یہاں صرف اشارہ توڑنا جرم ہے

09:23 AM, 4 Dec, 2025

جی ہاں یہاں صرف اشارہ توڑنا جْرم ہے آئین توڑنا یا دل وغیرہ توڑنا کوئی جرم نہیں ہے، اس ملک میں کتنی بار آئین ٹوٹے، توڑنے والوں سے کسی نے نہیں پوچھا، کسی نے اْن کا ’’چالان‘‘ نہیں کیا، اْن کا یہ’’پیدائشی حق ‘‘ سمجھ کر اْنہیں نظر انداز کر دیا گیا، بلکہ اس’’کار ثواب‘‘ پر اْن کی طاقتوں اور اختیارات میں مزید اضافے ہوتے چلے گئے، پہلے آئین وغیرہ وہ خود ہی توڑ لیتے تھے، اس کے لیے وہ پارلیمنٹ میں ترمیم لانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے، پہلے پارلیمنٹ میں بھی تھوڑا دم خم ہوتا تھا، حقیقی اپوزیشن ہوتی تھی یا ایسے سیاستدان ہوتے تھے جو آئین یا قانون توڑنے والوں کے خلاف تھوڑی بہت مزاحمت ضرور کرتے تھے، اب یہ معاشرہ اتنا بے شرم اور بے غیرت ہو گیا ہے کسی آئین یا قانون شکنی پر مزاحمت نہیں مزاحمتی ڈرامے ہوتے ہیں جن کا اثر ہی کوئی نہیں ہوتا، چنانچہ آئین و قانون شکنوں کو اب کھلی چھٹی ہے، ادھر تمام بڑے جرائم ’’قابل نظر انداز‘‘ ہیں ، سزائیں صرف چھوٹے چھوٹے جرائم پر ہوتی ہیں ، کسی نے اربوں کھربوں روپے یا ڈالرز کی کرپشن اگر کی ہے اْس سے کوئی نہیں پوچھے گا، اگر کوئی اْس سے پوچھے گا اْس کا واحد مقصد یہ ہو گا کہ ’’پاجی تسی اینی کرپشن کیتی اے، ساڈا کوئی خیال کیوں نہیں کیتا؟ یا ساہنوں ساہڈا حصہ کیوں نہیں پہنچایا؟‘‘، جیسے ایک شعر میں ہمیشہ عرض کرتا ہوں
پاک وطن میں جو کچھ ہے سب کچھ پیارے لْوٹ جا
رشوت لیتے پکڑا گیا ہے رشوت دے کے چھوٹ جا
یہ میں بڑی رشوت کی بات کر رہا ہوں جو چند روز پہلے آئی ایم ایف نے بھی کی ہے اور کسی کے کان پر جْوں تک نہیں رینگی، جب آئی ایم ایف کی کرپشن رپورٹ کھا پی لی گئی ہے اور ڈکار تک نہیں مارا گیا وہاں ہم جیسے کمزور قلم کار جتنی چاہیں کرپشن کی نشاندہی کر لیں یا اس کا رونا رو لیں کس نے پوچھنا ہے؟ بڑی کرپشن کی طرح دیگر جرائم بھی بڑے کرنے چاہئیں تاکہ کوئی آپ سے نہ پوچھے، حتیٰ کہ جیسے میں نے اْوپر عرض کیا آئین توڑیں کوئی آپ سے نہیں پوچھے گا البتہ چھوٹا موٹا ٹریفک اشارہ اگر آپ نے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر توڑ لیا اْس کی معافی ملنے کی توقع مت رکھیں، اسی طرح دل جتنے چاہیں لوگوں کے آپ توڑ دیں، چاہے جمہوریت اور سیاست کا بیڑا غرق کر کے توڑ دیں، چاہے جھوٹ بول کر منافقت کر کے توڑ دیں، چاہے لوگوں کو دھوکے دے کے توڑ دیں، چاہے ووٹ کے بجائے بوٹ کو عزت دے کر توڑ دیں، چاہے دنیا جہان کی بداخلاقیاں کر کے توڑ دیں، چاہے جیل میں بند کسی ’’سیاسی قیدی‘‘ کو اذیتیں دے کر توڑ دیں، کوئی آپ سے نہیں پوچھے گا، بس آپ ٹریفک کا اشارہ توڑ کے دکھائیں، پوری حکومت پوری ریاست آپ پر چڑھ دوڑے گی، پتہ نہیں اس موقع پر یہ واقعہ آپ کو سنانا بنتا ہے یا نہیں؟ یہ میرے بچپن کا واقعہ ہے جو آج پچپن میں بھی مجھے یاد ہے، میرے دادا گھر کے صحن میں نماز پڑھ رہے تھے، میں اْن کے پاس بیٹھا تھا، صحن کا دروازہ کھلا تھا، اچانک اْن کے بینائی سے محروم ایک دوست لاٹھی ٹیکتے ہوئے اندر داخل ہوئے اور میرے دادا کو اْن کے نام سے پکارنے لگے، اْنہیں نہیں پتہ تھا وہ نماز پڑھ رہے ہیں، میرے دادا نے فوراً نماز توڑ دی، اْنہیں پکڑ کر قریب ہی ایک چارپائی پر بٹھایا اور نماز پڑھ کے اْن سے گپ شپ کرنے لگے، مجھے اپنے دادا کا یہ عمل کچھ عجیب سا لگا، اْن کے وہ دوست جب چلے گئے میں نے اْن سے پوچھا ’’دادا ابو آپ نے نماز توڑ دی؟‘‘، وہ بولے’’ہاں نماز ہی توڑی ہے دل تو نہیں توڑا، نماز میں نے بعد میں بھی پڑھ لی، وہ اگر مجھ سے ملے بغیر چلے جاتے اْن کا دل ٹوٹ جانا تھا‘‘
