غریب عوام کا منہ چڑاتے سرکاری ملازمین کے محلات

09:20 AM, 4 Dec, 2025

وفاقی اور پنجاب حکومت نے اپنے دورِ کا آغاز چند ایسے اقدامات سے کیا ہے جن کا انہوں نے وعدہ بھی نہیں کیا تھا۔ صفائی کی بہتری، امن و امان پر توجہ، ٹریفک اور انتظامی نظم کی بحالی، سرکاری دفاتر میں حاضری اور کارکردگی کو سخت کرنا۔یہ سب وہ کام ہیں جن پر شہریوں نے عمومی طور پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔حکومت نے وہ منصوبے بھی شروع کیے جن کے خواب پچھلے ادوار میں دکھائے تو گئے مگر عملی شکل اختیار نہ کرسکے۔ یہ وہ مثبت رخ ہے جس کا اعتراف ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ کچھ سخت اور دیرینہ مسائل بھی موجود ہیں جن پر اب تک کسی حکومت نے ہاتھ نہیں ڈالا۔اس ہاتھ ڈالنے کے لئے عارضی نہیں مستقل پالیسی درکار ہے۔
ان میں سب سے اہم اور فوری توجہ کے لائق مسئلہ سرکاری محلات یعنی گورنر ہاؤس لاہور، پنجاب بھر کے کمشنر ہاؤسز اور ڈی سی ہاؤسز ہیں۔ یہ وہ عمارات ہیں جن کے دروازوں سے اگر عوام کا درد گزرتا ہوا کبھی آواز دیتا بھی ہے تو دیواروں کی بلندی اور درختوں کی گھنی چھاؤں اس آواز کو اندر تک پہنچنے نہیں دیتی۔ گورنر ہاؤس لاہور سات سو کنال سے زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کے وسیع لان، گھنے درخت، تاریخی عمارتیں، ذاتی اصطبل، رہائشی بلاکس، مہمان خانے اور سکیورٹی بیریئرز ایک ایسی دنیا تشکیل دیتے ہیں جو قلعے کی طرح بیرونی حقیقتوں سے بے نیاز ہے۔
یہاں ایک شخصیت کی خدمت کے لیے اوسطاً چھ سو سے زیادہ افراد تعینات ہوتے ہیں۔ پنجاب بھر میں اعلیٰ سرکاری افسران کی اسی نوعیت کی سرکاری رہائش گاہیں مجموعی طور پر نو ہزار کے قریب کنال پر پھیلی ہوئی ہیں جن کی مالیت چار سو ارب روپے سے زیادہ بنتی ہے، جبکہ سالانہ مرمت، تنخواہوں اور سروسز پر دس سے بارہ ارب روپے عوام کے بجٹ سے خرچ کیے جاتے ہیں۔ ملک جس معاشی دباو سے گزر رہا ہے، ایسے میں اس قسم کے شاہانہ ڈھانچے کسی بھی طور ایک غریب ریاست کی ترجیحات سے میل نہیں کھاتے۔ایک طرف لوگ بھوک سے بے حال ہیں اور دوسری طرف مراعات یافتہ طبقات کا پروٹوکول ہی پورا نہیں ہوتا۔
 ان محلات کا ایک اور رخ بھی ہے جو باہر بیٹھ کر اندازہ نہیں ہوتا۔ مجھے گورنر ہاؤس کئی بار جانے کا موقع ملا۔ چائے اور مختصر ملاقات کے بعد جب ہم باہر نکلتے ہیں تو دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی دو تین ملازم معنی خیز مسکراہٹوں کے ساتھ آگے بڑھ کر سلام کرتے ہیں۔ وہ ‘‘السلام علیکم’’ نہیں کہتے، ان کے سلام میں ایک عجیب سا خم اور درخواست کی پوشیدہ لرزش ہوتی ہے۔ وہ سلام دراصل سلام نہیں ہوتا،ایک خاموش مطالبہ ہوتا ہے کہ جانے سے پہلے چند روپے ہاتھ پر رکھ دیں۔
چھبیس نومبر کو ہونے والی میٹنگ کے بعد ایک ملازم کے ایسے ہی توقع بھرے سلام کے جواب میں دو ہزار روپے ہاتھ پر رکھ دیئے۔ روپے ملتے ہی جیسے دروازہ کھل گیا ہو، چار پانچ اور ملازم ادھر ادھر سے نمودار ہوگئے۔ اب وہ بھی دبی زبان اور عجیب انداز میں ’’سلام علیکم سر‘‘ دہرانے لگے۔یہ سلام نہیں، ہاتھ پھیلانے کا ایک طریقہ بن چکا ہے۔ اگر آپ رقم دینے میں دیر کریں تو وہ آپ کے ساتھ ساتھ چلنا شروع کر دیتے ہیں، گویا آپ ان کے قرض دار ہوں۔ یہ کیفیت صرف حیران کن نہیں بلکہ تکلیف دہ اور شرمناک بھی ہے۔
