پاکستان میں گورنر راج: سیاسی و نظریاتی جائزہ

09:21 AM, 4 Dec, 2025

ایک بار پھر پاکستان میں گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔اس بار صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر کے ممکنہ نام ڈرائنگ روموں اور نیوز روموں میں زیرِ بحث ہیں، اور وہی پرانا سوال دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ آئین کب کسی صوبے کو براہِ راست وفاق کے زیرِ انتظام کرنے کی اجازت دیتا ہے، اور یہ قدم ہمارے سیاسی نظام کی گہری خامیوں کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟ 1947 سے اب تک پاکستان کے ہر صوبے میں کم از کم ایک بار گورنر راج نافذ کیا جا چکا ہے، اور ہر دور نے سیاسی، انتظامی اور آئینی سطح پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔
گورنر راج کا آئینی جواز پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 234 میں موجود ہے۔ اس کے تحت صدرِ مملکت، وفاقی حکومت کے مشورے پر، گورنر کو صوبے کا انتظام سنبھالنے کا اختیار دے سکتا ہے جب صوبائی حکومت آئینی تقاضوں کے مطابق کام کرنے کے قابل نہ رہے۔ آرٹیکل تو واضح اور طریقہ کار پر مبنی ہے، مگر اس کے نفاذ کے اسباب ہمیشہ بادی النظر میں سیاسی نظر آتے ہیں… اکثر متنازع، اور بعض اوقات مرکز و صوبے، حکومت و اپوزیشن یا امن و بے امنی کے درمیان گہرے تناؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔
عام تاثر کے برخلاف سندھ میں اب تک صرف تین بار براہِ راست گورنر راج نافذ ہوا۔ پہلی بار قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں، جب 1951 سے 1953 تک گورنر میاں امین الدین نے وزیرِ اعلیٰ محمد ایوب کھوڑو کی برطرفی اور اسمبلی کے تحلیل ہونے کے بعد صوبے کا کنٹرول سنبھالا۔ دوسری مرتبہ 1988 میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) رحیم الدین خان کے دور میں، جب کراچی اور حیدرآباد میں شدید لسانی فسادات کے بعد حکومت ہٹا دی گئی۔ تیسری بار 1998 میں حکیم محمد سعید کے قتل کے بعد لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر کو صوبے کا انتظام دیا گیا۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق اس سے پہلے ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان کشیدگی نے حکومتی معاملات کو شدید متاثر کر رکھا تھا، جس سے ظاہر ہوا کہ اتحادی بندوبست دباؤ برداشت کرنے کے قابل نہیں تھے۔
بلوچستان کی تاریخ بھی اسی طرح کے اتار چڑھاؤ سے بھری ہوئی ہے۔ پہلی بار 1973 میں عطا اللہ مینگل کی حکومت کو علیحدگی پسندی کے الزامات اور امن و امان کی خرابی کے باعث برطرف کر کے میر غوث بخش بزنجو کے دور میں گورنر راج نافذ ہوا۔ 1975 اور پھر 1977 میں میر احمد یار خان بلوچ کے تحت دوبارہ گورنر راج نافذ ہوا، جو ملک گیر سیاسی ہلچل سے جڑا تھا۔ بعد ازاں 1999 سے 2002 تک جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کے دوران سید محمد فضل آغا نے صوبے کا انتظام چلایا۔ سب سے حالیہ مثال 2013 کی ہے، جب بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ دہشت گردی اور حکومت کی مفلوج کارکردگی کے باعث نواب ذوالفقار علی مگسی نے صوبائی انتظام سنبھالا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ہر مثال صرف انتظامی ناکامیوں ہی کی نہیں، بلکہ مرکز کی جانب سے سیاسی مسائل کو جمہوری انداز میں حل نہ کرنے کے رجحان کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