مندر ڈھا دے مسجد ڈھا دے ڈھا دے جو کْجھ ڈھیندا
اک بندے دا دل نہ ڈھاویں رب دلاں وچ رہندا
ہمارے دلوں میں اب رب نہیں بستا، کیونکہ جہاں رب بستا ہے وہاں نفرتیں اور بغض نہیں بستے، ہمارے دل اب لوگوں کے خلاف نفرتوں منافقتوں اور بغضوں سے بھرے پڑے ہیں، رب اب یہاں کیسے بسے گا؟ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں اگر دوسروں کو قانون کا احترام سکھانا ہے پہلے خود سیکھیں، پہلے خود یہ فیصلہ کریں آئندہ آئین شکنوں کے دست و بازو نہیں بنیں گے، اْنہیں اپنا سہولت کار بنائیں گے، اپنے ذاتی مقاصد کے لیے آئین نہیں توڑیں گے، قانون کی خلاف ورزیاں نہیں کریں گے، اگر اس طرح کے عہد ہمارے حکمران کر لیں پھر اْن پر عمل بھی کر لیں، اْس کے بعد وہ اگر اپنی ’’رعایا‘‘ کو قانون کی گرفت میں لائیں اْس کا یقینا اثر ہو گا، اگر محض مال اکٹھا کرنے کے لیے لوگوں کو قانون کی گرفت میں لانے کی وہ کوشش کریں گے ممکن ہے عارضی طور پر اس کا کوئی اثر ڈر خوف کی وجہ سے ہو جائے وہ مستقل نہیں ہو گا، اس کا نتیجہ یہی نکلے گا عدالتوں سے کوئی نہ کوئی ایسا حکم آ جائے گا جس سے اْن کی ساری ’’مال کماؤ مہم‘‘ دم توڑ جائے گی، برسوں سے چلتے ہوئے سسٹم کو یک دم تبدیل کرنے سے اگر تو مقصد ٹریفک پولیس کے مال یا بجٹ میں اضافہ کرنا ہے پھر اور بات ہے، لیکن اگر اس سے لوگوں کی اصلاح مقصود ہے اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے اْس کے لیے یک دم اتنی پکڑ دھکڑ کرنے کے بجائے اور طرح کی حکمت عملی اپنانی چاہیے تھی، میں ایک واقعہ آپ کو سناتا ہوں پچھلے برس میں نیویارک میں بے دھیانی میں ایک سڑک پار کر رہا تھا اچانک ایک گاڑی مجھ سے ٹکرانے لگی، اْس گاڑی کا ڈرائیور اگر پورے زور سے بریکیں نہ لگاتا میرا کچومر نکل جاتا، اس دوران ایمرجنسی سائرن بجنے پر پولیس کی کئی گاڑیاں میرے ارد گرد آ کر رک گئیں، کچھ پولیس والے مجھے پکڑ کر دْور لے گئے، اس دوران میں خوفزدہ تھا اب یہ مجھ سے میرا پاسپورٹ مانگیں گے جو اْس وقت میرے پاس نہیں تھا یا اب یہ پکڑ کر مجھے قریبی پولیس سٹیشن لے جائیں گے اور پتہ نہیں کیا سزا اس جرم کی مجھے دیں گے کہ میں نے سڑک پار کرنے کے لیے’’زیبرا کراسنگ‘‘ کا استعمال کیوں نہیں کیا؟، مجال ہے کسی پولیس افسر نے ایسا کوئی سوال مجھ سے پوچھا ہو، امریکی پولیس دس منٹ تک بڑی محبت سے مجھے صرف یہ احساس دلاتی رہی زندگی کتنی قیمتی شے ہے جو میری اس احمقانہ حرکت کی وجہ سے مجھ سے چھن سکتی تھی، اْس کے بعد اْنہوں نے مجھے جانے کی اجازت دے دی، پاکستان میں ایسی حرکت پر پولیس والوں نے پہلے تو ماؤں بہنوں کی گالیاں دیتے ہوئے مجھ پر ٹْھڈوں اور تھپڑوں کی بوچھاڑ کر دینا تھی، بعد میں ’’ڈالے‘‘ میں ڈال کر مجھے تھانے لیجا کر میری جیب خالی کر کے کہنا تھا’’کاکا اس طرح کی حرکتیں آئندہ بھی کرتے رہنا تاکہ آئندہ بھی تمہاری جیب پر ڈاکہ ڈالنے کے ہمیں موقع ملتے رہیں‘‘۔

مزیدخبریں