ارادوں کا بیانات اور اعمال کے آئینہ میں جائزہ لیا جائے تو کوئی بھی شخص اندر، باہر سے بے نقاب ہوجاتا ہے یہ ایسی کسوٹی ہے جس کی پرکھ صداقت کی امین ہوتی ہے۔ پولیٹیکل سائنس میں فائنل ایئر کی طالبہ سکینہ سومرو کے سوال میں چونکا دینے والا کوئی عنصر تو نہیں تھا البتہ متذکرہ بالا کسوٹی پر اس سوال کے جائزہ کی صورت بن گئی کہ یہ عمران خان اپنے پروگراموں کیلئے ایسی تاریخ یا دن کا انتخاب کیوں کرتا ہے جو پاکستانی عوام کی اکثریت کیلئے تلخ یادیں رکھتے ہیں مثلاً 16دسمبر، 5اگست وغیرہ ، یقیناً یہ ایسا سوال ہے جو غورطلب ہے۔ 16دسمبر جب پاکستان دولخت ہوا اور 5اگست جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جموں وکشمیر کوزبردستی بھارت میں شامل کرلیا جبکہ اس علاقے پر پہلے ہی اس کا فوجی قبضہ تھا۔ دونوں واقعات میں بھارت ملوث ہے اور دونوں واقعات دراصل سانحات میں پاکستان کے حکمرانوں کی بظاہر معاونت کے ڈانڈے ملتے ہیں، تب صدر جنرل یحییٰ خان اور مغربی پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی پیپلزپارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کے اقدامات نے ایسے حالات کو جنم دیا جن سے پاکستان دولخت ہونے کی راہ ہموار ہوگئی۔ ’’جمہوریت ہماری سیاست ‘‘کا نعرہ اور منشور رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو نے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی کو اقتدار کی منتقلی میں رکاوٹیں ڈال کر خود اس نعرے کی سنگین خلاف ورزی کی۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے سلسلے میں تب امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر کی جانب سے امریکی کردار کے اعتراف نے اس کردار کے حوالے سے جنرل یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے بلاواسطہ یا بالواسطہ سہولت کار بننے کے بارے میں اس وقت کی اپوزیشن نے جوسوالات اٹھائے تھے ان کی بازگشت اب بھی کبھی کبھی سیاسی وصحافتی اور دانشورانہ حلقوں میں سنائی دیتی ہے مزید کچھ برسوں بعد یہ بازگشت بھی طاق نسیاں کی نذر ہو جائے گی۔
البتہ 5اگست کے حوالے سے ایسے واقعاتی شواہد ابھی تازہ ہیں۔ جو عمران خان کے کردارکی جانب انگلیاں اٹھانے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد عمران خان کے پاکستان پہنچتے ہی بھارتی وزیراعظم مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے بھارت کے صوبے میں تبدیل کرکے بین الاقوامی اصول وقوانین کو پیروں تلے روند دیا اس پر نہ صرف مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر بلکہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں کشمیریوں کے ساتھ انصاف پسند لوگوں کا بھی احتجاج فطری امرتھا اس احتجاج کے نتیجے میں مودی اپنا یہ غیرمنصفانہ فیصلہ واپس لینے پر مجبور بھی ہوسکتا تھا یا عالمی سطح پر مشکلات کا شکار ہوسکتا تھا۔ آزاد کشمیر میں کشمیری عوام نے احتجاجی قافلوں کی صورت کنٹرول لائن کی جانب مارچ شروع کیا تو وزیراعظم پاکستان عمران خان بھاگم بھاگ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد پہنچا، عام جلسہ کیا احتجاجی قافلوں کو کنٹرول لائن کی جانب جانے سے روک دیا اور کہا تمہیں بتاؤں گا کب اس طرف جانا ہے‘‘اور ساتھ ہی اعلان کیا کہ اس بھارتی اقدام کے خلاف آزاد کشمیر اور پاکستان میں ہرنمازجمعہ کے بعد نصف گھنٹہ تک انسانی زنجیر بنائی جائے گی پہلے جمعہ جس جوش وجذبے سے یہ زنجیر بنائی گئی دوسرے جمعہ اس سے کم تیسرے جمعہ اس سے بھی کم جوش وخروش کے بعد چوتھے جمعہ یہ قصہ ماضی بن گئی جس سے پوری دنیا میں اس حوالے سے ’’ٹھنڈ‘‘پڑ گئی کیونکہ جس پاکستان اورآزادکشمیر کے لوگوں کا اصل مسئلہ تھا میدن کے نزدیک ہی اس احتجاج کی یہ اہمیت رہی کہ سات دن ساڑھے تین گھنٹے معطل رکھ کر خود بے اثر وبے ثمر بنادیا جائے تو دنیا اسے کیوں اہمیت دے گی اس طرح پاکستان، کشمیریوں کے اور عالمی دباؤ سے بے نیازہوکر مودی کو آرام سے کشمیر ہڑپ کرنے کا موقعہ مل گیا سکینہ سومرو بے اختیار بول اٹھی۔ ’’پھر کشمیری تو ایسے شخص کی شکل سے بیزار ہوگئے ہوں‘‘۔ جواب دیا، ’’بیٹا ، بہت بڑی تعداد میں آزاد کشمیر اور پاکستان میں کشمیری اس کی شکل سے بیزار نہیں بلکہ اس کی شکل سے پیار کرتے ہیں ‘‘۔سکینہ سومرو نے بڑے تعجب سے سوال کیا ’’انکل کیوں‘‘ جواب دیا۔ ’’ وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا، کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا‘‘ کیونکہ متاع کارواں(کشمیر) تو گیا اس کے جانے کا جو شدید صدمہ ہونا چاہئے تھا قلوب واذہان اس سے بھی خالی ہیں سکینہ سومرو سے پھر سوال داغ دیا یہ عمران نے جو احتجاجی تحریک کیلئے پانچ اگست کا اعلان کیا ہے کیا اس سے پاکستانیوں کے بالعموم اور کشمیریوں کے بالخصوص زخم تازہ نہیں،ہوں گے ‘‘ جواب دیا’’تم نے بات کو سمجھا نہیں، زخم تب تازہ ہوتے ہیں۔ جب احساس زندہ ہو، اگر پانچ اگست کو پاکستان اور آزاد کشمیر میں بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کرنے کی بجائے کشمیری پاکستان کی حکومت اور بالخصوص فوج کے خلاف احتجاج کرتے نظر آئیں تو تم کیا سمجھو گی ‘‘۔ اس نے برجستہ جواب دیا ، ’’انکل میں سمجھوں گی یہ بھارتی اقدام سے توجہ ہٹانے کی ایک اور کوشش ہے ‘‘۔ سکینہ سومرو کے اس جواب نے میرے ذہن میں اس سوال نے کلبلاہٹ کی کہ جو سکینہ سمجھی ہے پاکستان اور آزاد کشمیر میں کتنے لوگ ایسا سمجھ پائیں گے اس کا صحیح جواب پانچ اگست کو ہی مل سکے گا۔
امریکہ کے دورے سے واپسی پر عمران خان نے بڑے فخر سے اعلان کیا تھا ’’ میں ایک بار پھر ورلڈ کپ جیت کرآیا ہوں‘‘ جائزہ لیا جائے اس ورلڈ کپ کی جیت نے پاکستان کو کن کامیابیوں سے ہمکنار کیا تھا تو حاصل جمع صفر ہی نکلتا ہے، البتہ ’’جیت‘‘ بھارت کی جھولی میں گئی تھی اور کسی عالمی دباؤ اور پاکستان وآزاد کشمیر کے عوام کی جانب سے کسی مزاحمت کے بغیر اسے کشمیر ہڑپ کرنے کا موقع مل گیاتھا۔
گورنر جنرل ملک غلام محمد، پہلے صدر میجر جنرل سکندر مرزا دوسرے صدر جنرل ایوب خان سے لے کر وزیراعظم عمران خان تک کو امریکہ نے اپنے مقاصدکیلئے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیااور بے اعتنا ئی کے ڈسٹ بن میں پھینک دیا یہ تاریخی سچائی ہے یہ بھی افسوس ناک حقیقت ہے کہ ہمارے ہرحکمران کی حالت گاؤں کے اس کمی کی طرح رہی جسے استعمال کرنے کیلئے چودھری بھری پنچایت میں اپنے برابر بٹھائے اور وہ چودھری کی جانب سے اہمیت کو خود اپنی نظروں میں معتبر بن کر اکڑ دکھائے لیکن یہ خیال کرنے کے بعد چودھری اس کی جانب دیکھنا بھی گوارہ نہ کرے۔ اسی طرح امریکی صدر ٹرمپ نے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں عمران کو استعمال کیا اور اسے کوڑے دان میں پھینک دیا مگر پوری پی ٹی آئی اور عمران کے حامی غلط فہمی کا شکار ہوگئے کہ ٹرمپ دوبارہ صدر منتخب ہوکر سب سے پہلا کام عمران کو رہا کروا کر امریکہ لے جائے گا حتی کہ مشاہد حسین جیسے نے بھی بیان داغ دیا ’’اس سے پہلے کہ واشنگٹن سے فون آئے عمران کو رہا کردیا جائے ۔‘‘
خدا خیر کرے ٹرمپ اب پاکستان کے سیاسی وعسکری مقتدروں پر ریشہ خطمی ہورہا ہے ۔شنید ہے چین نے امریکہ کو جس انڈر ارتھ منرل کی فراہمی بند کی ہے وہ پاکستان میں کافی مقدار میں موجود ہے۔
5اگست ہی کیوں؟
09:18 AM, 4 Aug, 2025