آذربائیجان : چند مشاہدات !!۱

09:17 AM, 4 Aug, 2025

باکو میں تھی تو اطلاع ملی کہ کویت نے 19 سال کے بعد پاکستانیوں کیلئے ویزہ کی پابندی ختم کر دی ہے۔ چند مستثنات سے قطع نظر، ان برسوں میں پاکستانیوں کے لئے کام، کاروبار، فیملی وزٹ ، سیاحت یعنی تمام کیٹگریز کے ویزے بند تھے۔ یہ یقینا ایک مثبت خبر اور بڑی کامیابی ہے۔ حالت ہماری یہ ہے کہ پاکستانیوں کیلئے گزشتہ مہینوں میں دبئی تک کا ویزہ لینا مشکل ہو گیا تھا۔ سری لنکا اور تھائی لینڈ جیسے ملکوں سے پاکستانیوں کو ویزہ ہونے کے باوجود ائیرپورٹ سے ڈی ۔ پورٹ کر دیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں یہ یقینا ایک سفارتی کامیابی ہے۔ قابل افسوس امر ہے کہ جس بھی ملک میں جائیں پاکستانیوں کے متعلق کچھ منفی اطلاعات ملتی ہیں۔ اگرچہ پاکستانیوں کی اکثریت نہایت محنتی اور ایماندار ہے۔ تاہم پاکستانیوں کا ایک طبقہ وہ ہے جو ہر ملک میں منفی سرگرمیوں میں ملوث ہوتا ہے۔ ان پاکستانیوں کی تعداد یقینا کم ہے لیکن ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے ہمارے ملک کا منفی تاثر قائم ہو جاتاہے۔ کچھ عرصہ پہلے ترکی گئی تو وہاںپاکستانیوں کے قصے زیر گردش تھے ۔ پتہ یہ چلا کہ کچھ پاکستانی استنبول کی گلیوں ، بازاروں میں ترک خواتین کو ہراساں کرتے ہیں۔ ان کی اجازت کے بغیر ان کی ویڈیوز بناتے، ان پر نا زیبا تبصرے کرتے ، اور پھر سوشل میڈیا پر ڈال دیتے ہیں۔ ترک شہریوں نے جب یہ نازیبا ویڈیوز  دیکھیں تو غم و غصے کا اظہار کیا ۔سنتے ہیں کہ نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ سوشل میڈیا پر’’پاکستانی گیٹ آوٹ‘‘ جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگے۔ یہ سب اس ترکی میں ہوا،  جہاںہم کسی جامعہ میں جائیں، کسی ریستوران میں، شاپنگ مال میں یا کسی بھی جگہ، بطور پاکستانی ترک شہری ہمیں نہایت خوش دلی سے ملتے اور ہمیں  خوش آمدید کہتے ہیں۔ چند ماہ پہلے جاپان گئی تو مجھے بتایا گیا کہ یہ ملک اور سماج خواتین کیلئے نہایت محفوظ ہیں۔ تاہم وہاں پہنچی تو پتہ چلا کہ ایک 32 سالہ پاکستانی نے ٹرین اسٹیشن میں ایک نوعمر جاپانی لڑکی کیساتھ دست درازی کی کوشش کی ہے۔ جاپانی حکام نے اسے گرفتار کر کے تحقیق شروع کر رکھی تھی۔ چوری چکاری اور فراڈ کی داستانیں بھی عام ہیں۔ اس طرح کے قصے پاکستان کی بدنامی اور ویزہ پابندی کا باعث بنتے ہیں۔
آذربائیجان میں بھی مجھے کچھ ایسے قصے سننے کو ملے۔ ان قصوں کو سن کر خیال آیا کہ لگتا ہے کہ یہاں بھی یہ لوگ پاکستانیوں کا ویزہ بند کر وا کر دم لیں گے۔
