گذشتہ کچھ دنوں سے سندھ اور پنجاب میں خاص طور پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ٹریفک پولیس کی جانب سے جو ایکشن لیا جا رہا ہے ان پر سوشل میڈیا پر ایک طوفان بپا ہے ۔ اگر تو جرمانوں کی رقم اور ایف آر کے بے جا اندراج پر یہ سب کچھ ہو رہا ہوتا تو ہم بھی یقینا اس واویلا میں شریک ہو جاتے لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ جن قوانین پر عمل ہو رہا ہے ان میں سے بیشتر ایک عرصہ سے نافذ ہیں لیکن ان پر عمل نہیں ہو رہا تھا اور جو لوگ اس عمل درآمد پر شور کر رہے ہیں یہی لوگ تھے کہ ہر حادثہ کے بعد کہتے تھے کہ حکومت کی رٹ ہی نہیں ہے اگر ٹریفک قوانین پر در ست طریقہ سے عمل ہوتا تو ٹریفک حادثات میں کمی ہو سکتی تھی اور پھر یورپ امریکہ کی مثالیں بھی دیتے تھے ۔ ایک مثال تو ہمیں بھی یاد ہے لیکن کافی وقت گذر چکا ہے اس لئے ٹھیک طرح سے یاد نہیں ہے کہ لیڈی ڈیانا کے کون سے بیٹے تھے انھیںگاڑی چلانے کا بہت شوق تھا تو شاہی خاندان کے سپوت تھے انھیں کون سی دولت کی کمی تھی فوری طور پر گاڑی خرید کر شہزادے کا شوق پورا کر دیا گیا لیکن انھیں اپنا شوق پورا کرنے کے لئے گاڑی کو محل سے باہر لے جانے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ ابھی ان کی عمر 18سال نہیں ہوئی تھی ۔ اندازہ کریں کہ شاہی خاندان کا چشم و چراغ لیکن چونکہ ابھی عمر 18سال نہیں تھی تو بغیر لائسنس کے انھیں گاڑی کو محل سے باہر لے جانے کی اجازت نہیں ملی ۔ اب یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ شہزادے کے شوق کو دیکھتے ہوئے ان کے لئے ٹریفک قوانین میں نرمی کر دی جاتی لیکن ایک تو وہاں پر اس طرح کسی فرد کے لئے خاص طور پر قوانین میں ترمیم نہیں کی جاتی اور دوسرا سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ شاہی خاندان میں بھی اتنی عقل ضرور تھی کہ اگر 18سال سے کم عمر بچوں کو ڈرائیونگ لائسنس نہیں دیا جاتا تو اس میں خود ان کی حفاظت ہی سب سے بڑی وجہ ہے لیکن پاکستان میں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے اور فقط حکومت کی مخالفت برائے مخالفت میں جو بات درست ہے اس پر بھی تنقید ہوتی ہے ۔
ہم نے اپنی تحریر کے شروع میں ہی عرض کیا کہ اگر بات جرمانوں کی رقم کی ہوتی یا مختلف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ایف آئی آرز کے اندراج پر تنقید ہوتی تو ہم بھی کہتے کہ ٹھیک ہے بے چارے موٹر سائیکل سوار لوئر مڈل کلاس طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں ان پر جرمانوں کا اتنا زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے اور ہم اس کالم کے توسط سے اب بھی پنجاب حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جرمانوں میں کمی کی جائے اور ایف آئی آرز کے اندراج کے قوانین پر بھی نظر ثانی کی جائے لیکن ایف آئی آر کے جس قانون اور اس پر عمل کرنے کے حوالے سے سب سے زیادہ تنقید ہو رہی ہے یا یہ کہہ لیں معصوم بچوں کو قربانی کا بکرا بنا کر جس قانون پر سب سے زیادہ تنقید ہو رہی ہے اور ایک شور ہے کہ سوشل میڈیا پر تھمنے کا نام نہیں لے رہا اس کے متعلق ہم کہیں گے کہ اس پر جتنی زیادہ سختی سے عمل ہو سکتا ہے وہ کیا جائے اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہم حکومت کی حمایت میں یہ سب کہہ رہے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم یہ بات ان معصوم بچوں کے تحفظ کی خاطر کہہ رہے ہیں اس لئے کہ ہمارے بڑے قریبی عزیز ہیں کہ دس پندرہ برس پہلے کی بات ہے کہ لاہور میں کینال روڈ پر ان کے کم سن بچے کا کار ایکسیڈنٹ ہو گیا جس میں دو تین دن زندگی و موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد اس بچے کی موت واقع ہو گئی اور اس انتہائی المناک موت پر گھر والوں کا اور خاص طور پر ان کی والدہ کا کہ جو میرے لئے انتہائی محترم بہن کا درجہ رکھتی ہیں ان کی جو حالت تھی وہ دیکھی نہیں جا رہی تھی تو نو عمر بچے کہ جن کی عمر 18سال سے کم ہے وہ اگر سڑکوں پر کسی بھی گاڑی کو کہ جس میں موٹر سائیکل سے لے کر کار ہے ڈرائیو کرتے نظر آئیں تو ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے لیکن اس حوالے سے اتنی گذارش ہے کہ سزا کو بے شک اس سے بھی زیادہ کر دیا جائے لیکن ایف آئی آر اس بچے کی بجائے اس کے والدین پر درج ہونی چاہئے تاکہ وہ دوبارہ اسے بغیر لائسنس اور اس کم عمری میں گاڑی چلانے کو نہ دیں ۔
اس پر کہا یہ جا رہا ہے کہ جناب بچوں کو سکول، کالج جانا ہوتا ہے اس لئے ان کے ساتھ رعایت برتی جائے تو جو لوگ یہ سوال کر رہے ہیں انھیں خدا کا خوف ہونا چاہئے کہ کیا اس جواز کو بنیاد بنا کر بچوں کو موت کے منہ میں جانے کی اجازت دے دی جائے اور یقین کریں کہ رکل کو اگر کسی والدین کے لخت جگر کی موت کم عمری میں ہو جاتی ہے تو پھر یہی لوگ لٹھ لے کر حکومت کے پیچھے پڑ جائیں گے ۔ دوسرا ان سے سوال ہے کہ ہمیں صرف یہ بتایا جائے کہ کیا پوری دنیا میں کہیں کم عمری میں بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ کی اجازت ہے تو ہمیں کوئی ایک مثال دے دیں تاکہ ہم اس کو بنیاد بنا کر حکومت سے ان قوانین میں ترمیم کا کہہ سکیں ۔ اس کے علاوہ ایک اور سوال بھی ہے کہ کیا پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں بچے سکول یا کالج نہیں جاتے تو جواب ہے کہ بالکل جاتے ہیں لیکن کہیں پر حکومت کی مخالفت میں ان معصوموں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کی باتیں نہیں ہوتیں ۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی
09:20 AM, 4 Dec, 2025