شاپ پر بیٹھے ہوئے اچانک فضا میں ایک نفیس اور خوشگوار سی مہک پھیلی، اور یہ مہک ان کی گفتگو کی تھی۔ چند لمحوں کی ادبی تعارف نے مجھے اس بات کا احساس دلایا کہ بعض شخصیات دل کے دروازے دستک نہیں دیتیں، سیدھا دل میں اتر جاتی ہیں۔ سید محسن جعفر انہی ہستیوں میں سے ایک ہیں۔
اس پہلی ملاقات کے بعد یہ رفاقت یوں پروان چڑھی جیسے کسی پیاسے زمین کو پہلی بار موسمِ بہار کی بارش چھو لے۔ میں آج بھی اس تعلق کی بنیاد کا سارا کریڈٹ انہیں دیتا ہوں۔ وہی ابتدا کرنے والے، وہی در وا کرنے والے، اور وہی دل میں پیار اْتارنے والے۔ حسین مسکراہٹ، ملائمت بھرا لہجہ، اور اپنائیت سے لبریز گفتگو۔یہ تینوں اوصاف ان کی شخصیت کی بنیاد ہیں۔ انہی خالص اوصاف نے میرے دل میں ان کے لیے وہ مقام پیدا کیا جسے الفاظ میں ادا کرنا آسان نہیں۔
رفاقت کی محبت میں گندھی خوشبو:سید محسن جعفر سے میرا تعلق آج سے تیرہ چودہ برس پہلے اْس وقت قائم ہوا جب محرم الحرام کے دوران نیاز کے لیے انہوں نے وارث نہاری کا مشہور شیرمال آرڈر کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب تعارف سے پہلے محبت نے دل کے دروازے ہلکے سے کھول دیے۔ جب میں نے اپنا تعارف کروایا کہ میں شاعر ہوں اور ایک بڑے درویش شاعر حضرت پرنم الہ آبادی کا شاگرد و جانشین ہوں، تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔ انہوں نے بے ساختہ اپنے پی ٹی وی کے دفتر آنے کی دعوت دی۔ اگرچہ زندگی میں اللہ بہت سے لوگوں سے ملواتا ہے، مگر ہر شخص کے دل میں جگہ نہیں بن پاتی۔ سید محسن جعفر کا دل مگر باغِ محبت کی مانند ہے جہاں آنے والا ہر شخص بہار بن کر ٹھہرتا ہے۔یوں یہ سلسلہ چل نکلا، اور میں نے ان میں ایک ایسا روشن چراغ دیکھا جس کی لو میں محبت بھی ہے، انسان دوستی بھی، اور فن کا احترام بھی۔
ادب، فن اور تخلیق سید محسن جعفر کی بے مثال خدمات:محسن جعفر صاحب کی پوری زندگی تخلیقی جوش، فنی لگن اور انسان دوستی کے حسین امتزاج کا سفر ہے۔ 1990ء سے انہوں نے صحافت کی دنیا میں قدم رکھا۔ روزنامہ پاکستان سے آغاز کیا، پھر روزنامہ جنگ میں خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد جیو ٹی وی، پرائم ٹی وی، بی بی سی، ڈیلی ڈان جیسے معتبر اداروں سے وابستہ رہے۔ ایک شاندار اور بھرپور تخلیقی سفر کے بعد 2005ء میں انہوں نے پی ٹی وی جوائن کیا، جہاں ان کا اصل جوہر پوری آب و تاب سے چمکا۔تعلیم بھی پنجاب یونیورسٹی جیسی معتبر درسگاہ سے حاصل کی، اس لیے علم و شعور، بصیرت و آگہی ان کی گفتگو، سوچ اور مزاج میں نمایاں نظر آتی ہے۔
پی ٹی وی پر ان کی دو تہائی سے زیادہ مدت بطور سینئر پروڈیوسر گزری۔ اس دوران بے شمار پروگرامز انہوں نے ترتیب دیئے۔ مگر جس پروگرام نے انہیں خاص شہرت بخشی، وہ ’’فردوسِ گوش‘‘ تھا—ایک ایسا ادبی و فنی پروگرام جس نے موسیقی کی دنیا کے بہت سے روشن ستاروں کو عوام میں نمایاں کیا۔ کتنی ہی اہم شخصیات پہلی بار اسی پروگرام کے ذریعے سامنے آئیں۔ مجھے بھی ان کے خصوصی اصرار اور محبت کے سبب اس پروگرام میں شرکت کا اعزاز ملا۔
فن کو سمجھنا بہت بڑی بات ہے، مگر فنکار کے دل کو سمجھ لینا اس سے بھی بڑی خوبی ہے۔ سید محسن جعفر ان چند لوگوں میں سے ہیں جو فنکار کے اندر چھپے انسان کو پہچاننے کا ملکہ رکھتے ہیں۔
ریٹائرمنٹ۔لیکن دلوں سے کبھی ریٹائر نہ ہونے والا تعلق:حال ہی میں وہ پی ٹی وی سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ مگر کیا ہر ریٹائر ہونے والا شخص دلوں سے بھی رخصت ہو جاتا ہے؟ نہیں۔ کچھ لوگ اداروں سے محض کاغذوں پر جدا ہوتے ہیں، مگر دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ سید محسن جعفر بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ پر جس محبت، احترام اور خلوص کے ساتھ لوگوں نے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا، وہ ان کے کردار اور شخصیت کی کامیابی ہے۔
