واشنگٹن : امریکہ میں امیگریشن کے ادارے یو ایس سی آئی ایس (USCIS) نے شادی کے ذریعے گرین کارڈ حاصل کرنے والوں کے لیے نئے اور سخت اصول لاگو کر دیے ہیں، جو یکم اگست 2025 سے نافذ ہو چکے ہیں۔
ان نئی ہدایات کے مطابق، اب صرف شادی کا سرٹیفکیٹ دکھانا کافی نہیں ہوگا۔ درخواست گزاروں کو یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی شادی حقیقت میں ہوئی ہے اور وہ ساتھ رہ رہے ہیں۔ اس کے لیے شادی کے بعد کی تصویریں، مشترکہ بینک اکاؤنٹس یا بلز، اور قریبی لوگوں کے حلف نامے مانگے جائیں گے۔
یو ایس سی آئی ایس اب یہ بھی چیک کرے گا کہ ماضی میں اس شخص نے کوئی امیگریشن فراڈ تو نہیں کیا، یا پہلے سے کوئی جھوٹ پر مبنی درخواست تو نہیں دی۔
اگر کسی کی درخواست میں کچھ مشکوک پایا گیا تو اس پر تحقیقات ہو سکتی ہیں، اور اگر شادی جعلی ثابت ہوئی تو نہ صرف درخواست رد ہوگی بلکہ ملک بدری (ڈیپورٹیشن) بھی ہو سکتی ہے۔
یہاں تک کہ اگر کسی کو گرین کارڈ مل بھی جائے، اور بعد میں ثابت ہو جائے کہ وہ شخص قانونی طور پر امریکہ میں رہنے کا اہل نہیں تھا، تو عدالت میں بلا کر ملک بدری کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ سچ پر مبنی اور مکمل دستاویزات کے ساتھ درخواست دیں گے، ان کے لیے فکر کی بات نہیں، لیکن جو لوگ شادی کا غلط استعمال کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے اب راستہ بند ہوتا جا رہا ہے۔