اسلام آبادی گدھے!

09:16 AM, 4 Aug, 2025

قارئین کرام! اگر آپ میری اس بات کو اپنی پسند و ناپسند کے مطابق زبردستی کوئی سیاسی رنگ نہ دیں تو میں یہ کہوں گا کہ پی ٹی آئی کا دور حکومت سیاسی و معاشی حوالوں سے عام لوگوں کے لیے جیسا تیسا بھی تھا۔ میرے لیے اس حوالے سے خاصا یادگار اور مزیدار رہا کہ مجھے اس دور میں گدھوں اور الوئوں پر کالم لکھنے کے لیے بغیر کسی تگ و دو کے اچھا خاصا مواد مل جاتا تھا۔ اس دور میں ویسے تو اسلام آباد کی فضا بھی گدھوں کی نشو ونما کے لیے خاصی سازگار تھی مگرخاص طور پر صوبہ پنجاب میں جس طرح گدھوں کی بہتات تھی اور ملکی تاریخ میں پہلی بار سرکاری سطح پر جیسے گدھوں کا خیال رکھا گیا اس سے پہلے اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ یہیں تک نہیں بلکہ پنجاب حکومت نے اوکاڑہ کے علاقے میں سرکاری سرپرستی میں باقاعدہ گدھوں کی افزائش اور پرورش کے لیے غالباً ایشیا کا سب سے بڑا فارم ہائوس یا ’’ٹریننگ کیمپ‘‘ بھی بنا دیا جس کا میڈیا میں خاصا چرچا رہا۔ کٹے وچھوں اور مرغیوں جیسے اہم منصوبوں کی طرح یقینا عام ماہرین اور عام آدمیوں کی سوچ سے باہر ’’کھوتا پال‘‘ اس اہم منصوبے کا بھی بزدار حکومت کے افلاطونی ذہنوں میں ملک کو معاشی اور دفاعی طور پر خود مختار بنانے کا کوئی جادوئی یا معجزاتی قسم کا خیال ہو گا۔ مگر کیا ہے کہ ملکی معیشت اور دفاع کی باریکیوں سے ناواقف اوکاڑہ کی مقامی ادبی تنظیموں نے حکومت وقت کے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں حکمت و دانائی پر مبنی اس اہم منصوبے کو سمجھے بغیر یا کسی بہکاوے میں آ کر مشترکہ پلیٹ فارم سے پُرزور احتجاج کے ساتھ حکومت پنجاب سے یہ مطالبہ کر دیا کہ وہ فی الفور اس بات کی وضاحت کرے کہ ’’پنجاب حکومت نے گدھوں کی افزائش کے اس منصوبے کے لیے خاص طور پر اردو زبان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر ظفر اقبال صاحب کے شہر اوکاڑہ کا ہی انتخاب کیوں کیا ہے۔ کیا یہ فیصلہ ماہرین کی طرف سے کسی خاص سروے کے نتیجے میں اوکاڑہ کی سر زمین اور آب و ہوا کو گدھوں کی افزائش کے لیے موزوں قرار دیئے جانے کے بعد کیا ہے یا اس کے پس ِ پردہ ظفر اقبال صاحب کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے کچھ اور محرکات ہیں۔ ان ادبی تنظیموں کے مشترکہ ہنگامی اجلاس میں متفقہ طور پر یہ قرارداد بھی منظور کی گئی کہ ادب اور ادیبوںکی ترقی و ترویج اور فلاح و بہبود کی بجائے اگر حکومت کے لیے گدھوں کی افزائش زیادہ اہمیت رکھتی ہے تو بھی اس کیلئے اوکاڑہ میں قائم کردہ ’’کھوتا فارم‘‘ کو فوری طور پر کسی دوسرے شہر منتقل کیا جائے بصورت دیگر یہ خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں لوگ اوکاڑہ شہر کو اردو کے مقبول شاعر ظفر اقبال کی بجائے گدھوں کی افزائش کے حوالے سے جاننا شروع کر دیں گے۔ اردو ادب کے ایک طالب علم اور ظفر اقبال صاحب کے مداح کے طور پر میں نے بھی اس کارِخیر میں حصہ ڈالنے کے لیے اوکاڑہ کی ادبی تنظیموں کے اس مطالبے کے حق میں اس وقت ایک کالم لکھا۔ اس کے بعد مجھے نہیں پتا اس وقت کی پنجاب حکومت نے میرے کالم یا اوکاڑہ کی مقامی ادبی تنظیموں کے اس پُرزور مطالبے کا کیا کیا۔ حکومت نے ظفر اقبال صاحب کوگدھوں پر ترجیح دی یاگدھوں کو ظفر اقبال صاحب پر مگر اس کے بعد خیر یہ ہوئی کہ دوبارہ میری نظر سے اس حوالے سے کوئی اور خبر نہیں گزری۔ اس لیے پھر اس کے بعد میرا دھیان نہ تو کبھی گدھوں کی طرف گیا اور نہ ہی ظفر اقبال صاحب کی طرف۔ سوائے اس ایک بار کے جب ظفر اقبال صاحب نے بھارتی فلمسٹار کترینہ کے لیے محبت بھری نظم ’’اوہ کترینہ‘‘ کہی تھی جس پران کے حاسدوں نے ایک طوفان کھڑا کر دیا جس پر مجھے ظفر اقبال صاحب کے دفاع میں کالم لکھنا پڑا۔ مجھے لگا کہ حکومت پنجاب اور اوکاڑہ کی ادبی تنظیموں کے مابین یہ معاملہ ضرور خوش اسلوبی سے طے پا گیا ہو گا۔ اس لیے اس کے بعد نہ تو ظفر اقبال اور نہ ہی پھر گدھوں کے حوالے سے مجھے دوبارہ کبھی لکھنے کا خیال آیا۔ یوں بھی جب سے مجھے میرے دوست زبیر بشیر نے جانوروں کے بارے میں لکھنے سے منع 
کیا ہے۔ تب سے میں جانوروں بالخصوص الو، گدھوں، سؤروں اور کتوں کے بارے میں کچھ بھی لکھنے سے پرہیز کر رہا ہوں تاکہ میرے قلم سے کسی ’’جانور‘‘ کی دل آزاری نہ ہو۔ مگر اس حد درجہ احتیاط پسندی کے باوجود پتا نہیں کیسے غیر ارادی طور پر کسی نہ کسی جانورکی دُم پر میرا پیر آ جاتاہے۔ جس کے بعد وہ جانور اسے ’’پرسنل‘‘ لے کر خواہ مخواہ میرے لیے اپنے دل میں کینہ پال لیتے ہیں۔ اس موقع پر مجھے استاد محترم عطاء الحق قاسمی صاحب کی قسمت اور اس کے ساتھ ان کے ہنر پر بھی بے شمار رشک آتا ہے اللہ جانے ان کے پاس کیا گیدڑ سنگھی ہے کہ انہیں ساٹھ برس سے زائد عرصہ ہو گیا ہے مختلف جانوروں کے بارے میں لکھتے ہوئے مگر مجال ہے جو ان جانوروں نے کبھی اس کا بُرا منایا ہو الٹا یہ جانور مزے لے لے کر قاسمی صاحب کے ان کالموں کو پڑھتے اور پھر دوستوں کی محفلوں ان کا تذکرہ بھی کرتے ہیں۔ نامعلوم میرے ساتھ ایسا کیا عجیب و غریب معاملہ ہے کہ بھولے بھٹکے سے بھی کبھی اپنے کالم میں کسی جانور کا ذکر کر دوں تو ہفتہ دس دن کالم پڑھ کر ناراض ہونے والے ان جانوروں کو صفائیاں دیتے گزر جاتا ہے۔ آج بھی میں نے اپنے کالم میں گدھوں کا ذکر نہیں کرنا تھا مگر جب سے اسلام آباد کے ریسٹورنٹس میں گدھوں کے گوشت کی فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔ مجھے رہ رہ کر یہ خیال ستا رہا ہے کہ وہ بڑے بڑے لوگ جو پچھلے کچھ عرصے سے شہر اقتدار اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں اور اپنے گھر سے باہر مہنگے مہنگے ریستورانوں میں چٹ پٹی بریانی، پلاؤ یا بیف کباب کھانے کے شوقین ہیں لاہوریوں کی طرح وہ بھی اب تک زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ڈیڑھ کھوتا تو ہضم کر ہی چکے ہوں گے۔ کیا پتا کسی روز ان ’’گدھا خوروں‘‘ کے بڑے بڑے کان اور چھوٹی چھوٹی دُمیں نکل آئیں اور وہ ڈھینچوں ڈھینچوں کی آوازیں نکال کر ہمارے جیسے غریب غربا کو دولتیاں جھاڑنے لگیں۔ بس اسی قسم کی اوٹ پٹانگ باتیں سوچ کر میرا ان اسلام آبادی گدھوں کے حوالے سے کچھ لکھنے کو جی چاہ رہا تھا۔ مگر اس دوران جب مجھے یہ خیال آیا کہ یہ عام نہیں بلکہ اسلام آباد کے گدھے ہیں تو میں نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر قلم ایک طرف رکھ دیا ہے کیونکہ مجھے اندازہ ہے کچھ گدھوں کے بارے میں لکھنا کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

مزیدخبریں