 پتہ چلا کہ آذربائیجان میں موجود کچھ پاکستانی اپنے سادہ و معصوم ہم وطنوں کو پکا ویزہ اور جاب وغیرہ کا جھانسہ دے کر ان سے بھاری بھرکم رقم بٹورتے ہیں۔ آذر بائیجان کا ویزہ چونکہ نہایت آسانی سے مل جاتا ہے۔ یہ نام نہاد ایجنٹ پہلے لوگوں کو یہاں بلاکر ان کا اعتماد حاصل کرتے ہیں ۔ جاب، کاروبار یا پکے ویزے کے نام پر ان سے بھاری بھرکم رقم وصول کر کر غائب ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی سفارت خانہ ان لوگوں کی مدد کرنے یا لوٹی ہوئی رقم واپس دلوانے کی مقدور بھر کوشش کرتا ہے۔ تاہم غبن کرنے والے کہاں ہاتھ آتے ہیں۔ اس تناظر میں لاہور ائیر پورٹ پر بھی میں نے دیکھا کہ آذربائیجان جانے والے پاکستانیوں کی کڑی جانچ پڑتال ہو رہی تھی۔ان کی دستاویزات تین مختلف افسران دیکھ رہے تھے۔ اس منفی صورتحال سے قطع نظر، یہاں نہایت اچھے اور ایماندار پاکستانی بھی موجود ہیں۔ جو باعزت طریقے سے اپنا روزگار کماتے ہیں۔ بہت سے پاکستانی ٹیکسی چلاتے ہیں۔ مجھے بھی دو چار پاکستانی ڈرائیوروں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا تاثر تھا کہ آذر بائیجان نوکری کیلئے مثالی ملک نہیں ہے۔ تاہم محنت مزدوری یا کاروبار کیلئے ٹھیک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ڈیڑھ سال محنت کی جائے تو آدمی یہاں اچھی طرح سیٹ ہو سکتا ہے۔ پتہ یہ چلا کہ یہاں جاپان ، دبئی اوریورپی ممالک جیسے ملازمت کے مواقع موجود نہیں ہیں۔
 یہاں ان ممالک کی طرح بڑے بڑے کاروبار کرتی پاکستانی کاروباری کمیونٹی بھی نہیں ہے۔
 آذربائیجان میں پاکستانیوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے۔ کم و بیش دو ہزار پاکستانی یہاں بستے ہیں۔ یعنی ایک چھوٹی سی کمیونٹی ہے۔ یہاں بھی پاکستانی ویزہ حاصل کرنے کیلئے تعلیمی اداروں میں داخلہ لیتے ہیں۔ خاص طور پر لینگویج کے کورس میں۔آذربائیجانی خواتین سے کاغذی شادیاں کرتے ہیں۔ کچھ پاکستانیوں نے حقیقی شادیاں بھی کر رکھی ہیں۔ پتہ یہ چلا کہ پاکستانی طالب علموں کیلئے یہاں تعلیمی اداروں میں داخلہ لینا نسبتاً آسان ہے۔محدود سی اسکالر شپس بھی دستیاب ہیں۔زیادہ تر پاکستانی طالب علم یہاں میڈیکل کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ آذربائیجانی جامعات کے بارے میں نے مشاہدہ کیا کہ یہاں کی جامعات سادہ ہیں۔ سادہ کمرے۔ سادہ فرنیچر۔ سادہ درودیوار۔ میں گزشتہ کئی ماہ سے اپنے شعبہ فلم اینڈ براڈکاسٹنگ کی نئی عمارت کے نقشے بنوانے کے مرحلے سے گزر رہی ہوں۔ میں ان جامعات اور مختلف شعبوں کے تعمیراتی ڈھانچے اور ڈیزائن پر غور کرتی رہی۔میں نے یہ بات محسوس کی کہ کم رقبے میں عمارات کچھ اس انداز میں بنائی گئی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کلاس روم اور دفاتر قائم ہو سکیں۔ کلاس روم سادہ لیکن جدید ٹیکنالوجی سے لیس تھے۔ جدید پروجیکٹر اور کمپیوٹر وغیرہ موجود تھے۔ ہر کلاس روم میں موجود کرسیوں کی تعداد پچیس سے تیس کے لگ بھگ تھی۔ یعنی وہاں ہماری طرح پچاس ساٹھ طالبعلموں پر مشتمل کلاس پڑھانے کا رواج نہیں ہے۔ پروفیسروں کے کمرے بھی سادہ تھے۔ آذربائیجان یونیورسٹی کی خاتون ریکٹر ایک سجی سنوری ماڈرن خاتون تھیں۔ تاہم ان کا دفتر نہایت سادہ تھا۔مناسب سائز کا کمرہ جس میں سادہ فرنیچررکھا ہوا تھا۔ہمارے ہاں ریکٹروں اور وائس چانسلروں کے دفاتر اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ میں نے یہ بات چند آذربائیجانی اساتذہ سے کی تو انہوں نے کہا کہ ہمارے کلاس روم اور دفاتر یقینا سادہ ہیں لیکن جدید ٹیکنالوجی کے حامل ہیں۔ میں نے کچھ اساتذہ سے ان کی تنخواہوں کے متعلق بھی دریافت کیا۔ میرا اندازہ ہے کہ اساتذہ کی تنخواہیں کم و بیش اتنی ہی ہیں جتنی پاکستان کے اساتذہ کی ہیں۔ یا پھر ان سے تھوڑی بہت زیادہ۔یہاں سرکاری کی نسبت نجی جامعات میں پروفیسروں کی تنخواہیں نسبتا ًزیادہ ہیں۔ 
آذر بائیجان کی سرکاری زبان آذربائیجانی یا آذری کہلاتی ہے۔ تحقیق کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ترک زبان سے تعلق اور مشابہت رکھتی ہے۔ یقینا ایسا ہی ہو گا۔ تاہم میرے لئے خوشگوار حیرت کا پہلو یہ تھا کہ آذربائیجانی زبان میں بہت سے لفظ اردو زبان جیسے ہی ہیں۔ مثال کے طور پر اسکول کو یہ مکتب کہتے ہیں۔ کتاب کو کتاب کہتے ہیں ۔ مثال کو مثلا یا مثال بولتے سنا۔ بالکل اسی طرح طالب علم، دعا، طبیب، قلم، پلاو، کباب، نان، علم، عدالت، مدرسہ، ملت، قانون، بازار، قیمت ، مدرسہ کے علاوہ الفاظ کی ایک لمبی فہرست ہے جو آذربائیجانی اور اردو میں مشترکہ ہے۔
یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ آذربائیجان میں پاکستانیوں کو نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ حکومتی سطح پر اور عوامی سطح پر بھی۔ دونوں ملکوں کے مابین سفارتی سطح پر نہایت برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ آذربائیجانی قوم اس بات پر پاکستان کی احسان مند ہے کہ جب 1991ء میں آذربائیجان آزاد ہوا تو پاکستان نے فورا ًاسے تسلیم کر لیا تھا۔عشروں سے آذربائیجان اور آرمینا کے درمیان نگورنو کاراباخ کے متنازعہ علاقے کا مسئلہ موجود ہے۔ پاکستان دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے آرمینیا کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ پاکستان نے ہمیشہ نگورنو کاراباخ کو آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا۔ عالمی پلیٹ فارموں پر پاکستان نے ہمیشہ اس تنازعہ پر آذربائیجان کی حمایت کی۔ اس کے جواب میں آذربائیجان نے بھی ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے حق میں اور بھارت کے خلاف آواز بلند کی۔  اللہ کرئے کہ پاکستان کیلئے آذربائیجان میں یہ احترام اور دوستی ہمیشہ قائم و دائم رہے۔ آمین۔ 

مزیدخبریں