’’گھر کا بھیدی…‘‘

09:22 AM, 4 Dec, 2025

چوپال میں سب بیٹھے ہوئے تھے۔ چپ سائیں اخبار کے مطالعہ میں محو تھے۔ اچانک بھاری بھرکم آواز سے سب چونک گئے۔ یہ آواز ساجد بھائی کی تھی۔ چپ سائیں نے اخبار ایک طرف رکھ کرکہا۔۔ ساجد میاں بتائو خیر تو ہے ۔۔کچھ جلدی اور پریشانی میں ہو۔۔۔ساجد بھائی نے کہاکہ سائیں جی دراصل میں چھ ماہ قبل ایک پوش علاقے میں شفٹ ہوگیا تھا۔مدعا یہ ہے کہ میں نے گھر میں ایک ملازمہ رکھی۔۔۔ وہ گھر کی صفائی نہیں بلکہ صفایا کرنے کے قریب تھی کہ ہم کو خبر ہوگئی اور ہم بال بال بچ گئے۔۔۔ مجھے اب وہ محاورہ ازبر ہوگیا ہے کہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔۔۔ لیکن سائیں جی اب آپ ہی اس بارے میں کچھ بتائیں۔
چپ سائیں گویا ہوئے کہ دوستوملازمائوں کی پہچان واقعی ایک انتہائی مشکل کام ہے لیکن اب تو زمانہ ہی بے حسی کا چل رہا ہے۔چپ سائیں نے کہاکہ محاورہ ''گھر کا بھیدی لنکا دھائے'' اردو زبان کے مشہور محاورات میں سے ایک ہے۔ یہ محاورہ نہ صرف زبانی طور پر معروف ہے بلکہ زندگی کے عملی پہلوؤں میں بھی اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نقصان یا خطرہ ہمیشہ باہر سے نہیں آتا، بلکہ کبھی کبھار سب سے بڑا نقصان وہ لوگ پہنچاتے ہیں جو ہمارے سب سے قریب ہوتے ہیں۔ یعنی، جو شخص گھر یا قریبی حلقے میں ہوتا ہے، وہ سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ وہ اندرونی معاملات، راز اور کمزوریوں سے واقف ہوتا ہے۔
یہ محاورہ زندگی میں کئی اہم اسباق سکھاتا ہے۔ سب سے پہلا سبق احتیاط اور ہوشیاری کا ہے۔دوستو! اگر انسان ہر کسی پر اندھا اعتماد کر لے تو یہ اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ہمارے معاشرتی اور خاندانی تعلقات میں، ہمارے قریبی لوگ ہمارے حالات، جذبات اور کمزوریوں سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ اگر وہ شخص نیک نیتی کا حامل ہو تو یہ ہمارے لیے فائدہ مند ہے، لیکن اگر اس کے ارادے درست نہ ہوں تو یہ سب سے بڑا نقصان 
پہنچانے والا ثابت ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محاورہ ہمیں سمجھدار اور محتاط رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔
صاحبو!ماضی پر نظر دوڑائیں تو تاریخ اور ادب میں بھی اس محاورے کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔دشمن صرف باہر سے نہیں آتا، بلکہ اندرونی دھوکہ دہی سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی شخص پر مکمل اعتماد کرنا ہمیشہ مناسب نہیں ہوتا، چاہے وہ کتنا ہی قریبی یا عزیز کیوں نہ ہو۔
روزمرہ زندگی میں بھی یہ محاورہ اپنی اہمیت کو برقرار رکھتا ہے۔ چاہے یہ گھر کے معاملات ہوں، کاروبار ہو یا سیاست، ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نقصان اکثر وہ لوگ پہنچاتے ہیں جو ہمارے بہت قریب ہوں۔ مثال کے طور پر، کسی کاروباری ادارے میں اگر ایک ملازم یا ساتھی قریبی حلقے کا ہو اور وہ نیک نیتی سے کام نہ کرے، تو اس کے اقدامات کمپنی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح گھر کے اندر بھی کبھی کبھار چھوٹی چھوٹی باتیں، جیسے راز کا افشاء یا غیر مناسب رویہ، بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔
چوپال کے دوستو یہ محاورہ صرف خطرے کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ ہمیں اعتماد اور ہوشیاری کا توازن قائم کرنے کی تعلیم بھی دیتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے قریبی لوگوں پر اعتماد کرے، لیکن اس اعتماد میں عقل مندی اور محتاط رویہ لازمی شامل ہو۔ کسی بھی رشتے میں مکمل اندھا اعتماد خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ محاورہ انسانی فطرت کی پیچیدگی کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ انسان کے قریبی تعلقات میں بھی نیکی اور بد نیتی دونوں کی گنجائش ہوتی ہے، اور اس سے آگاہ رہنا ضروری ہے۔
اس محاورے کا ایک اور اہم سبق معاشرتی اور خاندانی شعور کے بارے میں بھی ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی میں صرف بیرونی خطرات سے ہی بچنا کافی نہیں ہے، بلکہ اندرونی خطرات کی پہچان اور احتیاط بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ معاشرتی اور خاندانی تعلقات میں بعض اوقات اندرونی لوگوں کی وجہ سے جھگڑے، غلط فہمیاں اور نقصان پیدا ہو سکتا ہے۔
مزید برآں، یہ محاورہ اخلاقی اور ذہنی تربیت کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اپنے فیصلے ہمیشہ سوچ سمجھ کر کریں اور کسی بھی شخص پر بغیر سوچے سمجھے اعتماد نہ کریں۔ زندگی میں اکثر لوگ جذباتی طور پر اپنے قریبی افراد پر بھروسہ کرتے ہیں، لیکن تجربہ یہ بتاتا ہے کہ بعض اوقات یہی لوگ سب سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔اانسان کی فطرت پیچیدہ ہے۔ ہر شخص میں نیکی اور بد نیتی دونوں کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ کبھی کبھی وہ لوگ جو ہمارے سب سے قریب ہوتے ہیں، نادانستہ یا جان بوجھ کر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ہر حال میں ہوشیار رہنا چاہیے۔ محتاط رہنا زندگی میں ہماری کامیابی اور سلامتی کی ضمانت ہے۔
''گھر کا بھیدی لنکا دھائے'' نہ صرف ایک محاورہ ہے بلکہ ایک عملی سبق بھی ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی میں محتاط اور سمجھدار رہنا ضروری ہے تاکہ ہم اندرونی اور بیرونی خطرات دونوں سے محفوظ رہ سکیں۔اس طرح، یہ محاورہ نہ صرف زبان و ادب کا حصہ ہے بلکہ عملی زندگی میں بھی اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہ ہمیں زندگی کی حقیقتوں سے آگاہ کرتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ صرف بیرونی خطرات پر توجہ دینا کافی نہیں، بلکہ اندرونی خطرات سے بھی ہوشیار رہنا لازمی ہے۔
ساجد بھائی میں آخر پر یہ ضرور کہوں گاکہ اگر آپ گھر پر ملازمہ رکھنے سے پہلے پوری طرح تسلی کرلیتے تو شائد بات کچھ اور ہی ہوتی لیکن یہ شکر ہے کہ آپ بچ گئے لیکن آج کل اکثر اس طرح کے واقعات ہورہے ہیں کہ بچنا مشکل ہوتاہے اور ملازمائیں گروہ کی شکل میں گھر کا صفایا ایسا کرتی ہیں کہ چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیںاور آخر میں صرف پچھتاوا ہی رہ جاتا ہے،لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جس طرح نسلی انسان ختم ہوتے جارہے ہیںاسی طرح نسلی ملازموں کی بھی کمی ہوتی جارہی ہے اوراس معاملے میں اکثر دھوکہ زیادہ ہوتا ہے اور نقصان ہی ہوتا ہے۔ لہذا صاحبو سبق یہ ہے کہ ہر رشتے میں ہوشیاری، فہم اور محتاط رویہ لازمی ہے۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ نقصان اکثر وہ لوگ پہنچاتے ہیں جو ہمارے قریب ہوں۔ اس لیے عقل مندی اور ہوشیاری کے ساتھ زندگی گزارنا بہت ضروری ہے تاکہ ہم اپنی زندگی، اپنے گھر اور اپنے قریبی تعلقات میں محفوظ رہ سکیں۔۔۔۔رہے نام اللہ کا۔

مزیدخبریں