پنجاب جو سب سے بڑا اور سیاسی طور پر سب سے اہم صوبہ ہے…میں بھی تین بار گورنر راج لگ چکا ہے۔ پہلی بار 1949 میں، جب وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے دریافت کیا کہ وزیرِ اعلیٰ افتخار ممدوٹ نے اپنی اکثریت بڑھا چڑھا کر پیش کی ہے۔ اس کے بعد سر فرینسس موڈی اور پھر سردار عبدالرب نشتر نے تقریباً دو سال تک صوبہ چلایا، جو اس بات کا ثبوت تھا کہ نو زائیدہ جمہوری ادارے کس قدر کمزور تھے۔ دوسری بار 1999 میں جنرل مشرف کی فوجی حکومت نے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف کی حکومت برطرف کر کے صوبے کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد صفدر اور پھر لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول کے حوالے کر دیا۔ تیسری بار 2009 میں، جب صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف اور شہباز شریف کی نااہلی کے بعد صوبائی انتظامی اختیارات گورنر سلمان تاثیر کو دے دیئے…اگرچہ اسمبلی برقرار رہی۔
خیبر پختونخوا جو پہلے صوبہ سرحد کہلاتا تھا…میں بھی تین بار گورنر راج نافذ کیا گیا۔ پہلی بار 1975 میں میجر جنرل (ر) سید غوث کے دور میں، جب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار میں سیاسی بے چینی بڑھ گئی تھی۔ دوسری بار 1994 میں، جب بڑھتی ہوئی داخلی کشیدگی اور انتظامی بدنظمی کے باعث میجر جنرل (ر) خورشید علی خان نے صوبائی انتظام سنبھالا۔ تیسری بار 1999 کے بعد، جب لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد شفیق اور بعد ازاں لیفٹیننٹ جنرل (ر) افتخار حسین شاہ نے 2002 تک صوبہ چلایا۔ مورخین کے مطابق ہر مثال بدتر امن و امان، کمزور سیاسی اتحاد اور مرکز کی جانب سے کنٹرول سنبھالنے کے رجحان کا نتیجہ تھی۔ان تمام ادوار کا جائزہ ایک تلخ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ پاکستان میں گورنر راج کبھی بھی خالصتاً آئینی اقدام نہیں رہا، بلکہ اس میں ہمیشہ سیاسی رنگ غالب رہا ہے۔ بعض مواقع پر اسے حقیقی انتظامی بگاڑ کے سبب جائز قرار دیا جا سکتا ہے، مگر اکثر یہ سیاسی صف بندی بدلنے، مخالفین کو روکنے یا طاقت کے توازن کو ازسرِ نو ترتیب دینے کا ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ ہمارے صوبائی اداروں کی کمزوریوں اور وفاقی ڈھانچے میں موجود مرکزیت کے رجحان دونوں کی عکاسی کرتا ہے۔تاریخ کا سبق واضح ہے؛ گورنر راج وقتی انتظامی ریلیف تو دے سکتا ہے، مگر پائیدار صوبائی حکمرانی کی بنیاد نہیں رکھ سکتا۔ اس کے لیے مضبوط سیاسی جماعتیں، آئینی حدود کا احترام، فعال مقامی حکومتیں اور جمہوری تحمل کا مزاج درکار ہے۔ جب تک پاکستان ان اصولوں کو اپنانے میں سنجیدہ نہیں ہوتا، مداخلت اور عدم استحکام کا چکر صوبائی سیاست کے گرد منڈلاتا رہے گا۔
خلاصہ یہ ہے کہ فیڈریشن کا اصل امتحان یہ نہیں ہوتا کہ وہ کتنی بار اختیار کو مرکز میں سمیٹتی ہے، بلکہ یہ کہ وہ صوبائی خودمختاری کا تحفظ کرتے ہوئے کس طرح آئینی نظم کو برقرار رکھتی ہے۔ گورنر راج کا سفر یاد دلاتا ہے کہ آئین علاج فراہم کرتا ہے، مگر یہ سیاسی بصیرت پر منحصر ہے کہ وہ علاج زخم بھرتا ہے یا نظام کو مزید زخمی کر دیتا ہے۔

مزیدخبریں