گورنر ہاؤس کی چائے، بسکٹ، سروس،سب کچھ اس شان و شوکت کے برعکس ہے جس کے لیے اتنی خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے۔قاعدہ ہے کہ پہلے پانی پیش کیا جاتا ہے،لیکن یہاں ایک بیکار سی چائے، بسکٹ غیر معیاری، پیسٹری خشک اور باس زدہ۔ مانچسٹر سے آئے ایک کاروباری دوست شاہد صاحب میرے ساتھ تھے ،وہ پہلی بار گورنر ہاؤس آئے تھے۔ سخت حیران ہوئے کہ یہ وہی مقام ہے جو ہمارے ٹیکسوں پر چلتا ہے؟۔
وہ حیرانی بجا تھی، کیونکہ لاہور چیمبر آف کامرس،جو کہ ایک نجی ادارہ ہے،اس سے ہزار درجے بہتر سروس رکھتا ہے۔ نہ کوئی ملازم سلام کے بہانے روپے مانگتا ہے، نہ کسی کو شرمندہ کیا جاتا ہے۔ معیار ہے، سلیقہ ہے اور ایک پیشہ ورانہ رکھ رکھاؤ ہے۔
ایک طرف سرکاری محلات کے بجٹ کے لیے کروڑوں اور اربوں روپے رکھے جاتے ہیں، دوسری طرف ان محلات کے دروازوں پر ملازمین بھیک مانگتے ہیں۔ یہ تضاد صرف ایک واقعہ نہیں، یہ پورے نظام کے زوال کی علامت ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ محلات کی شان برقرار ہے مگر انسانوں کا وقار مجروح ہے۔ یہ رویہ صرف گورنر ہاؤس تک محدود نہیں، یہ کلچر اوپر تک جاتا ہے۔ بڑے بڑے ایوانوں میں اسی طرح کے غیر رسمی لین دین، اسی طرح کی درخواستیں، اسی طرح کے "سلام" چلتے ہیں۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو اوپر سے نیچے تک رسوائی کا سبب بنا ہوا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا مریم نواز صاحبہ ان محلات کے مستقبل سے متعلق وہ فیصلہ کرسکتی ہیں جس کا مطالبہ عوام عرصہ دراز سے کرتے آئے ہیں؟ کیا گورنر ہاؤس کو کسی تعلیمی ادارے، کسی یونیورسٹی،کسی ہوٹل یا کسی بڑے عوامی منصوبے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے؟ کیا کمشنر اور ڈی سی کے وسیع و عریض بنگلوں کو سرکاری ضرورت کے مطابق کم کیا جاسکتا ہے؟ کیا افسران کے ذاتی عملے، درجنوں مالیوں، باورچیوں، ڈرائیوروں، چوکیداروں اور دربانوں کی فوج کا بوجھ عوام پر ڈالنا جاری رکھا جائے گا؟۔
دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے، جدید انتظامی ماڈل اپنا رہی ہے، سرکاری رہائش گاہوں کو چھوٹا کر رہی ہے، مگر ہم اب بھی نوآبادیاتی دور کے محلات کو ٹیکس دہندگان کی گردن پر سجا کر بیٹھے ہیں۔ ایک طرف قوم افلاس، بیروزگاری اور مہنگائی کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے، دوسری طرف چند شخصیات کے لیے شاندار رہائشیں، باربرداری کا لشکر اور ’’سلام کے پیچھے چھپا تقاضا‘‘ ایک معاشرتی ناسور بنتا جا رہا ہے۔
اگر واقعی تبدیلی مطلوب ہے تو پھر اسے محلات کے دروازوں سے شروع ہونا ہوگا۔ عوام کی جیب سے نکلنے والی ہر رقم کا حساب ہونا چاہیے اور ان محلات کا مستقبل عوامی مفاد سے جڑا ہونا چاہیے۔ حکمرانی کا اصل معیار یہ نہیں کہ حکمران کس محل میں رہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ عوام کس حالت میں جی رہے ہیں۔
جب تک یہ توازن درست نہیں ہوتا، تب تک کوئی بھی اصلاح ادھوری اور کوئی بھی تبدیلی نامکمل رہے گی۔

مزیدخبریں