حبسِ حیات میں رمقِ شفا

09:16 AM, 4 Aug, 2025

زندگی کی سب سے قیمتی متاع صحت ہے اور یہ صداقت محض آزاد فضائوں کے باسیوں تک ہی محدود نہیں ہے قید و بند کے حصار میں محصور افراد بھی اسی انسانی وقار کے امین ہیں جسکا تقاضا ایک با وقار معاشرہ اپنے ہر شہری کے لیے کرتا ہے۔ قید محض دیواروں، سلاخوں اور زنجیروں کا نام نہیں یہ انسان کی آزردہ روح، شکستہ ارادے اور مضمحل جسم کا ایک ایسا مکروہ گہوارا ہے جہاں سانسیں بھی بوجھ بن جاتی ہیں اور خاموشی چیخوں سے زیادہ گونجدار ہو جاتی ہے۔ جیل کسی فرد کی تنہائی کا نہیں بلکہ ایک پورے سماج کی تہذیبی کمزوری کا مظہر ہوتی ہے یہ وہ زندانِ حیات ہے جس میں وقت، شعور اور وجود تینوں یکساں طور پر سسکتے ہیں۔ ایسی فضائے حبس میں اگر شفا کی رمق چمکے، دوا کی نسیم چلے اور صفائی کا شعور جاگے تو یہ محض انتظامی اصلاح نہیں بلکہ تمدنی بعثِ ثانیہ کی نوید ہے۔ صحت انسانی وجود کی غیر مشروط ملکیت ہے جس سے محرومی ظلم ہے۔ قیدی قانون شکنی کا مرتکب ہو سکتا ہے مگر قانون سے خارج نہیں، وہ سزاوار ضرور ہوتا ہے مگر بے حق نہیں۔ اس کی سانس، اس کا خون، اس کی اذیت سبھی ریاست کی ذمہ داری کے دائرے میں آتے ہیں۔ عاصم رضا کا یہ شعر اس تناظر میں گویا جز تعبیر ہو جاتا ہے۔
وہ اپنی خوبیٔ قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے
قفس میں بھی جسے دستِ شفا میسر ہے
یہ محض ایک تمثیل نہیں بلکہ ایک تہذیبی تبدیلی کی فکری گواہی ہے۔ جب زنجیروں کے اسیروں کو دوا دی جاتی ہے تو وہ دوا جسمانی اذیت کو رفع کرنے سے پہلے ایک پیغام دیتی ہے کہ تم محض قیدی نہیں بلکہ انسان ہو۔ پنجاب کی جیلوں میں اب  ای سی جی، الٹراسائونڈ، لیب ٹیسٹس اور مستقل طبی معائنے محض سہولتیں نہیں بلکہ وہ اقدار ہیں جن کی بنیاد انسان کے غیر مشروط احترام پر ہے۔ یہ طبی سسٹم دراصل ایک فلسفہ جبر و اختیار کا عملی مظہر ہے جو کہتا ہے کہ خطاوار کو سزا تو ملے مگر صحت اس کا استحقاق ہی نہیں اس کی انسانی شناخت کا اظہاریہ بھی ہو۔ ہر قیدی کی انفرادی طبی فائل صرف اس کے مرض کی تفصیل نہیں رکھتی بلکہ وہ اس کے جسم کی شکست و ریخت، روح کی پُژمردگی، ذہن کی الجھن اور ماضی کی ترجمان ہے۔ پنجاب کی جیلوں میں یہ فائلیں آئندہ زمانے کی سند بھی ہیں کہ کوئی انسان خواہ کتنی ہی گمراہی کا مسافر ہو اس کا درد محفوظ رکھنے کے لائق ہے۔ جیل کے اندھیرے میں جب آگہی کی مشعل جلائی جائے تو وہ روشنی نہیں رہتی بلکہ بصیرت بن جاتی ہے۔ نشہ، ذہنی امراض، جنسی بیماریوں اور ماحولیاتی صحت پر چلنے والی مہمات قیدی کے شعور پر وہ دستک ہیں جو شاید آزاد فضا میں بھی اسے نہ ملی ہو۔ یہ وہ لمحے ہیں جب علم، علاج اور اختیار ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتے ہیں۔ پہلے جیل کا قیدی کپڑوں سے پہچانا جاتا تھا جس کا بدن تعفن اور مٹی کی تہوں تلے چھپا ہوتا تھا اب اس کے ہاتھ میں صابن، نیپکن، ٹوتھ برش اور تیل سے مزین ایک ہائجین کٹ ہوتی ہے۔ کسی صاحبِ بصیرت کا قول ہے کہ صفائی صرف جسم کی نہیں خودی کی تطہیر بھی کرتی ہے۔ اب پنجاب کی جیلوں میں یہ معمولی سی دکھائی دینے والی کٹ ایک آئینہ ہے جس میں قیدی خود کو مجرم کے بجائے انسان کے روپ میں دیکھتا ہے۔ یہ صرف اشیا کا مجموعہ نہیں بلکہ اس پیغام کی مجسم تصویر ہے کہ عزت، صفائی اور انسانی وقار کسی خاص طبقے یا آزادی کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے۔ طبابت ایک سادہ عمل ہو سکتا ہے مگر جب یہ جرم زدہ، شرمندہ اور گوشہ گیر فرد کو عطا ہو تو یہ علاج نہیں ازسرنو پیدائش ہوتی ہے۔ جسمانی صحت صرف دوا سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے جسم کو حرکت، ذہن کو فرحت اور دل کو مسرت بھی چاہیے۔ جیل میں کھیلوں کا انعقاد کسی تفریحی مشق سے بڑھ کر ذہنی تزکیے کا منصوص عمل ہے۔ جسم کی حرکات میں جب نظم پیدا ہو تو ذہن کی بے ترتیبی بھی سمٹنے لگتی ہے اور یہ وہی مقام ہے جہاں حرکت معافی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ قید بسا اوقات صرف جسم کی نہیں ہوتی ہے اصل قید تو سوچ، ضمیر اور احساس کی ہوتی ہے۔ پنجاب کی جیلوں میں روحانی تربیت، ماہرِ نفسیات کی رہنمائی ایک ایسی اندرونی آزادی کا در وا کرتی ہے جہاں قیدی خود کو پہچاننے لگتا ہے اور یہ پہچان ہی وہ ابتدائی نکتہ ہے جہاں سے اصلاح کا دائرہ جنم لیتا ہے۔ یہاں کی جیلیں اب محض قانون کے نفاذ کا مقام نہیں بلکہ اخلاقی، طبی اور وجودی ارتقا کی تجزیہ گاہیں بن چکی ہیں۔ یہاں قیدی اب جرم کی نہیں بلکہ اصلاح کی علامت ہے اس کی صحت پر سرمایہ کاری، محض بجٹ کی تقسیم نہیں بلکہ ضمیر کی تطہیر ہے۔ قید اگر فطرتِ انسان کو نکھارنے لگے تو یہ سلاخیں نہیں رہتیں آئینہ بن جاتی ہیں۔ قید و بند کا یہ نظام محض انسانی قانون کی ایجاد نہیں بلکہ عہدِ رسالتﷺ اور خلافتِ راشدہ کے دور میں بھی حدود و تعزیرات کی صورت میں اس کا عملی وجود موجود رہا ہے۔ اسلامی شریعت میں قیدی کو ایک کمتر مخلوق نہیں بلکہ ایک مکلف انسان سمجھا گیا اور تہذیبوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ کسی معاشرے کا عروج و زوال اس کا اپنے بیماروں سے کیے جانے والے سلوک پر منحصر ہوتا ہے۔ رومن ایمپائر کی جیلوں میں جو وحشت تھی اس نے آخرکار روم کے اخلاقی زوال کو جنم دیا، اور اندلس جہاں قیدیوں کے لیے حمام، مطب اور کتب خانے میسر تھے وہ علم و وقار کی معراج بنا۔ جیل بظاہر وہ مقام جہاں وقت، جذبہ اور اختیار سب رک جاتے ہیں مگر جب انہی ساکت لمحوں میں شِفا کی رمق پھوٹتی ہے، جب قیدکے خاموش دریچوں میں انسانی وقار کی ہلکی سی کرن داخل ہوتی ہے تو پھر وہ قفس محض زنجیروں کا نام نہیںرہتا بلکہ باطن کی از سرِ نو تشکیل کا ایک روحانی معبد بن جاتا ہے۔ پنجاب کی جیلوں میں صحت کی فراہمی کا یہ سفر کسی رعایتی سکیم کا ثمر نہیں بلکہ ضمیر کی بالیدگی، فقہی ذمہ داری اور روحانی صداقت کا حاصل ہے۔ جیلیں بظاہر حبسِ حیات کا استعارہ ہیں مگر جب ان قید خانوں میں شِفا کی رمق داخل ہو جائے تو وہ انسانی عزت نفس کے قلعے بن جاتی ہے۔ پنجاب کی جیلوں میں جو بیداری جنم لے رہی ہے وہ طبی آلات، دوا خانوں اور صفائی کے سامان سے کہیں زیادہ گہرائی رکھتی ہے۔ یہ فقط طبی سہولیات کا اضافہ نہیں بلکہ اس عہدِ درماندہ میں انسان کی ذاتی حرمت کا ازسرِ نو اعلان ہے۔ یہ ایک نیا آغاز ہے جہاں زخموں پر مرہم رکھا جاتا ہے اور جہاں رمقِ شِفا حبسِ حیات میں چراغ بن کر جلنے لگی ہے۔ ویسے تو حبسِ حیات میں رمقِ شِفا کی تلاش کرنا یہاں بظاہر ایک خواب لگتا ہے، مگر پنجاب کی جیلیں اس خواب کو تعبیر کی سمت لے جا رہی ہیں۔

مزیدخبریں