لوگوں کا کا کہنا تھا:’’سروس تو ہر کوئی پوری کر لیتا ہے، مگر کچھ لوگ دل آباد کرتے ہیں۔ جعفر صاحب انہی میں سے ایک ہیں۔‘‘
میں نے اپنے تئیں بہت کم لوگوں کو دیکھا ہے جن کے جانے سے کوئی ادارہ محسوس کرے کہ اس کی رونق، اس کی خوشبو، اور اس کا حسن کم ہو گیا ہے۔ پی ٹی وی یقیناً ان میں سے ہے۔مہمان نوازی ، سادگی میں بادشاہی کا رنگ:جب بھی میں ان کے دفتر جاتا، وہاں دوستوں کا تانتا بندھا ہوتا۔ چائے کے دور، گرما گرم جلیبیاں، سموسے۔یوں لگتا جیسے یہ کوئی آفس نہیں، سادات گھرانے کا لنگر ہو جہاں ہر آنے والا مہمان ہوتا ہے، اور ہر مہمان دل سے خوش ہوتا ہے۔سادات گھرانہ ہونے کا اثر ان کی طبیعت میں بدرجہ اتم موجود ہے،دردِ دل، خلوص، سخاوت، محبت اور نرم مزاجی۔ اللہ نے انہیں خاص طور پر محبتیں بانٹنے کی دولت عطا کی ہے۔ان کے juniors ہمیشہ کہتے ہیں کہ جعفر صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی سالگرہ مناتے، انہیں احترام دیتے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے، اور ہر چھوٹے سے بڑے لمحے میں ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ آج کے زمانے میں ایسا مزاج بڑی نعمت ہے۔
سفر، محبت اور یاد رکھنے کی عادت:سید محسن جعفر صاحب کو سیر و سیاحت کا بے حد شوق ہے۔ وہ جہاں بھی جاتے ہیں، وہاں کی تاریخی، ثقافتی، تہذیبی اور سماجی تصویروں کو سوشل میڈیا پر بیان کرتے ہیں۔ ہر ملک، ہر شہر، ہر گلی کے بارے میں یوں گفتگو کرتے ہیں جیسے محبت ان کا اصل لباس ہو۔
اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ باہر کہاں بھی ہوں مجھے کبھی نہیں بھولتے۔ فون ضرور کرتے ہیں، اور واپسی پر کوئی نہ کوئی تحفہ ضرور لاتے ہیں۔ یہ محبت کم کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔ادبی محافل میں ان کی روشنی:حضرت پرنم الہ آبادی کی برسی کے موقع پر جب بھی سالانہ تقریب ہوتی ہے، وہ میری دعوت پر شرکت کرتے ہیں۔ نہ صرف آتے ہیں بلکہ فنکاروں، ادیبوں، اور شوبز کی شخصیات تک میری رسائی کا ذریعہ بھی بنے۔ ان کا تعارف کروانے کا انداز ہمیشہ ایسا ہوتا جیسے کسی خزانے سے پردہ اٹھا رہے ہوں۔
یہی وہ محبت ہے جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔یہی وہ خلوص ہے جو انہیں دلوں پر حکمرانی عطا کرتا ہے
محبت کا پیکر:میں نے ان کے بارے میں آج تک جو بھی لکھا، کہا یا سوچا ہے، یقین جانیے وہ ان کی شخصیت کے سامنے کم ہے۔ وہ محبت کے سمندر ہیں—دریادلی کے پیکر—سچائی اور اخلاص کی مجسم تصویر۔ہنس مکھ، خوبصورت، دلپذیر، اور نرم دل انسان۔
ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو اپنے وجود سے روشنی تقسیم کرتے ہیں۔
سید محسن جعفر انہی چراغوں میں سے ایک ہیں جن کی لو بجھتی نہیں، پھیلتی رہتی ہے۔میرے لیے وہ محض ایک دوست نہیں۔وہ محبت کی خوشبو ہیں، خلوص کا استعارہ ہیں، اور انسانیت کا جادو ہیں۔ میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ان جیسی عظیم شخصیت کی رفاقت نصیب ہوئی۔
میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ سید محسن جعفر صاحب کو سلامت رکھے، خوش رکھے، اور ہمیشہ دلوں کا مرکز بنائے رکھے۔ان کی محبت، ان کی چاہت، اور ان کا خلوص بے انتہا ہے اور میں ان کی اس بے کراں محبت کا مقروض بھی ہوں اور قدردان بھی۔
سید محسن جعفر محبت اور فن کا جادوگری سے بھرپور سفر
09:24 AM, 4 Dec, 2025